پی ٹی ایم کی اَصل حقیقت - شہزاد حسین بھٹی

کیا پی ٹی ایم قومی اسمبلی کے اِیوان میں دو نشستوں کے ساتھ پختونون کی کُل آبادی کی نمائیندگی کرتی ہے اور کیا پی ٹی ایم کا بیانیہ کے پی کے اور قبائلی علاقوں کے رہنے والے پختونوں کی اکثریت کی آواز ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنا موجودہ وقت کے حوالے سے بہت ضروری ہے۔

پاکستان کی ایک جغرافیائی اہمیت ہے جو ہمیشہ ہمارے دُشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی ہے۔قیام پاکستان کی تحریک میں بھی پختونوں کا ایک مخصوص مگر قلیل طبقہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مخالف صفوں میں کھڑا ہو کرگاندھی کے ہاتھ مضبوط کر رہاتھا لیکن پختونوں کی واضح اکثریت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے کر کانگرس کے پٹھوئوں کے منصوبے کوخاک میں ملا دِیا۔آج ایک طویل عرصے کے بعد کانگرس کی باقیات پی ٹی ایم کی شکل میں سانس لے رہی ہیں۔

ہم ابھی دہشت گردی کی ایک طویل جنگ سے فارغ ہوئے ہیں۔اس جنگ میں 80 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا خراج وصول کیا ہے۔ ہمارا پڑوسی ملک افغانستان طویل عرصے سے جنگ در جنگ کے عمل سے گزر رہا ہے اور افغانستان کی یہ اندرونی خلفشار ہمیشہ سے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیتی رہی ہے۔ پاکستان نہ چاہتے ہوئے بھی ان بداثرات سے کسی صورت بچ نہیں پاتا۔ افغانستان کے ہر مشکل وقت میںپاکستان نے کھلے دل سے مدد کی ہے۔ روس کے افغانستان میں داخلے کے وقت لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ بڑی تعداد کیمپوں کے بجائے شہروں میں آبسی۔

انہون نے کاروبار کیے حالانکہ دنیا میں کہیں بھی مہاجروں کے ساتھ ایسا رَویہ نہیں اپنایا جاتا۔ آج بھی پاکستان میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے لیکن افغان حکومت نے ہمیشہ محسن کُشی کی نئی تاریخ رقم کی ہے اور ہمارے دُشمن ملک بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ حالیہ بحران کے دوران جب منظور پُشتین کو ملکی قوائد کی خلاف ورزی کے جرم میں نظر بند کیا گیا تو پاکستان سے زیادہ افغانستان میں غم و غصے کا اظہار دیکھائی دیا۔ منظور پُشتین کے حق میں کابل کے اندر نکلنے والے جلوس جہاں یہ عیاں کر رہے تھے کہ منظور پُشتین کی ڈوریاں کہاں سے ہلائی جا تی ہیں، وہیںیہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پی ٹی ایم کے حوالے سے خدشات پر مہر تصدیق ثبت کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں کرونا وائرس، ذمہ دار کون - شہزاد حسین بھٹی

ایک عام پاکستانی یقینا یہ سوچتا ہو گا کہ راتوں رات جنم لینے والی پی ٹی ایم دُنیا کے لیے اتنی اہم کیو ں ہو گئی ؟ اور منظور پُشتین کو عالمی ذرائع ابلاغ حد سے زیادہ کوریج کیوں دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پرکئی ٹیمیں پی ٹی ایم کے حق میںاور پاکستان کے خلاف زہریلہ پروپیگنڈہ کیوں اگلتی رہتی ہیں۔ اس سارے کھیل کو رچانے کے لیے کثیر سرمایہ کہاں سے آتا ہے۔ایک معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی بخوبی یہ سمجھتا ہے کہ اس ڈرامے کے پیچھے وہ بیرونی ایجنسیاں ملوث ہیں جو پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے دن رات کام کرتی ہیں۔

منظور پُشتین پختونوں کا نہیں بلکہ مُکتی باہنی کی اُن سازشوں کا نمائیندہ ہے جو پہلے ہی شبِ خون مار کے پاکستان کا ایک حصہ ہم سے جُدا کر چکے ہیں۔ پاکستان میں لسانیت اور صوبائیت کے تعصب کو ہوا دے کر پنجاب کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کرنا اُسی فارمولے کا حصہ ہے جس فارمولے کے تحت مشرقی پاکستان اورمغربی پاکستان میں تعصب کی بنیاد رکھ کے دُوریاں پیدا کی گئیںتھیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا۔سقوط ڈھاکہ کے زخم تازہ ہیں اور ان سے اُٹھنے والی ہُوک ہمیں مجبور کرتی ہے کہ میر جعفروں کا بروقت سدباب کیا جائے۔

منظور پُشتین کی گرفتاری کے بعد وفاقی دارلحکومت میں ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے مُٹھی بھر لوگوں کے ساتھ جو ڈرامہ رچایا اس کا مقصد دُنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان میں شرپسند عناصر آج بھی طاقت میں ہیں اور قانون نافذکرنے والے ادارے انکے سامنے بے بس ہو کر ہاتھ باندھ لیتے ہیں لیکن اِن کا یہ مکروہ منصوبہ مقامی پولیس نے ناکام بنا دیا۔ ہندستان جس نے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور پورے ہندستان کے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کر کے پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنا چاہتا ہے، یہ سارا کھیل ایف اے ٹی ایف کے گِرد گھومتا ہے جہاں ہندستان اپنی اِیڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی پاکستان کو گرے لسٹ مین شامل نہیں کروا سکا۔

یہ بھی پڑھیں:   ساری دنیا ایک طرف، پاکستان ایک طرف - شیخ خالد زاہد

اب جب پاکستان واچ لسٹ سے نکلا ہی جاتا ہے،ہندئو بنیا اپنی خفت مٹانے کے لیے اپنے زر خرید غلاموں کو استعمال کر رہا ہے اور لسانیت اور صوبائیت کو ہوا دے کراپنی مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔پاکستان مسلمانوں کے لیے اللہ پاک کا ایک خاص تحفہ ہے اور اس عرض پاک پہ جب تک لاالہ اِلا اللہ کی صدا بلند کرنے والا ایک بھی نفس موجود ہے دُشمنانِ اسلام اپنی مکروہ سازشوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

منظور پُشتین جیسے لوگوں کو تاریخ میر جعفروں کے نام سے یاد رکھتی ہے۔ قانون نافذکرنے والے اداروں کو میر جعفروں کے ان وارثوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہو گا۔ انسانی حقوق انسانوں کے لیے ہوتے ہیں۔ جو لوگ اپنی دھرتی ماں کے خلاف سازش کا حصہ ہوں انہیں انسان تو کیا جانور بھی قرار دینا مشکل ہے۔