زمین اتنی تنگ ہو جاۓ گی - فرح رضوان

شَفَا حُفْرَةٍ پارٹ 4
زمین اتنی تنگ ہو جاۓ گی ! کبھی سوچا نہ تھا ،گھروں کارقبہ کشادہ دالانوں سے سمٹ سمٹا کر سکڑے کمروں تک بھی محدود رہ جاتا تو گزارا تھا ، مگر اب تو جیسے گھر کے مکینوں کے دل ، دماغ ، جیب اور ظرف سبھی تنگ ہوتے چلے گۓ- (جائنٹ فیملی سسٹم میں آپسی حقوق پر بھی ان شا اللہ جلد بات ہوگی مگر)

آج ان صاحبان سے ذرا سی بات ؛ جن کو اپنا بیٹا اور بھائی سمجھ کر ایک لڑکی کے والدین اور بھائی بہن اپنے جگر کا ٹکڑا سونپتے ہیں اور بحثیت مسلمان آپ جناب اللہ کو گواہ بنا کر صرف ایک لفظ قبول ہے کے ذریعے عہد کرتے ہیں کہ " اللہ کے کنبے میں سے" جس بندی سے آج آپ بخوشی نکاح کر رہے ہیں ، آئندہ زندگی میں ، بساط بھر محنت کر کے اس کی راحت و عزت کا حتی الامکان خیال رکھیں گے - اور اس سے ہونے والے بچوں کی مقدور بھر کفالت فرمائیں گے- مگر وقت گزرتے اس وعدے ارادے کو انا اور نفس پرستی کی دیمک چاٹ جاتی ہے - مانا کہ اکثر ہی نباہ کے لیۓ، سسرال بیاہ کر جانے والی خاتون کی طرف سے خاصے صبر و محنت کی ضرورت ہوتی ہے مگر اب ایسے واقعات کافی بڑھتے جارہے ہیں کہ شوہر نامدار صرف نام کے اور کاغذ کے شوہر ہی رہ جاتے ہیں - جو شدید غیر ذمہ دار ، شدید غصیل و جھگڑالو ، شدید کنجوس مع لالچ کاشکار ، اور سب سے بڑھ کر شدید شکی اور اجنبی بن بیٹھتے ہیں - جبکہ اس ذرا سے عرصے میں خاتون ایک یا دو چار بچوں کی والدہ بن چکی ہوتی ہیں ؛ اور فی الحال یہ بچے صرف اس والدہ کی کمزوری ---- اللہ کے بندو! قوم کے بیٹو! کچھ تو اپنے حال پر کرم کریں ! کس کس درجے کا ظلم اپنی ہی ذات پر آپ کرتے چلے جارہے ہیں !
صرف اس لیۓ کہ آپکے ارد گرد "سارے مرد" ایسے ہی کرتے ہیں اور وہ اسے اپنا جائز حق یا فرض سمجھتے ہیں !

تو خدارا اپنی صحبت تبدیل کیجیۓ کیونکہ یقین کریں کہ اللہ کی سنت ، اسکا طریقہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتا یہ اللہ کا وعدہ ہے اٹل ، کہ ظالم اگر توبہ نہ کرے اور حق تلفیوں پر ڈٹا رہے تو کچھ ڈھیل اسے ملتی تو ہے،نہ تو شریف کمزور انسان ظالم کی کسی قسم کی پکڑ کر پاتے ہیں نہ ہی کسی سخت گیر سے کوئی بات منوا پاتے ہیں -لیکن اگر اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا جاۓ توظلم کے نتیجے میں دنیا وآخرت میں رسواکن شدید عذاب مل کر رہتا ہے- جبکہ ظالم کو ڈھیل دیۓ گۓ وقت کوصبر سے کاٹ لینے والے مظلوم کو ہر طرح سے بہترین اجر بھی مل کرہی رہتا ہے -

شادی شدہ خواتین میں کل تک تو "مجازی خدا " سے نان نفقه نہ دینے اور مار پیٹ کی شکایات عام تھیں؛ مگر حالیہ دور کی سب سے بڑی اذیت ،خاوند کی بے راہ روی اور بیوی سے کنارہ کشی کرتے اسے اپنی زندگی میں ہی بیوگی کا دکھ سہنے پر مجبور کرنا بھی شامل ہوگیا ہے- گو کہ مذھب کی طرف سے تو ایسی خاتون کے لیۓ بہت سے جائز حلال راستے اب بھی کھلے ہوتے ہیں ، نکاح اور ویڈ لاک کا یہی تو فرق ہے کہ وہ ڈیڈ لاک نہیں ہوتا مگر جس معاشرے کی مت پر تالا پڑا ہو ہندومت کا، وہاں بچوں والی ذمہ دار ماں اپنے بچے بھلا کس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنا گھر بسا سکتی ہے ؟ اور میکے میں عموما کسمپرسی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ سنگل موم تک کی واپسی کی گنجائش بھی باقی نہیں رکھی جاتی ،

خواتین بڑی سے بڑی بات سہہ لینے کے بعد بھی جب کبھی لب کشائی پر مجبور ہو جائیں؛ جواب ملتا ہے تو کیا ہوا !
سر پھٹول ہوگیا- گر ہوگیا تو کیا ہوا!
بٹ رہی ہے دال جوتوں میں۔۔۔ تو بٹیا کیا ہوا !
جادو ٹونے سازشیں تو عام سی ہی بات ہیں ،
ہو رہا ان میں سے کچھ تو ایسا ویسا کیا ہوا !
ہے لت آوارگی ،پھر بے رخی تو کیا ہوا
ساتھ جی کر بھی ستی ہونا انوکھا تو نہیں!
ایسا ہوتا رہتا ہے، یوں ہو گیا تو کیا ہوا !
زہر کھاتا ہے نشے کا تو تجھے ہے کیا پڑی!
گر چبائے روز انگارے تو اس سے کیا ہوا !
بس فقط گالم گلوچی، ہاتھا پائی ہی تو کی !
کب دئیے دھکے تجھے! کوٹا ہو سوٹے سے بھلا!
ہڈیاں چمڑی سلامت سانس بھی آجا رہی
شخصیت کی کرچیاں گر ہو گئیں تو کیا ہوا!

-----اور اسی ضمن میں مزید ہلا ڈالنے والے حالیہ حالات اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایلیٹ کلاس کی ایک بچی کا رشته گھر والوں نے عین شادی سے کچھ روز قبل توڑ ڈالا ،اب اطلاع دینی تھی ، بیوٹیشن کو ، ڈیزائنر ،ہال ،فوڈ سپلائر وغیرہ وغیرہ اورمہمانان گرامی کو تب زیادہ تر "مسلمان " وجہ جان کر بولے " لڑکا فقط شراب ہی تو پیتا ہے " تو کیا ہوا !
بپھری موجوں پر ڈولتا ایک بحری جہاز جس کے تلے میں نچلے طبقے نے سوراخ کر ڈالا ہو اور اوپر کے عرشے پر موجود لوگ مستی میں دھت تو بھلا بیڑا غرق ہوکر نیست و نابود ہونے سے کیونکر بچ سکتا ہے ؟
بحری جہازسے یاد آیا! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے سو تم لوگ زمین میں سیر و سیاحت کرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا، تو چلتے ہیں حالیہ حالات سے حالیہ حالات جاننے چائنا کی سیر کو؛ لگتا یوں ہے کہ چائنا میں "اپنے مظلوم بندوں" پر انتہا درجے کے ظلم کا ذرا سا بدلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لشکر کے چنے سے کرونا وائرس کے ذریعے سے چکھایا ہے.

-زبان زد عام ہے کہ یہ چمگادڑ کے سوپ سے پھیلا ؛تو چلیں ذرا چمگادڑ پر ہی غور کیے لیتے ہیں کہ ،خون چوسنے والا یہ مکروہ صورت جانور جس طرح الٹا لٹکنے میں راحت محسوس کرتا ہے ،اسکے کام بھی ایسے ہی الٹے ہوتے ہیں ،روشنی میں اسکی آنکھیں کام ہی نہیں کرتیں، کم نصیبی کی حد ہے کوئی کہ نور بکھرا ہو ہر طرف اور بدبخت انسان اسے دیکھ ہی نہ سکے، اور جب دیکھے اور خوشی سے پرواز کرے تو فقط اندھیرے میں اندھیر مچا کر ؛ایسی فطرت کے جانور کو کھا کر ایسی تیسی نہ ہوگی تو اور کیا ہوگا بھلا ؟ مگر بات یہ ہے سوچنے کی کہ غیر مسلم بیگناہ مظلوم مسلمانوں پر ظلم کریں تو اللہ تعالیٰ جیسے چاہے بدلہ لیتا ہے خواہ صرف ایک مچھر نمرود کو کافی ہو جاۓ ،یا ابابیلیں ہاتھی والوں کو یا مختلف اوقات میں وائرس سیلاب زلزلے وغیرہ لیکن!بدعمل کلمہ گو ،بدعمل نمازی ، بدعمل حافظ، بدعمل حاجی چمگاڈر کو تو وحشی حرام جانور سمجھ کر نہ کھائیں مگر اپنے ماتحت کسی بھی کمزور کا حق وحشیانہ طریقے سے، اور ہرطرح کے من چاہے حرام کے مزے اڑائیں تو کیا اللہ کا قانون حرکت میں نہیں آئے گا ؟

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */