صدر ٹرمپ کا مواخذہ آخری مراحل میں - مسعود ابدالی

امریکی سینیٹ میں جاری صدر ٹرمپ کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور کانگریس (امریکی پارلیمان) کے آگے رکاوٹ ڈالنے کے الزامات پر مواخذے کا مقدمہ آخری مرحلے میں داخل ہوگیا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی زیرصدارت اس مقدمے کی سماعت امریکی سینیٹ میں ہورہی ہے۔ 21 جنوری سے شروع ہونے والی کاروائی کے دوران دونوں فریق نے اپنے دلائل اور جرح مکمل کرلی۔

ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کو گواہوں کے کٹہرے میں لایا جائے۔ جناب بولٹن ایک کتاب لکھ رہے ہیں جس میں انھوں نے مبینہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان سے کہا تھا کہ یوکرین کی فوجی امداد اسوقت تک روک دی جائے جب تک یوکرینی حکومت جو بائیڈن کے بیتے ہنٹر بائیڈن کی بدعنوانیوں کا ثبوت نہیں فراہم کردیتی۔ سابق امریکی نائب صد جو بائیڈن 2020 کے صدارتی انتخابات کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹکٹ کے خواہشمند ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جناب بائیڈن ایک مضبوط امیدوار ہونگے۔

ریپبلکن کا موقف ہے کہ گواہوں اور مزید کاروائی کی ضرورت نہیں اور ضابطے کے مطابق اب سینیٹ میں ان الزامات کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہوجانا چاہئے۔کل کاروائی کے آغاز پر استغاثہ گواہ طلب کرنے کا معاملہ پیش کریگا جس پر رائے شماری ہوگی۔ 100 کے ایوان میں اس تجویزکی منظوری کیلئے 51 ووٹوں کی ضرورت ہے جبکہ ڈیموکریٹس سینیٹرز کی تعداد صرف 47 ہے۔ ڈیموکریٹس کو توقع ہے کہ 3 یا 4ریپبلکن سینیٹرز اپنی پارٹی کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے گواہ طلب کرنے کے حق میں ووٹ ڈینگے۔

اگرگواہوں سے متعلق ڈیموکریٹس کی تجویز مسترد ہوگئی تو مقدمے کی کاروائی مکمل ہوجائیگی اور الزامات پرسینیٹ میں رائے شماری ہوگی۔ الزامات ثابت کرنے کیلئے دو تہائی یا 67 ووٹ درکار ہیں۔ یعنی زمینی حقائق صدر ٹرمپ کے حق میں ہیں اور امریکی صدر کی بریت یقینی نظر آرہی ہے۔