اب تو سوچا ہے - حبیب الرحمن

بعض اوقات سوشل میڈیا پر بھی نہایت لطیف پیرائے میں بہت گہری مگر طنز کے زہر میں ڈوبی ہوئی باتیں ایسی پوسٹ کر دی جاتیں ہیں جن کو پڑھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی آتا ہے۔ ہنسی اس لئے آتی ہے ان تحریروں میں مزاح کا پہلو ہی ایسا ہوتا ہے کہ پڑھنے والا بے اختیار مسکرانے اور ہنسنے پر مجبور ہوجاتا ہے لیکن جب طنز کے زہر میں ڈوبی تحریر کے معنی و مطالب پر نظر جاتی ہے۔

تو آنکھیں اشکبار ہوئے بغیر رہ نہیں پاتیں۔ ایسی ہی ایک تحریر نظروں سے گزری جسے میں منقول کر رہا ہوں۔ فی الوقت مجھے یہ بات تو یاد نہیں کہ یہ تحریر کس کی تھی لیکن اس تحریر کا تلخابہ شیریں ابھی تک میرے لبوں پر مسکراہٹ اور پلکوں پر نمی ضرور بکھیرے ہوئے ہے۔لکھنے والے نے لکھا ہے کہ ساز و سامان سے لدے ٹرک نے ہائی وے پر ایک ہوٹل کے سامنے رات کے کھانے اور سستانے کیلئے بریک لگا یا۔ ٹرک رکنے پر ٹرک ڈرائیور اور اس کا ہلپر نیچے اترے۔ حسب عادت دونوں نے چاروں جانب سے ٹرک کا جائزہ لیا تو ٹرک کا ایک پچھلا ٹائر پنکچر تھا۔ فیصلہ ہوا کہ کھانا کھانے کے فوراً بعد ٹائر بدلا جائے گا لہٰذا دونوں کھانے سے فارغ ہوئے تو ٹرک کے نیچے ہیوی ڈیوٹی جیک لگا کر ٹائر بدل دیا گیا۔

ڈرئیور نے فارغ ہونے کے بعد جیب سے ایک سیگریٹ نکالی، اس میں حسبِ منشا چرس بھری اور ایک دو لمبے کش لینے کے بعد اپنے ہلپر سے کہا کہ تو بھی کیا یاد رکھے گا، میں تو چلا آرام کیلئے آج تو ٹرک چلا۔ تیری یہ شکایت کہ میں تجھے ٹرک چلانے کا موقع نہیں دیتا، آج دور ہوجائے گی اور میری نیند بھی پوری ہو جائے گی۔ ہلپر یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اس نے بھی جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر اس میں سے ایک سگریٹ کھینچی اور پھر خوشی میں پہلے سے دوگنا چرس نکال کر اس میں بھری اور دوتین کش لگا کر ڈرائیور سیٹ سنبھال کر ٹرک اسٹارٹ کر دیا۔ استاد ڈرائیور پچھلی سیٹ پر ڈھیر ہوتے ہی سو گیا۔ جب کافی دیر کے بعد ڈرائیور کی آنکھ کھلی تو تو ٹرک بھاں بھاں کر کے چلتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے ہلپر سے پوچھا کہ کہاں تک پہنچ گئے تو ڈرائیور نے کہا استاد یہ تو مجھے نہیں پتا کہ میں کہاں تک پہنچ گیا ہوں لیکن جب سے ٹاپوں ٹاپ چلا آرہا ہوں۔ ڈرائیور نے لیٹے ہی لیٹے کہا کہ گاڑی روکو، اب میں گاڑی خود چلاؤں گا۔

ڈرائیور نے گاڑی روک لی۔ ٹرک ڈرائیور نے باہر جھانکا تو سامنے ہوٹل ہی تھا۔ اس نے اپنے ہلپر سے کہا کہ چلو پہلے چائے پیتے ہیں پھر آگے چلیں گے۔ گاڑی کا انجن بند کر دیا گیا۔ دونوں اترے تو معلوم ہوا کہ یہ تو وہی ہوٹل ہے جہاں سے چلے تھے۔ ہلپر کو بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے ہوٹل کے بیرے سے پوچھا کہ اتنا چلنے کے بعد بھی ہم وہیں کے وہیں کیسے موجود ہیں تو ہوٹل کے بیرے نے کہا کہ یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن ساری رات آپ گاڑی کو ریس ہی دیتے رہے ہیں اور اپنا ویل ہی گھماتے رہے ہیں۔ جب سے دھواں برداشت کرتے کرتے ہمارا اور ہمارے برتنوں کا بہت برا حال ہو کر رہ گیا ہے۔ ہم نے یہی خیال کیا کہ شاید گاڑی میں کوئی خرابی آ گئی ہے۔ جب گاڑی کے ڈرائیور نے معاملے کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ہلپر نے گاڑی چلانے کی خوشی میں ایک تو چرس زیادہ چڑھالی تھی اور دوسرے ویل کے نیچے لگے جیک کو نکالنا ہی بھول گیا تھا۔

پاکستان میں گزشتہ 18 ماہ سے تبدیلی سرکار کچھ ایسا ہی کر رہی ہے کہ پاکستان کو جیک پر چڑھا کر، سگریٹوں پر لکیریں لگا کر انجن کو ریس دے دے کر یہی سمجھ رہی ہے کہ پاکستان نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتا ہوا آگے کی جانب بڑھتا جارہا ہے۔ جب بھی کپتان اپنے مصاحبوں سے نشہ ٹوٹنے کے بعد پوچھتا ہے کہ کہو دوستو کہاں پہنچے تو سارے مصاحب دو کی جگہ چار چار لکیریں کھینچنے کے بعد یہی جواب دیتے ہیں کہ صاحب یہ مت پوچھو بس یہ دیکھو کہ گاڑی کا انجن پوری ریس کے ساتھ گاڑی کو دوڑائے جا رہا ہے۔ ٹرک ڈرائیور نے تو پھر بھی اٹھ کر جائزہ لینے کی ٹھان لی تھی لیکن یہاں معاملہ کچھ برعکس ہی نظر آ رہا ہے۔ کیپٹن لیٹے ہی لیٹے ایک اور سیگریٹ نکال کر اس پر دو لکیریں کھینچنے کے بعد اسے سلگاتا ہے اور پھر ٹرک کے ساتھ ساتھ خود بھی اڑنا شروع ہوجاتا ہے۔

پاکستان کو تبدیل کرنے کا دعویٰ تو حکومت پر براجمان ہونے کے فوراً بعد کا تھا لیکن پھر 90 دن مانگے گئے۔ جب 90 دن بھی بے نتیجہ رہے اور جیک پر چڑھے پاکستان کے ویل خالی ہی گھومتے نظر آئے تو مزید 6 ماہ مانگ لئے گئے۔ پھر سال کا کہا گیا لیکن کسی کی نظر اس پر نہیں پڑی کہ پاکستان تو جیک پر چڑھا ہوا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ مشکل کے سارے مرحلے ختم ہو چکے ہیں اور اب پاکستان ترقی کی پٹڑی پر چڑھ چکا ہے اور 2020 ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔

پاکستان میں اس سے قبل جو حکومتیں بھی آئیں وہ بھی بہت بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ آئیں لیکن اپنے وعدوں اور دعوں کی پاسداری کرنے ناکام رہیں لیکن اتنا ضرور ہوا کہ مہنگائی ہو یا بیروزگاری، اس کے گراف میں ایک تدریج کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن یہاں معاملہ نہ صرف بہت بگڑا ہوا ہے بلکہ ہر قسم کی بے اعتدالی میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مہنگائی کا انجن نہ صرف بھوں بھوں کر کے جاگا ہوا ہے بلکہ مہنگائی کے ٹرک کے نیچے کوئی جیک بھی نہیں لگا کہ اس کے ویل خوامخواہ ہی گھوم رہے ہوں بلکہ اس نے اچھے اچھوں کے دماغوں کو گھما کر رکھا ہوا ہے۔ اسی طرح یہ سمجھ میں آکے نہیں دے رہا کہ بے روزگاری کا بڑھتا ہوا عفریت کیا رنگ روپ اختیار کرتا ہے۔

یہ سارے حالات نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ اگر یہ سلسلہ کچھ مزید دراز ہوا تو ریاست کا وجود ہی ہل جانے کا خدشہ ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ "لکیریں" لگانے کا سلسلہ بند کرکے پہلے خود کو جہاز بننے سے روکا جائے اور مکمل بیداری سے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ دائیں بائیں کھڑے جتنے بھی مصاحب ہیں ان کی نظر ان جیکوں پر بھی ہے یا نہیں جو پاکستان کی ترقی کے ٹرک کے نیچے لگانے کے بعد سب چار چار "لکیریں" کھینچنے کے بعد یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اگر انجن گھوں گھوں اور بھاں بھاں کر رہا ہے اور ویل پوری طاقت کے ساتھ گھوم رہے ہیں تو پاکستان آگے کی جانب محو سفر ہے۔

ملک کے ڈرائیور کو چاہیے کہ وہ خود بھی لکیریں کھینچ کر غم بھلانے سے گریز کرتے ہوئے بیدار مغزی کے ساتھ حالات کا بغور جائزہ لے اور اپنے مصاحبوں سے بھی کہے کہ اسے صرف دھوؤں کے مرغولوں والی ترقی نہیں بلکہ صاف اور شفاف فضا والے مناظر چاہئیں۔ اگر کپتان نے ایسا نہ کیا اور اپنے بھان متی کے کنبے پر اسی طرح اندھا اعتماد جاری رکھا تو مجھے خدشہ ہے کہ کپتان کا دماغ کہیں بالکل ہی ماؤف نہ ہوجائے اور کسی چوک پر کھڑے ہوکر وہ بآوازِ بلند یہ کہتا نظر آرہا ہوں کہ

اب تو سوچا ہے کہ پتھر کے صنم پوجیں گے
تاکہ گھبرائیں تو ٹکرا بھی سکیں مر بھی سکیں