بیت المقدس ہمارے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر ہم مکہ اور مدینہ کونہیں بچا پائیں گے،ترک صدر کا انتباہ

انقرہ : ترک صدرطیب اردووان نے مسلم امہ کو خبردار کیا ہے کہ بیت المقدس ہمارے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر ہم مکہ اور مدینہ کونہیں بچا پائیں گے، صدرٹرمپ کا نام نہاد امن منصوبہ کبھی قبول نہیں کریں۔تفصیلات کے مطابق ترک صدر طیب اردووان نے کہا ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کے لئے مقدس ہے۔اسے اسرائیل کے حوالے نہیں کرنے دیں گے۔صدر ٹرمپ کا نام نہاد امن منصوبہ کبھی قبول نہیں کریں گے۔

طیب اردووان نے مسلم امہ کو متبنہہ کیا کہ بیت المقدس ہمارے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر ہم مدینہ اور مکہ کو نہیں بچاپائیں گے۔ بیت المقدس کا مطلب استنبول، اسلام آباد، جکارتا، مدینہ، قاہرہ، دمشق اور بغداد ہے۔یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ مقبوضہ یروشلم اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت جبکہ مشرقی علاقہ فلسطین کا دارالحکومت رہے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امن منصوبے کے تحت مغربی کنارے کو آدھے حصے میں نہیں کاٹا جاسکے گا، یروشلم اسرائیل کا غیرمنقسم اور بہت اہم دارالحکومت کہلائے گا۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’امن منصوبے کے تحت فلسطینیوں کے زیر کنٹرول علاقہ دگنا ہوجائے گا اور اسرائیلی حکومت کو انہیں بیت المقدس تک ہر صورت رسائی دینا ہوگی، امریکا فلسطینیوں کے نئے دارالحکومت میں فخر سے اپنا سفارت خانہ بھی کھولے گا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے میں مغربی پٹی کو اسرائیلی آبادکاری کے طور پر تسلیم کرلیا گیا جبکہ مغربی کنارے میں نئی بستیاں آباد کرنے پر چار سال تک پابندی عائد کردی گئی۔