ہائے مارگئی مہنگائی - ریان احمد حمزہ

جیسے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے بارے میں "چور اور کرپٹ" کا بیانیہ بن چکا ہے اسی طرح عمران خان کے بارے میں "نااہل اور نالائق" کا بیانیہ بن چکا ہے کیونکہ موجودہ حکومت جس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے وہ بحران کی شکل اختیار کر جاتا ہے چاہے وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا مسئلہ ہو، یا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا مسئلہ ہو یا پھر مہنگائی کا ہی مسئلہ کیوں نہ ہو۔

اس بات کی دلیل اتحادی جماعتیں ہیں۔ اب تو حکومت کی اتحادی جماعتیں حکومت کی نساہلیوں اور نالائقیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو، اوّل تو حکومت ایسے مسئلہ کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتی اور اگر کر لے تو اس کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں کو قرار دیتی ہے۔ پھر مسئلہ حل کرنے کی بجائے متبادل راستے بتاتی ہے جیسے ٹماٹر کی جگہ دھی استعمال کرئے یا اگر فائن آٹے مہنگا ہے تو نہ استعمال کریں کیونکہ وہ مضر صحت ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ جیسے کئی مشورے ملتے ہیں۔

اس سے بھی اگر حکومت پر تنقید ختم نہ ہو تو مسئلہ کے فائدے گنوانے لگتے ہیں۔ جیسے علی امین گنڈا پور نے ٹماٹر مہنگے ہونے پر کسانوں کا فائدہ جتلایا۔ اِن سب کے بعد پھر عوام کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ جیسے شیخ رشید نے کہا کہ نومبر دسمبر میں لوگ زیادہ روٹی کھاتے ہیں اس لئے آٹے کا بحران آیا اور پھر خان صاحب کا کہنا کے انکا اپنی تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا۔ خان صاحب اگر دو لاکھ کی تنخواہ میں گزارا نہیں ہورہا تو مہنگائی کے اِس دور میں 22 ہزار روپے والے کا کیسا گزرا ہوتا ہوگا۔

معیشت کے متعلق بھی عمران حکومت نے گذشتہ حکومت کو قصوروار ٹھہرایا جبکہ تحریک انصاف کی حکومت نے 9 ارب ڈالر سعودیہ سے، 6 ارب ڈالر چائنہ سے، 3 ارب ڈالر متحدہ عرب امارات سے، 86 ارب ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک سے اور آئی ایم ایف سے بھی کئی ارب ڈالر کے قرضے لیئے، جو کہ 2008 سے لے کر 2013 تک لیئے جانے والے تمام قرضوں سے زائد ہے۔ یعنی گزشتہ حکومتیں جو 2008 سے 2013 تک اقتدار میں تھی انہوں نے اتنا قرضہ نہیں لیا، جتنا موجودہ حکومت نے لے لیا ہے۔ اِتنا قرضہ اُن دونوں حکومتوں نے دس سال کے عرصے میں لیا جبکہ عمران حکومت نے اتنا قرضہ 18 ماہ کے عرصہ میں لے لیا ہے۔

پھر بھی حکومت نے روزمرہ استعمال کی جانے والی اشیاء پر مزید ٹیکس لگا دیے۔ جس کی وجہ سے مہنگائی میں 200 گنا اضافہ ہوا۔ جبکہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں پندرہ پندرہ بار اضافہ کیا گیا۔ حتی کہ ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بھی 300 روپے کی بجائے 1200 روپے میں ملنے لگا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پی ٹی وی کی فیس بھی 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ کل وزیراعظم نے مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پر دستخط کردیئے۔

ویسے ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب بھی جہانگیرترین حکومت میں ہو تو آٹے کا بحران آتا ہے؟۔ اس سے پہلے مشرف دور میں آٹے کا بحران آیا تھا اور اس وقت بھی جہانگیر ترین اُس حکومت کا حصہ تھے۔ آٹے کے بحران کے جاتے ہی چینی کا بحران دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ خبر کے مطابق شوگر انڈسٹری میں 45 فیصد حصہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کا ہے۔ جہانگیر ترین کا تقریبا 22 فیصد حصہ ہے۔ اُن کے کزن شمیم خان کی بھی 4 ملز ہیں۔ خسروبختیار کا 15 فیصد، ہمایوں اختر کا 10 فیصد، فیصل مختار کا بھی 10 فیصد حصہ ہے۔ گزشتہ دو سال کے عرصے میں 20 شوگر ملز بند ہوئیں۔ 4 شریف خاندان کی، 9 اومنی گروپ کی، باقی زرداری گروپ اور چودھری منیر گروپ کی تھی۔ جبکہ جانگیرترین اور خسرو بختیار کی 6 نئی شوگرملز لگی ہے۔

شہباز گِل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے 2013 میں 20 کلو آٹے کی قیمت 765 روپے بتائی اور کہا ہماری حکومت میں بھی آٹے کی 805 روپے قیمت ہے۔ تو میرا اُن سے سوال ہے کہ موجودہ حکومت اور گزشتہ "کرپٹ" حکومت میں پھر کیا فرق ہوا؟۔ جو پہلے ہو رہا تھا، وہ تو اب بھی ہو رہا ہے۔ پھر تو تحریک انصاف کو حکومت چھوڑ دینی چاہیے کیونکہ گزشتہ حکومت پاکستان کو جہاں چھوڑ کر گئے تھے، پاکستان اُسے بھی مزید تنزلی کا شکار ہوا ہے۔

مہنگائی کی وجہ سے ایک باپ نے اپنے آپ کو آگ لگا ڈالی۔ جبکہ بلوچستان کی سردی اور برف سے ڈھکی ہوئی سڑک پر ایک کمسن بچہ بوٹ پالش کر رہا تھا۔وہ انگریزی میں کہتے ہیں نہ کہ

"Poverty is mother of all crimes"

بس یہ سب وہی ہورہا ہے۔ خبر کے مطابق پی آئی ڈی کی طرف سے تمام چھوٹے اخبارات کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر اشتہارات لینے ہیں، تو حکومت کے حق میں مثبت آرٹیکل لکھو۔ ایک نجی ٹی وی چینل کا نوجوان کیمرہ مین فیاض علی کو دس ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے حرکت قلب بند ہوگئی اور وہ انتقال کرگئے۔ وزیراعظم سے 2010 سے 2018 تک ہمیشہ یہ بات ضرور کہتے تھے کہ اِس میڈیا نے عوام کو شعور دیا۔ میری جدوجہد اور کامیابی میں میڈیا کا بڑا ہاتھ رہا۔

پھر جب حکومت میں آنے کے بعد میڈیا نے ان کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کو لوگوں کے سامنے لانا شروع کیا تو وہ لوگوں کو اخبار اور نیوز چینل نہ دیکھنے اور دوُر رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ان تمام دلائل کو مدے نظر رکھتے ہوئے، "کپتان صاف ہو، تو کابینہ بھی صاف ہوتی ہے" اب یہ بیانیہ بھی دفن ہوچکا ہے۔میں وزیراعظم عمران خان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی ابھی بھی گھبرانا نہیں ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com