امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

28جنوری 2020ء کو امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی البیت الابیض(White House) میں ایک پریس کانفرنس کے اندر’’امن منصوبے‘‘کااعلان کیاہے۔یعنی اس منصوبے پرعمل کرلینے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن قائم ہوجائے گا۔اس منصوبے کی تیاری نومبر2017ء سے جاری تھی۔منصوبے کی تیاری میں امریکی صدرکے یہودی دامادکابنیادی کرداررہاہے جو اس کمیٹی کاسربراہ تھاجس نے یہ منصوبہ تیارکیا۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کایہ دامادجیراڈکوشنار(Jared Kushner)پیشے کے اعتبارسے پراپرٹی ڈیلرہے۔ٹرمپ کی بیٹی ایوانکاٹرمپ(Ivanka Trump) شادی سے قبل مذہب یہودیت میں داخل ہوئی۔اس طرح یہ یہودی جوڑاامریکی فیصلہ سازاداروں میں براہ راست دخیل ہوگیا۔امریکی صدر کے دامادکو کبھی بھی مشرق وسطی کی سیاست کاتجربہ نہیں رہا،اور اس پر مستزادیہ کہ اس امن منصوبے کی تیاری میں فریق ثانی یعنی فلسطینی مسلمانوں سے بھی کسی مشاورت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

منصوبہ بنانے والی کمیٹی کاایک رکن اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر بھی تھا۔ڈیوڈ فریڈمین( David Friedman)نامی اس سفیر کے اسرائیلی تعمیراتی کمپنیوں کے مالکان سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ایسے تعلقات سے ناجائزمالی مفادات کاحصول اب کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔اس پس منظرمیں یہ امر سمجھناآسان ہو جائے گا کہ نومبر2017ء میں اس منصوبے پر کام شروع ہوجانے کے فوراََبعد دسمبر2017ء میں امریکی صدرنے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت کیوں مان لیاتھا۔منصوبوں،تجاویز،مزاکرات،قراردادوں اور معاہدوں کے نام پر امت مسلمہ کے خلاف سازشیں کرنایہودونصاری کا وطیرہ رہاہے اور سیکولرازم نے انسانیت سوزان فیصلوں پراپنی مہرتصدیق ثبت کی ہے۔

اسی امن منصوبے کامعاشی حصہ جون 2019ء میں بحرین کے شہر ’’مانامہ‘‘میں امریکہ کے تحت منعقدکی گئی امن کانفرنس میں پیش کیاگیاتھا،اس کابدترین ردعمل دیکھنے میں آیا اور فلسطینیوں نے اس کانفرنس کا مکمل طورپر بائکاٹ کردیااور فلسطینی راہنما اسمئیل ہانیہ نے عرب راہنماؤںپر سخت تنقیداورنہایت افسوس کااظہارکیاتھاکہ انہوں نے اس کانفرنس میں کیوں شرکت کی۔28جنوری2020ء کی پریس کانفرنس میں امریکی صدر کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم بھی موجود تھے۔اس پریس کانفرنس میں عمان،بحرین اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں نے بھی شرکت کی جبکہ فلسطینی مسلمانوں کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔

منصوبے کے اہم نکات بتاتے ہوئے امریکی صدر نے کہاکہ اسرائیل کا دارالحکومت بیت المقدس ہی ہوگا،منصوبے کے مطابق اسرائیل کی غیرقانونی یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی اوراس کے بدلے اگلے چارسالوں تک اسرائیلی حکومت پابندرہے گی کی کوئی نئی یہودی بستی تعمیر نہ کی جائے۔اس منصوبے کے تحت اسرائیل اور فلسطین کے نئے نقشے بھی امریکی البیت الابیض نے جاری کر دیے گئے ہیں۔بی بی سی کے مطابق یہ دوریاستی منصوبہ ہے جس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کااشارہ بھی موجود ہے لیکن یہودی بستیوں کی تعمیر بھی اس منصوبے کاحصہ ہے۔بی بی سی نے اپنی رپوتاژمیں کہاہے کہ اس منصوبے میں امریکی صدر نے وعدہ کیاہے کہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل نہیں کیاجائے گا۔منصوبے کے مزید نکات کچھ اس طرح سے ہیں:

ٌ۔مجوزہ اسرائیلی علاقوں کو امریکہ مکمل طورپر اسرائیلی ریاست حصہ تسلیم کرے گا۔

ٌ۔امریکی صدرکے مطابق اس منصوبے میں فلسطینیوں کا رقبہ دوگناہوجائے گا۔

ٌ۔فلسطین کا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں کھولاجائے گااور امریکہ بھی وہاں اپنا سفارت خانہ قائم کر لے گا۔

ٌ۔امریکی صدر نے اس منصوبے کو فلسطینی ریاست کا پیش خیمہ قرار دیاہے جس کے بعد مستقبل میں اسے آزادریاست کادرجہ حاصل ہوگا لیکن اس کی تفصیلات منصوبے میں کہیں بھی موجود نہیں ہیں۔

ٌ۔منصوبے کے مطابق عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی کنارے میں تعمیرشدہ ناجائزیہودی بستیاںقائم رہیں گی۔

ٌ۔اسرائیل اور اردن کی حکومتیں مل کر حرم بیت المقدس کاانتظام چلائیں گی۔

ٌ۔منصوبے میں فلسطینیوں کے لیے مجوزہ مقامات اگلے چارسالوں کے لیے کھلے رہیں گے اوروہاں فلسطینیوں کی آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔

ٌ۔فلسطینی مجوزہ مقامات میںاگلے چارسالوں تک یہودی تعمیرات ممنوع ہوں گی۔

ٌ۔ان چارسالوں میں فلسطینی قیادت اسرائیلی حکومت کے ساتھ مزاکرات کر کے مجوزہ آزادفلسطینی ریاست کے خدوخال اورخودمختاری و آزادی کی حدودوقیودطے کرلے۔

اس منصوبے پر اسرائیلی ریاست میں شادیانے بجائے جارہے ہیں۔اسرائیلی حکومت تواپنی کامیابی پرکو خوش ہے ہی لیکن اسرائیلی حزب اختلاف بھی اس منصوبے پرخوشی میں پھولی نہیں سمارہی ہے۔اسرائیلی حکومت اس منصوبے کی حمایت کے لیے دنیابھرمیں رابطے کررہی ہے۔بڑی صاف سی بات ہے کہ جب اسرائیلی حکومت کے مفادات کا تحفظ کیاجائے گا تووہ آخر کیوں نہیں خوش ہوں گے۔جس منصوبے کاایک حرف اسرائیل کی آشیربادسے تحریرکیاگیاہووہ توقبل از اعلان ہی قبول ہوگا۔یہودی اس لیے بھی خوش ہیں کہ منصوبے میں اسرائیلی حکومت کی حاکمیت اعلی کو فلسطینی مسلمانوں پر زبردستی مسلط کیاگیاہے۔

منصوبہ اس چابکدستی سے بنایا گیاہے اسرائیل کے تمام غلط ،استحصالی اورناجائز و ظالمانہ اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کردیاگیاہے اور فلسطینیوں کو چارسال کی مہلت دی گئی ہے کہ اسرائیل سے بھیک مانگتے رہیں۔منصوبے میں کہیں نہیں کہاگیا اقوام متحدہ کی کم و بیش نوسوقراردادیں جواسرائیلی حکومتوں نے جوتے کی ٹھوکر پر ڈال رکھی ہیں ،ان پر عمل کیاجائے۔اس کے مقابلے میں کسی بھی اسلامی ملک پر حملے کے لیے امریکہ کو اقوام متحدہ کی قرادادیں بڑے شدومد سے یادآجاتی ہیں۔یہ منصوبہ امن منصوبہ نہیں ہے بلکہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تعدی اورجبرواکراہ کے مزید دروازے کھولنے والی تحریر ہے۔منصوبے کی تیاری میں اگر فلسطینیوں سے مشاورت کی جاتی تو کسی متوازن یاقابل قبول مسودے کی تیاری ممکن ہوسکتی تھی،لیکن یک طرفہ مفادات کے تحفظ والی دستاویزکو امن منصوبہ کہنا بجائے خودایک زیادتی متصورہوگی۔

ادھرفلسطینی قیادت نے یہ منصوبہ سختی سے یکسرمسترد کردیاہے اورکہاکہ فلسطین برائے فروخت نہیں ہے،فلسطینی قیادت نے امریکی صدر کے اس دعوے کوبھی مسترد کر دیاہے کہ فلسطینی ریاست کارقبہ دوگناہو جائے گا،فلسطینیوں کاکہناہے کہ اس طرح ہمارے حصے میں صرف 15%فلسطینی رقبہ رہ جائے گا۔فلسطینی قیادت نے حرم بیت المقدس کے انتظام میں اسرائیلی مداخلت کو بھی مسترد کردیاہے ۔اس وقت اردن کا ایک ٹرسٹ حرم کے جملہ انتظامات کا نگران ہے۔فلسطینی مقتدرہ کے صدرمحمودعباس نے کہاہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کو کئی حق نہیں کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق غصب کرے،انہوں نے کہاہے کہ ماضی کے دیگرمعاہدوں اورمنصوبوں کی طرح یہ بھی ردی کی ٹوکری میں چلا جائے گا۔

حماس کے راہنما اسمئیل حانیہ نے بھی کہاہے کوئی بھی مسلمان بیت المقدس پر یہودی قبضہ قبول نہیں کرے گا۔عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل ابوالغیط نے اپنے ایک بیان میں اس امن منصوبے کو فلسطینیوں کے حقوق کی بڑے پیمانے پربربادی کہاہے۔ترک حکومت نے بھی اس منصوبے کو جانبدارانہ قراردے کرمسترد کردیاہے۔ترکی کے وزیراعظم جناب طیب اردگان نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یروشلم صرف مسلمانوں کاہے اور اس شہرکی تقسیم قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اس منصوبے میں فلسطینیوں کے حقوق کاتحفظ نہیں کیاگیا۔

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ شریرلوگ دنیاکے مالک بن جائیں گے۔جب سے امریکہ کی موجودہ قیادت برسراقتدارآئی ہے مسلمانوں پر دن بدن عرصہ حیات تنگ کیاجارہاہے۔ازشرق تاغرب جہاں بھی امریکہ خود حملہ کرسکتاہے وہاں دیرنہیں لگاتا اور جہاں ممکن نہ ہو وہاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کاسہارالے کر دیگرملکوں کی افواج کو بھی اپنے ساتھ ملا کر مسلمان بستیوں پر چڑھ دوڑتاہے۔ایک وقت تھا کہ جب مسلمانوں کے اندرپڑھے لکھے باشعورطبقے بھی امت مسلمہ کے وجودکوتسلیم نہیں کرتے تھے اور دبے دبے لفظوں میں سامراج کی حمایت کرتے تھے۔لیکن اب مسلمانوں کے اندر احساس محرومی نے کل طبقات کو مجتمع کر دیاہے۔اس وقت کل امت حدیث نبوی ﷺکے مطابق ایک جسم کی شکل اختیارکر چکی ہے۔

طوفان مغرب نے امت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ایک ہی تسبیح میں پرودیاہے۔بہت جلد عرب کے صحراؤں سے ایک بار پھر اسلامی نشاۃ ثانیہ کی قیادت سراٹھانے والی ہے اور امت کے ہراول دستے کے ساتھ مل کر یہ قیادت یہودوہنودونصاری کے سازشی ناپاک وجودسے اس کرہ ارض کو پاک کردے گی اور دنیادیکھے گی کہ طاغوت کے یہ بلندوبالا بت خش و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گے اور مستقبل کامورخ حیران ہوگا کہ کتنی آسانی سے زمیں بوس ہوجانے والا باظل نظام آخر کھڑا کیسے تھا؟؟؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */