حد نگاہ - افشاں نوید

موسم سرما میں اس وقت ملک بھر میں دھند چھائی ہوئی ہے۔ صبح خبرنامے میں ایک لفظ بار بار سنا کہیں"حدنگاہ"دس گز رہ گئی ہے ، کہیں بیس گز اور کہیں صفر، یعنی خود اپنا آپ بھی اس دھند میں دیکھنا مشکل ہے۔ مجھے خیال آیا کہ دھند کے علاوہ بھی مختلف لوگوں کی حدنگاہ مختلف ہوتی ہے۔

اگر دھند نہ بھی ہو تو ہم میں سے کوئی دس گز سے زیادہ دور نہیں دیکھ پاتا،کوئی بیس سے دور اور کوئی کوئی شائد صفر حد نگاہ کے ساتھ ہی دنیا سے دکھی چلا جاتا ہے۔اپنی بےبسی کی کتھا کہتے کہتے ہی ہم دار فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ اب یہ حد نگاہ ہی تو تھی کہ قائداعظم نے دیکھا انگریزوں کے بعد مسلمانوں کا کیا مستقبل ہوگا ہندوستان میں؟ انہوں نے تاریخی جدوجہد کی۔سختیاں جھیل کرانجام تک پہنچایا آزادی کے خواب کو۔یہ حد نگاہ تو تھی کہ اقبال مسلمانوں کے ماضی میں سو برس پیچھے جھانکتے تھے اور سو برس آگے کی پیشگوئیاں کرتے تھے۔

مسلمانوں کے ماضی کی روشنی میں ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے مستقبل کی کامیابی کے عناصر بتاتے تھے۔ یہ حد نگاہ تو تھی کہ مولانا مودودی رحمت اللہ علیہ نے ہندو مسلم بھائی بھائی کے جواب میں مسئلہ قومیت لکھی۔ مسلمانوں کو آنے والے خطروں سے بیدار کیا۔ دو برابر بیٹھے ہوئے یے لوگوں کی حد نگاہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہو سکتی ہے ۔ کس کی نگاہ کہاں تک جاتی ہے اسی لیےاقبال بال بار خدا سے چشم بینا طلب کرتے تھے اور شاید یہی حدنگاہ ہے جس کو "مومنانہ بصارت" کہا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ کہ مومن کی بصیرت سے ڈرو وہ خدا کے نور کی روشنی میں دیکھتا ہے۔اسی کو third eye کہتے ہیں کہنے والے۔

یہ حد نگاہ ہی شاید فرد کو فرد سے جدا کرتی ہے کس کی نگاہ کہاں تک جاتی ہے ہے زندگی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے۔ہم آٹے، پٹرول کے نرخوں میں گم چنار کے اس پار دیکھ ہی نہیں پارہے جہاں مہینوں سے کرفیو نے وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنایا ہواہے۔ کچھ ایسے بھی لوگ زندگی میں آپ کو ملتے ہوں گے جن کی نگاہ خود اپنےآپ تک جاتی ہی نہیں انہوں نے غم دنیا کو غم جاناں بنایا ہوا ہے ۔ وہ لوگوں کے لئے وقف ہیں۔دوسروں کے دکھ ان کے ہر ذاتی دکھ پر غالب آجاتے ہیں ۔

خلق خدا کے لئے جیتے اور مرتے ہیں۔وہ اس دنیا سے آگے جہنم کی آگ دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔اس سے بچنے کے لیے خلق کی خدمت کو زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں۔ اللہ ہمیں بھی دیدے بینا عطا فرمائے اور ہماری حد نگاہ اس دنیا سے سے آگے کی دنیا کو دیکھ اور سوچ سکے ۔