شخصیت سازی زندگی کے آئینے میں - مدیحۃالرحمن

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا!

مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

الطاف حسین حالی

کیسی پیاری بات دو مصرعوں میں سمو دی گئی ہے،لیکن کیا ہم واقعی محنت کر کے انسانیت کی اوجِ ثریا پہ پہنچ پاتے ہیں؟؟؟اور اگر نہیں تو اس کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے آج ہم اس پہ بات کریں گے۔ایک متوازن شخصیت ہی ایک کارآمد فرد کے روپ میں معاشرے کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے،وہ کون سے عوامل ہیں جن کو اپنا کر ہم اپنی ذات کو نفع رساں بنا سکتے ہیں۔؟؟
سب سے پہلے جسمانی صحت پہ بات کرتے ہیں۔

اگر آپ جسمانی طور پہ تندرست و توانا رہنا چاہتے ہیں تو اپنا ایک غذائی چارٹ بنائیے،جو چیزیں آپکے جسم سے مطابقت رکھتے ہوئے آپکو فائدہ دیں انکو اس چارٹ میں شامل کیجیے اور جو چیزیں فقط زبان کا چسکا تو پورا کریں لیکن آپکو راس نہ آتی ہوں انکو اس چارٹ سے خارج کر دیں،ایکدم سے اپنی پسند کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا تو اسکا حل یہ ہے ٹارگٹ بنا لیجیے کہ میں نے ایک پسندیدہ لیکن میری صحت کے لیے نقصان دہ چیز چھوڑنی ہے جیسے کہ کوئی بھی جنک فوڈ منتخب کر لیجیے اور اسکی جگہ ایک مفید چیز چاہے وہ مجھے ناپسند ہے اپنی خوراک میں شامل کرنی ہے۔اور پھر خود پہ ضبط کرتے ہوئے اس پہ کچھ عرصہ عمل کیجیے،آپ دیکھیں گے کہ شروع میں یہ خاصہ مشکل لگے گا لیکن آہستہ آہستہ آپکی عادت بن جائے گی۔سیلف ڈسپلن یہی ہے۔

ناشتہ لازمی کیجیے عمدہ اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ آپکو دن بھر ہشاش بشاش رکھے گا،دوپہر میں مناسب کھانا لیجیے کیونکہ دن بھر کے کام کاج کے وقفے میں اگر آپ بہت بھاری کھانا لیں گے تو شام تک طبعیت تازہ دم نہیں رہے گی بلکہ سستی غالب ہوگی،جبکہ رات کو ہلکا پھلکا سا کچھ کھائیے جو بس اتنا ہو کہ معدہ کو خالی رہنے سے بچائے۔دوسری اہم ترین چیز جو ہمیں جسمانی صحت کے حصول کے لیے درکار ہے وہ ورزش ہے۔ورزش سے آپ خود کو متحرک تو پائیں گے ہی لیکن ساتھ ہی آپکا ذہن پہلے سے زیادہ کام کرنے لگے گا کیونکہ خون کی گردش جب دماغ میں جاتی ہے تو وہ دُگنا کام کرنے لگتا ہے،ضروری نہیں کہ آپ جِم ہی جائیں تو ورزش ہو پائے گی،گھر میں رہتے ہوئے آپ تسلسل اور مستقل مزاجی کے ساتھ اگر صرف چہل قدمی کے لیے ہی روزانہ کے تیس منٹ مختص کر لیں تو آپ اپنے اندر واضح مُثبت تبدیلی دیکھیں گے،منفیت سے نجات ملے گی،تازہ ہوا اندر تک تازگی بھر دے گی،چاہیں تو کوئی بھی آسان سی ایروبک ورزش بھی گھر میں کر سکتے ہیں۔لہذا اگر آپ تادیر چُست،توانا اور ذہنی طور پہ مستعد رہنا چاہتے ہیں تو ورزش/چہل قدمی کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنا لیجیے۔زندگی خوبصورت لگے گی۔

جسمانی صحت کے حصول کے لیے تیسرا اہم نقطہ نیند ہے،جی ہاں۔۔۔آپ کتنا،کب اور کیسے سوتے ہیں یہ سب آپکی صحت پہ اُتنا ہی اثر انداز ہوتا ہے جتنا کہ آپکا کھانا پینا اور ورزش کرنا وغیرہ،رات اللہ سبحان و تعالی نے سونے کے لیے جبکہ دن کام کاج کے لیے بنایا ہے،جبکہ ہم راتوں کو دیر تلک جاگ کر اور دن میں دیر تک سو کر فطرت کے خلاف چل کر حقیقتاً اپنی صحت کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں،رات کے اندھیرے میں جب ہم سو رہے ہوں تو ہمارے جسم سے ایک ایسا ہارمون خارج ہوتا ہے جو ہمیں پُرسکون کرتا ہے۔۔۔لیکن۔۔۔یہ صرف تب خارج ہوتا ہے جب اندھیرے میں ہم سو رہے ہوں یعنی جاگ نہ رہے ہوں،سوتے وقت موبائل فون اور ٹی وی سکرین سے خود کو لازمًا دور رکھیے،کم از کم فون اتنا دور ہو کہ آپکو چل کر فون تک رسائی ہو،کوشش کیجیے کہ عشاء کے بعدسو جائیں اور فجر سے قبل ممکن ہو تو اٹھ جائیں یا پھر فجر کے وقت تو لازمًا اٹھ جائیے،صبح کا بابرکت آغاز دن بھر کی تازگی سے ہمکنار کرے گا،لہذا نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد دیگر امور پہ توجہ دیجیے۔

روحانی صحت:-

ہماری روح پیاسی ہو ،اور اسے غذا نہ ملے لیکن ہم اپنی جسمانی صحت پر بھرپور توجہ دینے والے ہوں تو کیا ہم ایک متوازن اور کامیاب فرد کی صورت میں نمایاں ہو سکیں گے؟؟یقینًا نہیں تو آئیے جانتے ہیں ہماری روح کی غذا کیا ہے۔بحیثیت مسلمان ہم نہایت خوش قسمت ہیں کہ اسلام کی دولت سے مالا مال ہیں،مغرب میں روح کی تسکین کے لیے میڈیٹیشن کا عمل کیا جاتا ہے،مثلاً آپکو کسی ایک خاص نقطے پہ نظر مرکوز کروا کر اسی لمحے میں جینے کو کہا جائے گا،مثلاً آپ آبشار کے گرتے پانی پہ نظر جمائے اسی کو مکمل ارتکاز اور توجہ سے دیکھیں گے اور ذہن کو ہر طرح کی سوچوں سے آزاد کر کے صرف اُن موجودہ لمحات کو محسوس کریں گے۔۔۔۔تو کیا ہم ایسے ارتکاز اور توجہ سے اگر نماز ادا کرنے لگ جائیں کہ سب فکریں سائیڈ پہ رکھ کر فقط نماز پہ مکمل توجہ دیں تو ہماری روح توانا ہو گی؟؟؟یقینًا ہم ایسا کرنے سے دنیا کی سب سے بہترین اور کارآمد میڈیٹیشن کریں گے۔آزمائیے آپ مان جائیں گے۔

اس عمل کے بعد خود سے باتیں کیجیے کہ مجھ میں کیا غلط ہے جسکی اصلاح کرنی ہے،سوچیے جو عبادت آپ میں مثبت تبدیلی نا لا پائے کیا وہ اللہ کو پسند آ جائے گی؟؟اللہ سے باتیں کر کے اپنے مسلے بیان کریں وہ راہیں کھولتے جائیں گے،فطرت میں وقت گزارئیے،کھلی تازہ ہوا اندر اتارئیے،جہاں تک ممکن ہو پودوں کی قربت میں رہیے،کبھی کسی بہتی ندی یا جھیل کنارے بیٹھ جائیے،غرض قدرتی اور خالص مناظر کا حصہ بننے کی کوشش آپکی روح کو سرشاری عطا کر کے آپکو شاد کر دے گی۔صدقہ دیجیے،کسی کی مدد کر دیجیے،جو ہنر یا جو نعمت آپکے پاس ہے اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیے،یہ سب بظاہر چھوٹے چھوٹے عمل ہیں لیکن یہی آپکی روحانی صحت کے ضامن ہیں۔بکثرت دعائیں کیجیے۔

ذہنی صحت:۔
شخصیت سازی میں ذہنی صحت کی مسلمہ اہمیت سے سب ہی آگاہ ہوں گے،اگر آپ اوپر بیان کردہ طریقوں پر کاربند رہے تو ذہنی مسائل کا سامنا کم ہو گا،یاد رکھیے اگر آپکا ذہن منتشر خیالات کی آماجگاہ بن جائے ،آپ زندگی کے منفی پہلووں پہ زیادہ توجہ دینے لگیں ،خیر میں بھی شر نظر آئے،ڈپریشن طاری رہے تو ایسی صورتحال میں آپ اپنی ذہنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہیں گے،اپنے ذہن کو منفیت سے بچانے کے لیے اچھی،عمدہ اور معیاری کتب کا مطالعہ کیجیے۔کتاب دوست انسان کبھی تنہا نہیں ہوتا،روزانہ کچھ وقت کتب بینی میں ضرور لگائیے،اپنے ذوق اور پسند کے مطابق کتاب منتخب کیجیے اور اسے پڑھ کر اپنی ذات کو نکھارنے کے لیے کچھ نا کچھ سیکھیے اور عمل میں لانے کی کوشش کیجیے،کہا جاتا ہے “جو نہیں پڑھتا اور جو نہیں پڑھ سکتا وہ دونوں برابر ہیں”۔

ایسے افراد کی صحبت اختیار کیجیے جو آپکو مثبت طرز عمل کی طرف ابھاریں،جنکے پاس بیٹھ کر آپ خود کو پرسکون محسوس کریں،جنکی گفتگو روشنی کی مانند ہو،ڈپریشن سے نجات کے لیے ہاتھ سے کام کرنا بہت سود مند ثابت ہوتا ہے،پریشان ہیں تو ہاتھوں کو مصروف کر لیجیے،پینٹنگ کیجیے ،سلائی کیجیے،بُنائی کیجیے،کھانا پکا لیجیے،صفائی میں لگ جائیے،غرض ہر وہ کام جس میں ہاتھ حرکت میں رہیں وہ کرنا شروع کردیں آپ دیکھیں گے آپکی پریشانی زائل ہونے لگی ہے،البتہ اگر آپ کے ڈپریشن کا دورانیہ تین ماہ سے بڑھ جائے تو اب آپ کسی ماہر نفسیات سے رجوع کریں کہ آپکو مدد کی ضرورت ہے،اپنے ذہن کو مصروف رکھیں،کیسے؟؟؟؟اپنے اہداف طے کر لیجیے مثلاً یہ کہ آپ آج سے دس سال بعد خود کو کس مقام پہ دیکھنا چاہتے ہیں یہ طے کر لیجیے اور پھر اُس مقام تک پہنچنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کیجیے،یوں آپکے ذہن کو یکسوئی سے اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے ایک صحیح راستہ مل جائے گا اور آپ بہت سی ذہنی پریشانیوں سے محفوظ رہ پائیں گے۔اخلاقی برائیوں حسد،جھوٹ،کینہ،غیبت،چغلی وغیرہ سے بچنے کی کوشش بھی آپکے ذہنی سکون کو جِلا بخشے گی۔

لوگوں کے ساتھ تعلقات:۔

جی ہاں سب سے زیادہ صبر آزما مرحلہ جو آپکی شخصیت پہ کی گئی تمام محنت کا عملی امتحان لیتا ہے،اپنے ارد گرد موجود افراد سے تعلق،ہماری لڑائی،جھگڑے وغیرہ زیادہ تر گھر میں ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں نا کہ دوست احباب سے،اسی لیے اللہ سبحان و تعالی نے صلہ رحمی پہ بہت زور دیا ہے،جذباتی کنٹرول رشتوں کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔گھر میں ہوں یا گھر سے باہر بس یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے کہ جیسے آپ اپنی ذات میں منفرد ہیں ویسے ہی ہر شخص اپنی الگ پہچان رکھتا ہے جو دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔اس چیز کو قبول کر لینے کے بعد آپ میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی ہمت بڑھ جائے گی۔اس حقیقت کو سمجھیے اور قبول کیجیے کہ تعلقات ہمیشہ انا سے زیادہ اہم ہوتے ہیں،ایک چھوٹا سا انگریزی محاورہ ہے agree to disagree یعنی آپ دوسرے کے کسی بات پہ متفق نہ ہونے کو قبول کیجیے لیکن قطع تعلقی مت کیجیے۔

اپنا موقف نرمی سے واضح کیجیے ،دلائل بھی دیجیے،اور اپنی بات بھی منوائیے لیکن نرمی سے،چلائیے مت،آپکی آواز اور الفاظ کے انتخاب سے لے کر آپکی حرکات و سکنات میں بھی شائستگی اور نرمی کا عنصر نمایاں ہونا چاہیے۔کوئی زیادتی کر دے تو معاف کر دیجیے،اللہ کی خاطر اور اپنے سکون کی خاطر۔۔۔۔مشکل ضرور ہے لیکن اللہ سبحان و تعالی سے استقامت کی اور نرمیِ دل کی دعا مانگتے رہیے،یاد رکھیے نفسیات ہمیں ہمیشہ اپنی ذات پہ کام کرنے پہ اُکساتی ہے کہ اپنی فکر کیجیے دوسروں کی فکر مت کیجیے،آپ کی ذات سے بس خیر عطا ہو مقابل بھلے شر انگیز ہو وہ آپکا مسلۂ نہیں،آپ خود کو اتنا مضبوط بنائیے کہ جیسے ایک چھتناور درخت جو ٹھنڈی میٹھی چھایا بھی دیتا ہو اور میٹھا پھل بھی،اس سے قطع نظر کہ اسے کاٹا جا رہا ہے،توڑا جا رہا ہے،وقت پہ پانی مل رہا ہے یا نہیں۔

وقت کی تنظیم:۔

وقت کو استعمال کرنے کے طریقے سے اگر ہم ناواقف ہوں تو سمجھیے کچھ بھی درست نہیں ہونے والا،کیونکہ جب آپکو علم ہی نا ہو گا کہ کون سا کام کب اور کتنی اہمیت کا حامل ہے تو آپ وقت سے صحیح فائدہ اٹھانے سے قاصر رہیں گے۔آپ وقت کے صحیح استعمال کے لیے کاموں کی تقسیم اس طرز پہ کیجیے۔فوری ضروری اور اہم:۔وہ کام جو اہم ہونے کے ساتھ ساتھ فوری طور پہ کرنے والے ہوں جیسے کہ کوئی اچانک درپیش آ جانے والی ایمرجنسی کی صورت جہاں آپکی موجودگی ضروری ہو یا کوئی اور ایسی ہی اہم اور اشد ضرورت ،ان کاموں کے لیے آپ فورًا وقت نکالیے۔

فوری ضروری نا ہوں لیکن اہم:۔ ایسے کام جو اہم تو ہوتے ہیں لیکن فوری طور پہ نہ بھی کیے جائیں تو کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا،ایسے کام آپ کوشش کیجیے کہ کسی بھی فرصت کے لمحے میں سرانجام دے دیں،قبل اس کے کہ ان کاموں کی آخری تاریخ آن پہنچے اور وہ اہم کام آپکی سستی یا لاپرواہی سے فوری طور پہ بھاگم بھاگ کرنے پڑیں ۔جیسے کہ بجلی کے بل جمع کروانا،راشن لانا،اسائمنٹ جمع کروانا وغیرہ۔۔۔۔اور اپنی روز مرہ کی روٹین کے تمام کام۔

فوری ضروری لیکن غیر اہم:۔اس میں وہ کام جو فوری کرنے والے تو ہوں لیکن اہم نا ہوں جیسے کہ آپ نے کسی کے ساتھ بازار جانا ہے یا کوئی چیز کھانے کو بے حد دل چاہ رہا ہے لیکن چیز پاس نہیں تو یہ فوری ضروری تو ہے لیکن اہم نہیں کہ انکے پیچھے آپ دیگر اہم کام ملتوی کر دیں۔لہذا ایسے کاموں کو آپ سنجیدہ اور ضروری اہم نوعیت کے معاملات پہ فوقیت نہیں دے گے۔غیر اہم اور فوری ضروری بھی نا ہوں:۔ ایسے کام جو نا تو اہم ہوں اور نا ہی فوری طور پہ کرنا ضروری ہوں ان پہ وقت ضائع مت کیجیے۔بس اسی طرح کاموں کی ترتیب بنا کر انکو تقسیم کیجیے اور وقت کا بھرپور فائدہ اٹھائیے۔