خس و خاشاک زمانے- محمد انس اعوان

مستنصر حسین تارڑ عہد حاضر کی ایک بڑی ادبی شخصیت ہیں اور اردو ادب میں وہ بالخصوص سفرنامے، داستاں گوئ اور ناول نگاری کی بدولت اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں.. تارڑ صاحب کے پاس لفظیات، تشبیہات اور مختلف تراکیب کا ایک بیش بہا خزانہ ہے جس کو وہ موتیوں کی مانند ایک مالا میں پرونے کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں۔

شہرہ آفاق ناول "خس و خاشاک زمانے " میں وہ نصف صدی کے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر اپنی تحریر میں صدیوں اور دہائیوں کے حالات و واقعات کو یوں سمیٹ دیتے ہیں کہ پڑھنے والا ان میں گم ہوکر رہ جاتا ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق "خس و خاشاک زمانے" کو اس دہائ کے بہترین ناولز کی فہرست میں سرفہرست رکھا گیا ہے اور اس کی وجہ محض یہ نہیں ہے کہ یہ ایک طویل ناول ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ایک ناول میں کئ خاندانوں کی، کئ نسلوں کی، کئ علاقوں کی، کئ شناختوں کی، کئ نظریات کی اور کئ تاریخی روایات کی ایک طلسماتی دنیا آباد ہے۔

ایک پر تکبر لیکن لڑکھڑاتے ہوئے مرغے سے شروع ہونے والی کہانی جس انداز میں پنجاب کی پوری تہذیب، تاریخ، رسم و رواج اور اس مٹی میں بسنے والے انسانوں کی نفسیات کا گہرا جائزہ پیش کرتی ہے اس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔

ناول کے ابتدائ حصے میں طبقاتی نظام، شریکوں کے روایتی جھگڑے اور دیہاتی و شہری زندگی کے مختلف پہلوؤں کا دقیق مشاہدہ پیش کیا گیا ہے...ناول کی ابتداء پنجاب کی اس تہذیب کی عکاس ہے جس کی جڑیں ذات پات کے نظام کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھیں اور جاٹ چاہے مسلمان تھے یا سکھ تفاخر کی علامت سمجھے جاتے تھے اور ان کے لیے ان کا پہلا مذہب ان کی "زمین" ہی تھا، وہ اپنی زمین کو اپنی جان سے زیادہ محبت کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے اس کو سنوارنے کو دنیا کا سب سے اعلی درجے کا کام سمجھتے تھے اور اس فلسفے پر یقین رکھتے تھے کہ( " ہر بُوٹا اپنی مٹی کے ساتھ مٹی ہو جانے والے کسان کے لیے زندہ ہوتا ہے۔ صرف وہی فصل جاندار ہوتی ہے جو مشقت اور محبت کے پانیوں سے سینچی جاتی ہے ۔

ایک کسان نہ صرف اپنے مویشیوں سے گفتگو کرتا انھیں اپنے ہر دکھ سکھ میں شریک کرتا ہے بلکہ وہ اپنی زمین کی کوکھ میں سے جنم لینے والے ہر بوٹے سے بھی گفتگو کرتا ہے ۔گندم کے ہر خوشے کے ساتھ رازونیاز کرتا ہے ۔ جیسے ایک درویش کے ساتھ جنگل کا ہر گل بوٹا ، ہر شجر اور ہر پتھر کلام کرتاہے ۔ ایسے ہی کسان کے ساتھ بھی گندم کا ہر خوشہ اور ہر بوٹا اس کی باتوں کے جواب میں چپ نہیں رہتا ۔ جواب دیتا ہے ، کلام کرتا ہے ۔۔۔۔اور یہی ہم کلامی ان دونوں کی حیات کاسبب ہوتی ہے ۔")

لیکن ان کے لیے کسی کا حق مارنا، کسی اور کی زمین پر قبضہ کر لینا، چوری چکاری، بہادری اور مردانگی کی علامت تھا جبکہ تعلیم حاصل کرنا بے وقوفی اور نیچ کام سمجھا جاتا تھا..یہ اس معاشرے کی کہانی ہے جس کا معاشی نظام ہندو بنیے کے ہاتھ میں تھا اور جاٹ زمینداروں کی عیاشیوں کی بدولت ان کی زمینوں کا بڑا حصہ ہندو بنیے کے پاس گروی رکھا ہوتا تھا۔ اس ناول کے دوسرے حصے میں برصغیر کی تقسیم، تقسیم کے اندوہناک واقعات کی، پاکستان کے ابتدائی سالوں کی، مہاجرین کی مشکلات کی، سقوط ڈھاکہ کی، جنگوں کی، نسلی بحران کی، آمریت کی، سیاست کی منظر کشی کی گئ ہے۔

تو "آخری حصے" میں تہذیبوں کے تصادم کے نتیجے میں جنم لینے والے مسائل کو بیان کیا گیا ہے اور ان افراد کی داستان پیش کی گئ ہے جو اپنی شناخت اور مذہب سے پیچھا چھڑاتے اور اپنے نظریے اور سوچ کی حفاظت کی خاطر اپنے وطن سے دور جا بسےلیکن ان سب سے، وہ اپنے آبائ وطن سے باہر جا کر بھی پیچھا نا چھڑوا سکے ... ناول کا قاری کوٹ ستار، دنیاپور، نت کلاں، دریائے چناب، یزمان منڈی، لاہور، محلہ قادر بخش، ماڈل ٹاؤن سے ہوتا ہوا امریکہ اور کینیڈا کی اس دنیا میں پہنچ جاتا ہے جو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے حادثہ کے بعد وہاں بسنے والے ان سب مسلمانوں کے لیے ایک نئ دنیا اور ایک نئ حقیقت کا اجنبیت بھرا روپ دھار لیتی ہے ایک ایسی دنیا جہاں ان کی شناخت صرف اور صرف ایک "دہشت گرد" رہ جاتی ہے۔

70 سے زیادہ کرداروں میں مرکزی کردار ڈھونڈنا مشکل ہے ہر کردار ہی اتنا پختہ ہے کہ اپنے ساتھ ایک مکمل بیانیہ لیے ہوئے ہے کچھ کے نزدیک "بخت جہاں" مرکزی کردار ہے جو ایک گبھرو اور اکھڑ مزاج جاٹ ہے جس کے تیکھے نین، چمکتی آنکھیں اور تکبر میں ڈوبا ہوا دراز قد اس کا تعارف ہے جو عیاشیوں میں گھرا رہنے والا شخص ہے اتھری گھوڑیوں اور عورتوں کا یہ رسیا اپنے جگری یار کی بیوی امرت کور سے شادی کرلیتا ہے جس کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ رن تلوار اور گھوڑی کسی کے سگے نہیں ہوتے اور ساری زندگی عیاشی میں گزارنے کے بعد آخری وقت بہت تکلیف و اذیت میں گزارتا ہے اور گہرے صدمات اس کو لاغر کردیتے ہیں اور وہ مانگ تانگ کر گزارہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے تقسیم برصغیر اس کو توڑ کر رکھ دیتی ہے اور اس کے بعد سقوط بنگال اور ٹائگر نیازی کا ایک کم ذات سکھ جنرل اروڑہ کے سامنے سرینڈر، اس کے بھائ محمد جہاں کے کنویں سے نکلنے والے "بونوں کے راج" کی پیش گوئی کو سچ ہوتا دیکھ کر وہ برداشت نہیں کرپاتا اور ان کو مخصوص گالیاں دیتا ہوا اپنے ویہڑے میں ہی مرجاتا ہے۔

صاحباں جو کہ بخت جہاں کی سگی بیٹی ہے اس کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے زریعے ایک فلسفہ حیات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئ ہے کہ ایک ایسی لڑکی جو معذور پیدا ہوئ آخر وہ خدا کو کیوں مانے اور مذہب کی اہمیت و ضرورت کو کیسے محسوس کرے.۔شیشم کے بلند شجر کی ٹہنیوں سے بندھا جھولا اور اس پر جھولتی ماہلو جو کہ محمد جہاں کی حسین ترین بیٹی جس کو ایک نظر دیکھتے ہی جاگیردار امام بخش اس کا عاشق ہوگیا اور اس کی موت کے ساتھ ہی خود بھی مرگیا محبت کی ایک لازوال داستان ہے جو یہ سبق لیے ہوئے ہے کہ محبت چھینی نہیں جاسکتی ۔

"سرو سانسی" بھی ایک اہم کردار ہے جس کا تعلق سانسیوں کے ایک ایسے قبیلے سے ہوتا ہے جو مردار کھاتے ہیں اور مذہب اور قومیت کے دائرے سے آزاد ہوتے ہیں معاشرے میں ان کو اچھوت سمجھا جاتا تھا مگر وہ اپنی اس شناخت کے ساتھ خوش ہوتے ہیں اور اپنا ایک علیحدہ فلسفہ حیات رکھتے ہیں۔"امیر بخش " کو بھی اس کہانی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ایک گبھرو نیلی آنکھوں والا نوجوان جس کے لیے تعلیم نے بڑی مشکلات کھڑی کر دی اور جس نے اپنی زندگی کا سبق خوشی محمد تھانیدار کے کتوں سے سیکھا اور ایسا سیکھا کہ ساری عمر بھلا نا سکا اس کے زخموں سے بہنے والا خون اس کے لیے بیک وقت راحت اور اذیت کا سامان تھا، خوشی محمد کے کتوں کے آگے بھاگتے ہوئے اس نے زندگی کے فلسفے کو سمجھا لیکن جب اس نے اپنی حیاتی میں ہی خوشی محمد کو اپنے سامنے بے بس اور لاغر دیکھا تو جان گیا کہ یہ دنیا سراسر مکافات عمل سے لبریز ہے... اس کے نزدیک مذہب، شناخت، قومیت، وطن یہ سب آزادی کی راہ کے پھندے تھے، ان سب کی کوئی وقعت نا تھی، اس کی شادی محمد جہاں کی بیٹی نور بیگم سے ہوتی ہے۔

عزیز جہاں محمد جہاں کا لاڈلا بیٹا تھا جو اپنے چاچے بخت جہان کے قہر سے بچنے کے لیے ایک مزدور بننے پر مجبور ہوجاتا ہے اور ایک نیچ ذات عورت پشپی سے شادی کرلیتا ہے۔ اکبر جہاں بخت جہاں کا سگا بیٹا ہے جو اس کی بیوی بھاگ بھری کے بطن سے پیدا ہوتا ہے لیکن جب دوسری شادی پر بھاگ بھری اس کو چھوڑ کر جاتی ہے تو اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتی ہے، اکبر جہاں ساری زندگی اپنے باپ سے نفرت میں گزار دیتا ہے جبکہ اپنے شریکوں کے ڈر سے وطن چھوڑ کر کینیڈا چلا جاتا ہے اور وہاں اپنی نئ زندگی کا آغاز کرتا ہے اور آخر میں خودکشی کرلیتا ہے۔

"انعام اللہ"،" پیچو سانسی "یا لبھا سنگھ بھی اس کہانی کا اہم کردار ہے جو سرو سانسی کو مسجد کی سیڑھیوں سے ملتا ہے اور اس کو سب مشترکہ طور پر پالتے ہیں اور جو اپنے آزاد خیالات کی بدولت وطن چھوڑ جاتا ہے اور ایک ناول نگار بن جاتا ہے اس کے ذریعے ہی تارڑ صاحب نے اپنی کہانی کو بڑھایا ہے اس کے ناول کے کینوس میں ہی مغربی معاشرہ کے غلیظ پہلو سامنے آتے ہیں اور 9/11 سے پہلے اور بعد کی دنیا کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

بہرحال فلیش بیک تکنیک کے ذریعے جس طرح کہانی کو بیان کیا گیا ہے اور بے شمار کرداروں کے باوجود ایک ایسے ربط میں رکھا گیا ہے کہ کوئی بھی کردار قاری کے ذہن سے زرا بھی محو نہیں ہوتا، کہانی کو اور بھی جاندار بنا دیتا ہے اور یوں پڑھنے والوں کی دلچسپی قائم رہتی ہے۔جہاں تک ناولوں کی درجہ بندی کی بات ہے تو اس کا انحصار اس پر ہے کہ ناول کو کس معیار پر پرکھا جارہا ہے ہر بڑے ناول میں کچھ ایسی امتیازی خوبیاں ہوسکتی ہیں جو کسی دوسرے ناول میں نہ ہوں تمام ناولز اپنی اپنی جگہ پر ممتاز ہو سکتے ہیں، بڑے ناولوں میں بہت سی خوبیاں ہوتی ہیں لیکن ان میں خامیاں بھی تلاش کی جاسکتی ہیں. قارئین کی بھی اپنی پسند و ناپسند ہوسکتی ہے اور انہیں اس کا اختیار حاصل ہے۔

میرے نزدیک تارڑ صاحب کا یہ ناول اردو کے بڑے ناولوں میں سے ایک ہے لیکن بعض مقامات پر ہونے والی تفصیلی بحث اور فلسفہ غیر ضروری سا محسوس ہوتا ہے، نظریات کو اور تاریخی واقعات کو جس انداز سے دکھایا گیا ہے اس میں جانبداری کی جھلک نظر آتی ہے۔

بہرحال ناول کی عظمت کا فیصلہ تو وقت ہی کرتا ہے وقت کی کسوٹی پر ہی ہم کسی بھی ناول کو پرکھ کر دیکھتے ہیں کہ یہ ناول کتنا عظیم ہے اگر وہ دہائیوں کے بعد بھی معاشرے میں اپنی حیثیت کو قائم رکھے اور زمانے کے لحاظ سے اس ہی طرح متعلقہ ہو جیسا کہ وہ اپنی ابتداء میں تھا تو بلاشبہ وہ ایک بڑا ناول ہے اور "خس و خاشاک زمانے" میں یہ خاصیت نظر آتی ہے کہ وہ وقت کی کسوٹی پر پورا اترسکے گا....