کنارے ایک گڑھے کے - فرح رضوان

#شَفَاحُفْرَةٍ پارٹ 3
شَفَا حُفْرَةٍ = کنارے ایک گڑھے کے …..حق سے ہٹے ، آپس میں کٹے تفرقے میں بٹے لوگ . ہجوم سے بھری ، دھواں چھوڑتی بس گندے سے دھابے پر بریک لینے رکتی ہے تو اس میں ایک پھٹے حالوں ان پڑھ بندہ چڑھ کر ، لاکٹ جتنا قرآن دکھا کر لوگوں کو انگنت کرامتوں کا یقین دلاتا ہے کہ یہ اس سائز میں بھی مکمل لکھا ہوا ہے تو تم اب اسے کار میں لٹکا لو یا گلے میں ، یا چابی کا چھلا بنا لو یا بیٹی کو رخصت کرو اسکے ساۓ میں یا قسم بھی اٹھا لو...بس لے لو مجھ سے اور اسی لاکٹ میں بند قران سے ساری برکت کما لو-

مائکرو سوچ میکرو معاشرہ ؛ مجال ہے جوبھری بس میں کوئی "مسلمان "سوال اٹھاۓ کہ اللہ کےبندو! کیا یہ وہ طریقۂ قرآن ہے جسکے لیۓ کہا گیا کہ اللہ کی رسی ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو تفرقے میں نہ پڑو ! عقل کچھ تو کہتی ہی ہوگی نا ! اس سائز کے قران عربی سے انسان کوعمل کی، انصاف کی ، سود کی ، زنا کی ، نکاح کی ، طلاق کی، یا فقط طہارت یا حرام و حلال خوراک ،لباس اور محبت یا دشمنی ہی کی کون سی بات سمجھ آسکتی ہے ؟ اور بغیر سمجھے ، عمل تو دور اچھی نیت تک کرنا بھی ناممکن ہے ، جسکے بغیر تو چنی منی سی بھلائی کا کوئی وعدہ نہ اللہ نے کیا نہ اللہ کے رسول نے (صل اللہ علیہ وسلم ). وہ لوگ جو خود کو اہل قران ، حامل قران سمجھتے ہیں ، مگر قران کے صرف پانچ حقوق بھی زندگی بھر سمجھ کر نہیں دیتے ، بس طوطے کی طرح بے سمجھ بے عمل رٹا لگا کر خود کو حافظ قرآن سمجھ کر اکڑ بیٹھتے ہیں ، اسی "قابلیت " پر ایسے بہت سوں پر مبنی معاشرہ بھلا کیسا ہو سکتا ہے ؟- خواتین جیلوں کی حالت دگرگوں ہے ، شیلٹرز تباہی کے راگ الاپتے ہیں ؛ اور ان سے بھی زیادہ بد ترین حالات میں ، اپنے ہی مکانات میں محصور خواتین اور بچے قید کاٹنے پر مجبور ہیں ، جسکی وجہ ہے طویل عرصے سے قحط سالی - قحط الرجال کے سبب وہ اخلاقی قحط جو برسوں سے ہم جھیلتے مفلوج ہو چکے ،

ہر سو سوکھا ہے ، زمین بنجر موسم خشک . کیوں ؟ دیکھا نا ہم سب نے ! گزشتہ برسوں میں ، سیاسی ، سماجی ، مذہبی جلسے جلوس میں ، انٹرنیٹ کیفےمیں ، ہسپتالوں ، عدالتوں میں یا سڑکوں پر توڑ پھوڑ ، تشدد ،گالیاں ، جنون کی کیفیت میں مارتے پیٹتے ، ہذیان بکتے آگ لگاتے ، لہو لہان کرتے دھوکہ دیتے کاروباروں میں ، کرپشن کرتے ایوانوں میں بہت سے مردوں اور لڑکوں کو ؟ جن کی پیدائش پر یقینا بڑی زبردست مبارک بادیں اور مٹھائیاں بٹی ہونگی کہ، کاکا ہویا اے ؛ ارمانوں اور فخر سے نکاح ولیمہ کیا گیا ہوگا ویراور پترکا تو یہی "مسلمان "مرد رشتے میں کہیں کسی کے شوہر ، بیٹے ، بھائی ، باپ بنتے گۓ تو ساتھ ہی کہیں مالک ،افسر اور نوکر لگتے گۓ،اپنی دانست میں اشرف المخلوقات ،الرجال اور قوامون،بخشے بخشاۓ سمجھتے خود کو! مگر سوچیں ذرا کہ جنھیں کھلے عام اخلاقی گراوٹ کا شکار اپنی شخصیت پیش کرنے پر رتی بھر حیا نہیں بلکہ زعم ہو ، تو "اپنے "مکانات کی دیواروں کی آڑ میں کیسی کیسی بد اخلاقی ، بے حیائی، جنون و جہالت اور تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوں گے ؟ کیا یہ کوئی فلح کی بات سمجھنے کے قابل لگتے ہیں ؟ ہرگزہرگز بھی نہیں (الا ماشا اللہ) - تو ہم بھلا کسے سمجھائیں اور کس سے اگلی بات کریں ؟

ایک امید کے ساتھ ان افراد سے جن میں اب بھی کسی درجے میں،خدا خوفی ، دنیا میں مکافات عمل اور آخرت کا عقیدہ محفوظ ہے - ہاں انکی کچھ غلطیاں ہیں جو انکو کلچرل آلودگی کی وجہ سے دکھائی نہیں دیتیں؛ مگر نشاندہی پر تندہی سے اسپر قابو پالینے کی خواہش ،ظرف اور ہمت رکھتے ہیں - ہمارے گھروں کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم عزت کروانا تو چاہتے ہیں مگر سست ، بےصبرے ، بےعلم اوربےحکمت اس درجے کے کہ عزت کمانا نہیں چاہتے ؛ جسطرح کفار کے من گھڑت رواج تھے نا کہ مادہ مویشی ذبح کرنے پر اسکا زندہ بچہ صرف مرد کے لیۓ ، مگر بچہ مردہ نکلے تو عورتوں کے لیۓ جائز بالکل اسی طرز پر سسرالی حقوق اور میکے کے فرائض کے من گھڑت اصول بنا لیۓ گۓ ہیں،جن کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں تو بھلا مسلمان کی زندگی سے کیا واسطہ ؟ مگران کو رواج ،اصول، رسم، اورایسا ہی تو ہوتا ہے، یہ تو کرنا پڑتا ہے-پر دوسرے کا جینا اور اپنا مرنا عذاب کیا ہوتا ہے - لیکن یہ رویه اور رواج اکیلے شوہروں کے دم سے تو نہیں ہے نا انکے سہولت کار خواتین و حضرات کو بھی بار بار ،تسلسل سے اللہ کے احکامات کو سننا ،پڑھنا ،سمجھنا ہوگا تاکہ سب سے پہلے اپنی ہی عاقبت اور دنیا سنور سکے پھر ان سے جڑے گھروں کا ماحول پر امن ہو اور ان میں پروان چڑھتے بچے نارمل انسانوں پر مبنی معاشرہ بنا سکیں،

ان بچوں کی مائیں ، ذلت اور مایوسی کا کرب جھیلتے ذہنی ،جسمانی ،نفسیاتی اور نفسانی امراض کا شکار نہ ہوئی ہوں،اور درست نہج پر تربیت کر سکیں - اسلیۓ قحط الرجال کے فتنے سے نجات پانے کا پکا ارادہ ،دعا اور جی جان سے عمل کرنا ہوگا ؛ ہمیں اپنی اپنی بھاوج اور بہو اور بیویوں اور ان کے والدین یا رشتہ داروں کے نام کے ساتھ ہی ، دھرنا ہوگا مرنا ہوگا والے جذبات کو دبا کر ہی نہیں بلکہ جڑ سے مٹا کر جلد از جلد خود سدھرنا ہوگا -( ان شا اللہ ) اور نادان خواتین کو بھی ایک بات سمجھنی اور ماننی ہوگی کہ انکے بیشتر مسائل واقعی تکلیف دہ ہیں انکو فوری ٹھیک ہونا چاہیے مگر کچھ دوست نما دشمنوں نے غلط سمت آپکے حقوق کا رخ موڑ دیا ہے ،جیسے کہ جینز اور سلیو لیس پہننا آپکا حق اس سے روکنا ظلم ، دوپٹے کا نہ پہننا ہی آزادی،بے وجہ گھر سے باہر رہنا ،لڑکوں سے دوستی کی آزادی بھلا مسلمان عورت کے مسائل کب سے ہو گۓ ؟ ،ریسٹورانٹس یا ڈھابه شاپس پر فوڈ سپلائی کرکے کمانا زندہ دلی کی علامت جبکہ گھر میں کھانا گرم کرنا گویا غلامی ہو - یہ سب شیطانی ہتھکنڈے ہیں ،ایک نیک سمجھدار مسلم خاتون کو ایسے جھانسوں سے خود کو بہت دور رکھنا ہوگا تب ہی اسکے اصلی اور نسلی مسائل دور ہو سکیں گے ،گھروں میں برکت و خوشحالی آسکے گی -(ان شا اللہ )جاری ہے

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */