افغان صدر کی پاکستان مخالف ہرزہ سرائی آخر کب تک - قادر خان یوسف زئی

پاکستان کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کے ذریعے بے امنی پیدا کرنے کی کوشش کوئی نئی نہیں ہے۔ ملک دشمن عناصر وطن عزیز کے خلاف دشنام طرازی کرتے رہے ہیں، گذشتہ دنوں ایک بار پھر پاکستان کے داخلی معاملات میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے متنازعہ بیانات دیئے گئے۔

دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی ٹوئٹس پاکستان کے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت اور بلاجواز ہیں۔دفتر خارجہ سے جاری ایک مذمتی بیان میں کہا گیا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر افغان صدر اشرف غنی کے حالیہ بیان پر سخت تشویش ہے یہ ٹوئٹس بلا جواز اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات دونوں ممالک کے درمیان اچھی ہمسائیگی کیلیے مددگار نہیں، پاکستان، افغانستان کے ساتھ قریبی خوشگوار تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے تاہم یہ تعلقات عدم مداخلت کے اصول کے تحت ہونے چاہئیں۔واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں نام نہاد قوم پرست تنظیموں و جماعتوں کی جانب سے ریاست کے خلاف الزام تراشیوں و منفی پروپیگنڈوں کا سلسلہ وقتاََ فوقتاََ جاری رہتا ہے۔

نام نہاد قوم پرست تنظیم کا مملکت کی خلاف ملک دشمن عناصر کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے محب الوطن نوجوانوں کو ورغلانے و بدظن کرنے کی سازش کی جاتی رہی ہے۔ ملک دشمن تنظیم کے کئی رہنما اپنے جلسوں میں پاک فوج سے انتقام لینے، جوانوں کے سر کاٹنے اور بغاوت کرنے کے اعلانات کرچکے ہیں، گذشتہ دنوں نام نہاد قوم پرست تنظیم کے رکن قومی اسمبلی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں اس نے پاک فوج کے جوانوں کے سرقلم کرنے کی اشتعال انگیز تقریر کی،پاک۔افغان بارڈرکو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نوجوانوں کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی۔ جب کہ ان کے سربراہ کی جانب سے کئی ایسی تقاریر منظر عام پر آچکی ہیں جس میں ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات اوربغاوت پر اکسانے کی سازش کے ساتھ ساتھ، قوم کے محافظوں کو ”بدلے“ کے نام پر سر قلم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

ریاستی اداروں نے کئی بار کوشش کی کہ اگر قبائلی عوام کی جائز شکایات ہیں تو انہیں تحمل کے ساتھ حل کیا جایا، لیکن نسل پرستی کی سیاست کو چمکانے کے لئے ریاست کے خلاف ہر بار ایسے اقدامات کئے گئے، جس سے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جاتا رہا۔ معاملہ پاکستان کا داخلی رہا ہے لیکن بدقسمتی سے پڑوسی ممالک نے مملکت میں کسی بھی منفی احتجاج کو اپنے مذموم مقاصد کو استعمال کرنے کی سازش کی، بالخصوص بھارت و افغانستان کی حکومتوں نے کبھی ایسا موقع ضائع نہیں کیا، جس میں ریاستی اداروں و عوام کے درمیان نفرت کی دیوار بڑھانے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔10جولائی 2016کو افغان صدر اشرف غنی نے طورخم بارڈر پر پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملوں کے بعد معاملات کو سلجھانے کے بجائے الجھانے و اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دیا۔

طورخم بارڈر کے گیٹ بند کرنے معاملے پر سرحدی محافظوں کے درمیان جھڑپ و بارڈڑ منجمنٹ پر غیر معاوندانہ کردار پر وزارت خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”ترجمان دفتر خارجہ نے افغان صدر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان رہنما افغانستان میں خود اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں اور معاندانہ بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جو بدقسمتی ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغانستان سے تعاون کی توقع کرتے ہیں اور افغانستان میں امن کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ترجمان نے امید ظاہر کی کہ افغان حکومت بھی مؤثر بارڈر مینیجمنٹ اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم سے تعاون کرے گی۔دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بے بنیاد مفروضات پر الزام تراشی کی بجائے قریبی تعاون وقت کی اہم ترین ضرورت ہے“۔پاکستا ن کی افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششوں کو عالمی برداری، بالخصوص امریکا نے تسلیم کیا ہے کہ خطے میں امن کے لئے ریاست سنجیدگی و بردباری سے کام لے رہی ہے۔ خود پاکستان اس امر کا متعدد بار اظہار کرچکا ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام سے پورے خطے کے ممالک کی عوام کو معاشی فائدہ پہنچے گا اور امن قائم ہونے سے قیمتی وسائل عوام پر خرچ کئے جاسکیں گے۔

کابل انتظامیہ کی جانب سے پاکستان میں اندرونی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے، فروری2019 کو اشرف غنی نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا، جس پر پاکستان کے سیاسی، غیر سیاسی رہنماؤں سمیت دانشوار طبقے و سینئر صحافیوں سمیت امن پسند حلقوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ٹوئٹ تو کردی تاہم ٹوئٹر پر صارفین نے اس کی بھرپور انداز میں مذمت کی۔معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ ہم پاکستانیوں کو آپ کی جانب سے داعش کو فراہم کی گئی سپورٹ پر تشویش ہے۔ ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ آپ کی حکومت آپ کے مخالفین کے خلاف داعش کی مدد کررہی ہے۔

آپ نے ماسکو میں ہونے والی ملاقات کی مذمت کی کیوں کہ ستینکزئی سے لیکر کرزئی اور یونس قانونی سے لیکر زادران تک تمام شرکاء داعش مخالف تھے۔سینئر صحافی مبشر زیدی نے اشرف غنی کا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تقسیم کرنے کی آپ کی کوشش ناکام ہوگی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ احترام کے ساتھ اشرف غنی صاحب، پاکستان میں جمہوری طاقتیں سول اور انسانی حقوق کے حوالے سے جدوجہد کرتی رہی ہیں اور رہیں گے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ملک میں مداخلت کے بجائے مثبت انداز میں حمایت کرنی چاہیے تاکہ امن قائم ہوسکے۔تجزیہ کار مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ بے چارے اشرف غنی کو ماسکو مذاکرات کے لیے دعوت نامہ تک نہ ملا۔ یہ مذاکرات اس ملک کے مستقبل کے حوالے سے تھے جس کے وہ صدر ہیں۔ تو پھر انہوں نے فیس بک پر چند لائکس کے لیے شوشہ چھوڑ دیا۔گذشتہ روز ایک بار پھر کابل انتظامیہ کے کٹھ پتلی صدر کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر وزارت ترجمان نے تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشرف غنی کو سفارتی آداب سے آگاہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اداروں میں ہم آہنگی، وقت کی اہم ضرورت - شہزاد سلیم عباسی

اہم اَمر یہ ہے کہ اشرف غنی کو بھارت، مقبوضہ کشمیر، فلسطین، شام، عراق سمیت دیگر مسلم اکثریتی ممالک میں ہنود، یہود و نصاریٰ کے انتہا پرست اقدامات نظر نہیں آتے، یہاں تک کہ افغانستان میں بیرونی جارح افواج کی جانب سے نہتے شہریوں پر فائرنگ، بمباری و وحشیانہ آپریشن میں مدارس کے معصوم بچوں کی شہادتیں بھی نظر نہیں آتی کہ کس طرح بہیمانہ طریقے سے انہیں شہید کیا جاتا ہے۔ انساحقوق کے عالمی اداروں کی جانب سے افغان سیکورٹی فورسز سمیت غیر ملکی افواج کی جانب سے اسپتالوں، اسکول، مدارس اور شادی کی تقریبات میں اندھا دھند بغیر تحقیق بمباریوں سے شہید ہونے والوں کی مکمل تفصیلات جاری کی جاتی رہی ہیں، خود”سیگار“ کی رپورٹ میں افغان سیکورٹی فورسز کی جانب سے جنگی جرائم میں کٹھ پتلی کابل انتظامیہ کے غیر انسانی کردار کو نمایاں کیا گیا ہے۔

ضرورت اس اَمر کی ہے کہ کابل انتظامیہ اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دیں اور پڑوسی ملک کے احسانات و قربانیوں کو پس پشت ڈالنے کی روش کو ترک کرے، بے سروسامان آنے والے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرکے انہیں پاکستانی عوام سے زیادہ حقوق وآزادنہ نقل و حرکت و کاروبار کی اجازت دے کر پوری افغان قوم پر کئے احسان کو مسخ کرنے سے گریز کرے، تاکہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل میں اسلامی رواداری، سینکڑوں برسو ں کی ثقافتی اقدار اور روایات کو نقصان نہ پہنچے اور نوجوان نسل امت مسلمہ کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے قلب و جان کے ساتھ مل کر کام کریں۔

پاکستان میں ایسی نام نہاد تنظیموں کی پشت پناہی و سہولت کاری کرنے سے گریز کریں جو کسی بھی مملکت کے خلاف باغیانہ جذبات رکھتی ہو اور اس کے رہنما کا برسرعام اظہار بھی کرتے ہوں۔یہ امر قابل افسوس ہے کہ نام نہاد قوم پرست ایک جانب وطن عزیز کے خلاف بدظنی پھیلاتے ہیں،اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے عوام میں انتشار پیدا کرتے ہوں، بیرون ممالک، ملک دشمن عناصر کی فنڈنگ سے منفی پروپیگنڈوں اور پے رول پر بھرتی گمراہ کن مظاہروں سے ریاست مخالف اقدامات کرتے ہوں۔ ریاست نے اپنے موقف کو کئی بار دنیا کے سامنے بھی رکھا ہے کہ پاکستان میں تمام ادارے آزاد ہیں، اگر کسی شخص کے بنیادی حقوق سلب ہو رہے ہوں تو وہاں رجوع کیا جاسکتا ہے، ان کے نمائندے اسمبلیوں میں بھاری مراعات بھی حاصل کرتے ہیں، فوائد سمیٹتے ہیں اور انہی اسمبلیوں و ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن تقاریر کرکے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی بھی سازش کرتے رہتے ہیں۔

پاکستانی عوام بالخصوص نوجوان نسل نام نہاد قوم پرست تنظیموں کے عزائم سے بخوبی واقف ہوچکی ہے کہ ان میں قوم پرستانہ جذبات ابھار کر فروعی مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں، بناؤٹی و معصومانہ چہروں کے ساتھ اداکاری کے ساتھ انتشار پیدا کرتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے خیال میں نام نہاقوم پرست تنظیم کو بھارت اور افغانستان کی حمایت حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں، ''اشرف غنی اور حامد کرزئی کے بیانات کے بعد اب کسی کو کوئی شبہ نہیں کہ ان کے 'این ڈی ایس‘ اور 'را‘ سے رابطے ہیں۔ ہم نے پشتونوں کے سب مسائل حل کیے ہیں۔ صوبے کے پی میں ان کو تمام اختیارات کے ساتھ حکومت دی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں میں امن قائم کر کے انہیں صوبے کا حصہ بنایا گیا۔ اگر ایک علاقے میں کچھ مسائل ہیں بھی، تو پورے پاکستان میں ان کے لیے جلسے جلوس کس کے کہنے پر اور کیوں کر رہے ہیں؟“

بلوچستان و خیبر پختونخوا میں نام نہاد قوم پرستوں کی جانب سے بیرون فنڈنگ پر ریاستی اداروں کے خلاف دشنام طرازی و منفی پروپیگنڈوں پر مبنی مہم چلائی جاتی رہتی ہے، جس اعتراف کئی بار بھارت و افغانستان کی سرزمین میں موجود انتہا پسند کرچکے ہیں، یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ہے کہ ان نام نہاد قوم پرستوں کا یجنڈا ملک کی سا لمیت و بقا نقصان پہنچانا رہا ہے۔ملک دشمن عناصر کا ایجنڈا صرف، ملک وقوم کو نقصان پہنچانا رہا ہے، ان کی مذموم سازشو ں کو ریاستی ادارے عزم و تمام تر سازشوں کو ناکام بناتے رہے ہیں، اس کوشش میں سرحدو ں پر قوم کے محافظوں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔آئے روز قوم کے محافظوں کو اندرونی و بیرونی ملک دشمن عناصر کی وجہ سے قیمتی جانوں کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   افغانستان - آصف خورشید رانا

ملک و قوم کی حفاظت کے لئے کوئی رقم و تنخواہ قیمتی جان کا متبادل نہیں ہوسکتی، مملکت میں سینکڑوں ایسے ادارے ہیں جہاں بھاری تنخواہ و مراعات پرصرف چندگھنٹوں کی ملازمت کرکے واپس اپنے اہل خانہ سے آرا م دہ زندگی گذارتے ہیں۔ سرکاری اداروں کے علاوہ غیر سرکاری اداروں میں بھاری بھرکم تنخواہوں و مراعات سمیت ان گنت مراعات حاصل کرتے ہیں، لیکن جس طرح قوم کے محافظ اپنے جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر قیمتی قربانیاں دیتے ہیں، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی، انہیں تضیحک آمیز رویوں کا سامنا صرف ملک دشن عناصر کی وجہ سے ہوتا ہے، ان کی جان و عزت کو محض تنخواہ کے پیمانے سے ماپنے والے، محب الوطن ہو ہی نہیں سکتے۔ لاکھوں سرکاری و غیر سرکاری ملازمین بھی تنخواہ لیتے ہیں، لیکن قوم کے محافظ، شہادت کے جذبے کے ساتھ اپنی زندگیوں کے اصل مقاصد کو حاصل کرکے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرلیتے ہیں۔

ان کی قربانیوں کا نعم البدل و مدوا ممکن ہی نہیں ہے، اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو یہ اس کی پست ترین اخلاقی تربیت کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے، انہیں محب الوطن ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہر ادارے میں کام کرنے والے اپنے اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرتے ہیں، ان میں اچھے افراد بھی بافراط ہیں اور بُرے بھی، لیکن محض چند افراد کی انفرادی غلطیوں کو جواز بنا کر کسی بھی ادارے کو مطعون قرار نہیں دیا جاسکتا، ان کی قیمتی قربانیوں کو پامال نہیں کیا جاسکتا، ذاتی اختلاف کسی سے بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس جواز کی بنیاد پر محب الوطن اہلکاروں کے خلاف سازشیں صرف ملک دشمن عناصر ہی کرسکتے ہیں۔

اللہ تعالی نے انسانوں میں ذات، نسل، قومیتیں پہچان کے لئے پیدا کیں ہیں، بالخصوص مسلمان کی اصل پہچان صرف اسلام ہے، جس کی بنیاد پر پوری دنیا میں ان کی شناخت ظاہر ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ ”اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ با عزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہو، بیشک اللہ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔“(الحجرات، 49: 13)۔ رب کائنات نے تاقیامت ایک زرّیں اصول سے کائنات کے ہر فرد پر واضح کردیا کہ کسی قوم اور برادری میں پیدا ہونا کسی کی بزرگی یا سعادت کی بنیاد نہیں۔ بزرگی و شرافت کی اصل بنیاد اخلاقی فضیلت ہے۔ کسی شخص کا کسی قوم میں پیدا ہونا اس کے لئے اتفاقی امر ہے۔ اس کا اپنا اس میں کوئی اختیار نہیں لہٰذا شرف بزرگی کا اصل سبب قوم و قبیلہ سے متعلق ہونا نہیں بلکہ اس کی ذاتی اخلاقی خوبیاں ہیں۔ جو شخص خدا سے زیادہ ڈرتا ہے، اس کے احکام کا پابند ہے، اس کی رضا کا متلاشی ہے، وہ عظیم ہے، شریف ہے، بزرگ ہے اور قابل تکریم و تعظیم ہے۔

نام نہاد قوم پرستی کی آڑ لے کر معاشرے میں انتشار پیدا کرنا، کسی قومیت، نسل، قبیلے یا فرد کی خدمت نہیں بلکہ معاشرے میں انتشار، افراتفری پھیلانا ہے۔ نام نہاد قوم پرست جماعتیں، لسانیت و صوبائیت کے نام پر منفی پروپیگنڈوں سے معاشرے میں انتشار پیدا کرنے والے ملک و قوم کے ساتھ کبھی مخلص قرار نہیں دیئے جاسکتے۔سیاسی اختلافات اپنی جگہ،جمہوریت کا حسن قرار دئیے جائیں، لیکن وطن ِ عزیز سے بڑھ کر کچھ نہیں، مظلومیت کے لبادے میں نوجوان نسل یا عالمی برداری کو گمراہ کرنے کی کوششوں و سازشوں کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا رہے گا۔ ملک دشمن عناصر، ان کے سہولت کار، فنڈ دینے والے وطن ِ عزیز کے خلاف جتنی بھی سازشیں کرلیں، محافظ ِ وطن اور باشعور عوام انہیں ناکام بناتے رہیں گے۔

ایک طے شدہ ایجنڈے کے تحت جس طرح ملک دشمن عناصر کو معتصب غیر ملکی ذرائع ابلاغ ”مظلوم“ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی حقیقت سے پاکستان کی تمام لسانی اکائیاں بخوبی آگاہ ہیں۔سیاسی جماعتوں، بالخصوص قوم پرست جماعتوں کو نام نہاد عناصر کی سرپرستی و حمایت کرنے سے قبل یہ جاننا ضروی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے اُس قوم کے ایسے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں جن کا سیاست سے کبھی واسطہ بھی نہیں، اس کی سب سے بڑی مثال کراچی جیسے کیثر الجہت لسانی گلدستے کی ہے جہاں عالمی سوچی سمجھی سازش کے تحت بے گناہوں کو نشانہ بنایا جاتا اور ٹارگٹ کلرز کو علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس بے گنا ہ کی جاں لے رہے ہیں، محنت کشوں اور غریب طبقہ لسانیت کی جنگ میں تباہ کردیا جاتا ہے، سیاسی جماعتوں و قوم پرست جماعتوں میں شامل ایسی کالی بھیڑوں کو عوام کے سامنے آشکارہ کرنے کی ضرورت ہے۔

باشعور عوام، پاکستان سے والہانہ محبت کرتی ہے، ریاستی اداروں پر اعتماد کرتی ہے، کسی ملک دشمن عناصر کے بہکاوے کی کوششوں کو ہمیشہ غیور قوم نے ناکام بنایا ہے۔ پاکستان اپنے قیام سے آج تک اندرونی و بیرونی دشمنوں کے خلاف تمام سازشوں کا مقابلہ کرتا ہے اور عوام کی مدد سے کرتا رہے گا۔ ریاست کے تمام ادارے ملکی سلامتی و بقا کی ضرورت کو مد نظر رکھتے شرپسند عناصر کے مذموم ایجنڈوں کو ناکام بنانے کے لئے محب الوطن عوام پر اعتماد رکھیں اور عوام کے تعاون سے وطن عزیز کے خلاف تمام سازشوں کو ناکام بنائیں۔