ہم سا ہو تو - مدیحۃالرحمن

پان کا پتہ منہ میں دبائے شبن بوا سر نیہواڑے بیٹھی تھیں کہ ماہم کی چیخ نے ان کو ہڑبڑانے پہ مجبور کر دیا۔اے ہئے۔کیا ہوا کمبخت ماری؟اب کیا مصیبت ٹوٹ پڑی،مجال ہے جو یہ لڑکی کبھی نچلا بیٹھ جائے،پان کی پیک تھوکتے ہوئے وہ ناگواری سے بولیں،آنکھوں پہ لگا موٹا چشمہ ناک پہ ٹکاتے ہوئے کھوجتی نظریں ماہم کی متلاشی ہوئیں ۔

سامنے سے آتی ماہم کو دیکھ کر انکا پارہ ایک بار پھر چڑھ گیا کہ وہ دوپٹّے میں کچے آم سمیٹے،چھِلے ہوئے بازو کو سہلاتی،منہ بسورتی باغیچے سے برآمد ہو رہی تھی۔اے لو۔تم نا باز آنا بی بی اپنی بچکانہ حرکتوں سے،کتنی بار منع کیا ہے کہ درختوں پہ چڑھنا چھوڑ دو لوٹھا کی لوٹھا ہو گئی پر عقل نام کو نہیں،کسی دن ٹانگ بازو تڑوا بیٹھنا اور ہمارے لیے نیا مسلۂ تیار کر دینا،شبن بوا جو بولنا شروع ہوئیں تو صحیح طرح لتے لے کر ہی چپ ہوئیں۔
جوابًا ماہم بنا کوئی جواب دئیے تیزی سے اندر بڑھ گئی کہ اب شبن بوا کو جواب دینا ایسا ہی تھا جیسے اوکھلی میں سر دینا اور اتنی عقل بہرحال اُسے تھی کہ چپ رہنے میں ہی عافیت ہے۔

شبن بوا پچھلے تیس سال سے فاروق غنی کے گھر کام کر رہی تھیں اور بلاشبہ سب انکو گھر کا ایک فرد سمجھتے تھے،اب ڈھلتی عمر میں ان کا مزاج خوب شاہانہ اور کسی حد تک جارحانہ ہو گیا تھا،سو ماہم،احمد اور عبیرہ کی کسی نا کسی بات پہ شامت آئی رہتی اور فاروق صاحب اور بیگم فاروق مسکراتے رہتے کہ وہ جانتے تھے کہ شبن بوا ناحق غصہ نہیں کرتی تھیں،ماہم خیر سے اب یونیورسٹی جانے لگی تھی،احمد بھی کالج کا طالبعلم تھا جبکہ عبیرہ دسویں جماعت کے امتحانات دے کر فارغ تھی آجکل۔لیکن تینوں بہن بھائیوں میں سب سے سنجیدہ اور سمجھدار عبیرہ ہی تھی،ماہم شرارتی سی ،نٹ کھٹ اور خوش مزاج طبعیت کی تھی جبکہ احمد کو سب ہی گھُنّا مانتے تھے کہ وہ بظاہر جتنا معصوم اور شریف دِکھتا تھا اتنا درحقیقت تھا نہیں۔

چھوٹا سا آنگن خوشیوں کے ہنڈولے میں جھول رہا تھا۔آج بہت دن بعد سورج نکلا تھا،روپہلی،سنہری کرنیں چار سُو بکھری تھیں اور انکی تمازت گونہ سکون کا باعث بن رہی تھی،بڑا سا صحن دھوپ سے چمک رہا تھا اور دائیں طرف بنے ننھے سے باغیچے کی رونق الگ ہی چھب دکھلا رہی تھی کہ درختوں پہ طوطوں کا راج تھا اور ادھ کھائے امرودں کی اندرونی سرخی دھوپ میں خوب نمایاں ہو رہی تھی،گلاب کے پودوں نے اطراف میں دلربا خوشبو بکھیر رکھی تھی اور کل کی برسی بارش سے گیلی مٹی اب نرم گرم دھوپ میں سوندھی سوندھی مہک کا باعث بن کر ماحول خوب پُرکشش بنا رہی تھی۔آم کے درخت بھی شان سے یوں ایستادہ تھے کہ جیسے دھوپ انکے اعزاز میں نکلی ہے۔سردیوں کی پہلی بارش کے بعد پہلی چمکیلی صبح اپنے اندر فطرت کے بے پناہ دلکش رنگ سموئے ہوئے تھی۔

شبن بوا نے صحن میں بچھے تخت پہ ماہم کو پکڑ کر بٹھایا ہوا تھا اور اسکے سر میں تیل کی مالش کر رہی تھیں جبکہ وہ ناک چڑھائے اس انتظار میں تھی کہ کب تیل لگے اور کب وہ باغیچے سے امرود توڑے۔شام کے کھانے میں بوا نے آلو قیمہ اور موسم کی مناسبت سے گاجر کا حلوہ بنایا تھا،ان کے ہاتھ میں خوب ذائقہ تھا کھانے کا لطف دوبالا کرنا انکو خوب آتا تھا،بہت عمدگی اور سلیقے سے کھانا چُنتی تھیں،کھانے کے دوران ہی فاروق صاحب نے ماہم کو مخاطب کیا اور بولے “ہاں بھئی آگے کیا ارادہ ہے آپکا؟”ماہم سے پہلے بیگم فاروق بولیں اسکا ارادہ کیا پوچھتے ہیں بس اب ماسٹرز کر لیا کوئی اچھا سا رشتہ ڈھونڈیں اور شادی کی فکر کریں بہت پڑھ لیا،ماہم نے ناک سکوڑی تھی جبکہ احمد اور عبیرہ نے مسکراہٹ دبائی تھی۔بوا بھی فاروق صاحب کی بیگم کی ہمنوا تھیں سو فاروق صاحب نے پُر سوچ انداز میں کندھے اُچکائے تھے۔

وہ ایسا ہی ایک سہانا دن تھا،ٹھنڈی ہوا کے جھونکے فضا میں خنکی پیدا کر رہے تھے،آج ماہم کو دیکھنے سعیدی صاحب کی فیملی آ رہی تھی،سعیدی صاحب کی فیملی سے فاروق غنی کا پرانا تعلق تھا لیکن پھر غمِ روزگار نے دونوں دوستوں کو جدا کر دیا،اور اب کچھ عرصہ قبل ہی ان کا تبادلہ دوبارہ اپنے شہر ہوا تو گویا یادوں کی ٹوکری سے پھولوں کی مانند یادیں چاروں اور بکھرنے لگیں،جب یہاں سے رختِ سفر باندھا تھا تو جوانی کی شوریدہ سری اپنے عروج پہ تھی،بچے چھوٹے تھے اور ذمہ داریاں نسبتًا کم تھیں سو فارغ وقت میں دوستوں کی محفل خوب جمتی فاروق غنی صاحب سے تعلق بھی انہی دنوں اُستوار ہوا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ پائیدار تعلق میں تبدیل ہو گیا،روابط کم رہے لیکن مستقل رہے اور یہی انکی دوستی کا حسن تھا۔

ماہم سلیقے سے سر پہ دوپٹہ جما رہی تھی کہ اچانک باہر سے آنے والی آوازوں اور سلام دعا کے شور سے یکبارگی اس کا دل زور سے دھڑکا۔مہمان آ چکے تھے اور پہلی بار یوں کسی کے سامنے خود کو پیش کرنا۔جانے انکو پسند بھی آؤں گی یا نہیں،ہونہہ اپنا بیٹا جانے کیسا “پیس” ہو گا۔گھبراہٹ میں جانے کیا کیا سوچ رہی تھی وہ ،کبھی تلملا جاتی کہ اسے شروع سے ہی سخت ناپسند تھا لڑکی کو قربانی کے جانور کی طرح دکھایا جانا اور آنے والوں کا نخوت سے انکار کر کے چلتے بننا۔۔۔۔”ہونہہ” اس نے اپنی چھوٹی سی ناک سکوڑی تھی،اچانک عبیرہ بھاگی چلی آئی اور پھولے سانسوں کے درمیاں بولی “آپی بوا آپکو کچن میں بلا رہی ہیں مہمانوں کے لیے چائے لے جائیے”

پیغام دے کر وہ واپس بھاگی کہ اب بوا اسے آوازیں دے رہی تھیں،ماہم نے آئینے میں اپنا تنقیدی جائزہ لیا اور مطمئن ہو کر اپنے ازلی اعتماد سے کچن کی جانب بڑھ گئی۔سعیدی صاحب اور انکی زوجہ کو پہلی نظر میں ہی من موہنی سی ماہم بھا گئی تھی،سو بنا کسی لگی لپٹی کے انہوں نے اپنی رضامندی کا عندیہ دیتے ہوئے پیشکش کی کہ آپ عماد کے بارے میں جیسی چاہیں تسلی کر لیجیے،عماد پاک فوج میں بحیثیت کیپٹن اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا جب ماہم کو علم ہوا تو وہ بے ساختہ مسکرا اٹھی کہ آرمی سے اس کا والہانہ لگاؤ کسی سے پوشیدہ نا تھا،سو مختصر سے عرصے میں وہ مس ماہم سے مسز ماہم بن کر عماد کے سنگ اس کے سرکاری گھر کو آباد کرنے روانہ ہوئی،جانے سے پہلے سب کے گلے لگ لگ کر یوں روئی جیسے ملک سے باہر جانا ہو،عماد زیرِ لب مسکراتا ہوا یہ سب دیکھتا رہا اور آخر کار وہ عافیت سے اپنے ٹھکانے پہنچے۔

بہن کی شادی کے بعد عبیرہ نے دوبارہ سے کالج جانا شروع کر دیا تھا کہ بہت دن شادی کی نذر ہو گئے تھے،احمد کی تعلیم بھی تکمیلی مراحل میں داخل ہو چکی تھی،روزوشب عجب یکسانیت لیے ہوئے تھے،شام کی چائے پہ عبیرہ نے اداسی سے ماہم کو یاد کیا آپی ہوتی تھیں تو کتنی رونق لگتی تھی گھر میں،بیگم فاروق نے ایک نظر بیٹی کو دیکھا اور بولیں “بیٹا اللہ عماد کو محفوظ رکھے اسکی لا پرواہیوں سے،ہم تو برداشت کر لیتے تھے وہ تو ہے بھی فوجی” بات کے اختتام پہ انکے انداز میں گھلی فکرمندی کو محسوس کر کے سب ہی مسکرا اٹھے تھے۔۔۔آپ ناحق پریشان ہو رہی ہیں عماد بہت سلجھا ہوا بچہ ہے اور ماہم بھی اب پہلی سی لاپرواہ نہیں رہی،یہ آواز فاروق غنی صاحب کی تھی۔

ماہم صبح سات بجے اٹھ جانا مجھے جلدی جانا ہے،بے فکری سے کسی ناول میں منہمک بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے عماد نے جیسے اسے چونکا دیا۔۔۔اللہ ۔۔۔آپ بھی ناں عین کلائمیکس پہ مزہ خراب کر دیتے ہیں،اچھی بھلی صلح ہونے والی تھی ساس بہو کی،اس نے ملال سے عماد کو دیکھا۔تو اب پڑھ لو ناول ہاتھ سے چھین تو نہیں لیا میں نے حد ہے،جوابًا عماد نے خفگی سے ردِ عمل ظاہر کیا۔ارے واہ سارا ٹیمپو تو آپ نے میرا توڑ دیا اب بس صبح ہی پڑھوں گی،ویسے بھی صبح جلدی اٹھنا ہے،یہ کہتے ہوئے اس نے ناول پاس پڑی میز پہ دھرا اور کمرے کی جانب بڑھ گئی،عماد بھی مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیا۔کھڑکی کے پردے سے چھن چھن آتی روشنی اس کے چہرے پہ تواتر سے پڑی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھی،عماد جانے کب کا جا چکا تھا،سامنے دیوار گیر گھڑی پہ دس کا ہندسہ منہ چڑاتے ہوئے اسے شرمندہ کرنے کو کافی تھا۔”افففف آج بھی نہیں اٹھ پائی،عماد آج بھی خود ہی چلے گئے،دلی افسوس سے وہ زیرِ لب بڑبڑائی تھی۔

انکی شادی کو چار پانچ ماہ ہو چلے تھے لیکن وہ اپنے آپکو عماد کی فوجی تربیت سے مستقل پیدا ہونے والی فوجی طبعیت کے حساب سے مکمل ڈھال نا پا رہی تھی،اکثر تڑکے سویرے اٹھنا ہی اس سے چُوک جاتا،کبھی آرمی میس میں جانا پڑ جاتا تو دیر ہو جاتی،وہ جتنا منظم تھا وہ اتنی بدحواس سی،لیکن شکر ہے دامے،درمے ،سخنے گزارا چل ہی رہا تھا کہ عماد کی روکھی پھیکی زندگی میں اس کی بدحواسیاں،شرارتیں،بے فکری سے بھرا شاہانہ رویہ اور پھر ذرا سی تیکھی نظروں کو محسوس کر کے بھیگتی ہتھیلیاں سب ہی رنگ بھر دیتے اور بعض اوقات غصے میں بھی عماد کو مسکرانے پہ مجبور کر دیتے۔

بدلتے موسم نے انگڑائی لی تھی لیکن ایک عجیب سی یاسیت نے ماحول کو گھیرا ہوا تھا،آجکل عماد بہت مصروف تھے کہ انکی بٹالین کی عسکری تربیت زوروں پہ تھی،ہمسائے ملک کی درندگی عروج پہ تھی کہ کشمیر پہ لگے کرفیو نے انسانیت کی تمام حدیں عبور کر لی تھیں،سب کچھ اتنا آنًا فانًا ہوا تھا کہ ماہم کو ایک چپ لگ گئی تھی،گھٹن زدہ معاشرے کیسے ہوتے ہیں؟؟؟کس لیے آپ فوج میں گئے تھے؟؟؟جاتے کیوں نہیں ہیں انکی مدد کو؟؟؟کس کا انتظار ہے ؟؟فرشتے بھی نصرت کو تب اترتے ہیں جب خود ہاتھ پاؤں ہلائے جائیں۔

ٹی وی پہ،سوشل میڈیا پہ،ہر سو کشمیری مسلمانوں پہ ہونے والے مظالم اسے جب آنسوؤں سے رلاتے تو وہ عماد کو جھنجھوڑتے ہوئے بولتی چلی جاتی،جوابًا ایک بے بسی عماد کو اپنے گھیرے میں لے لیتی،وہ کیا بتاتا کہ ہم تو تڑپ رہے ہیں لیکن زمینی خدا جب تک حکم نا صادر کریں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔دن گزرتے جا رہے تھے اور کشمیر پہ کرفیو پانچویں ماہ میں داخل ہو چکا تھا،اُمتِ مسلمہ کے سورما خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے اور اغیار کٹھ پتلی کی طرح انکو اپنی مرضی سے نچوا رہے تھے،ایسے میں اگر کوئی ملک غیرتِ ایمانی کے جوش سے بولتا بھی تو نقار خانے میں طوطی کی آواز بھلا کون سنتا ہے۔؟؟؟

اس دن صبح سے آسمان سرخی کی چادر اوڑھے ہوئے تھا،پرندوں کی بولیوں میں چہچہاہٹ مفقود تھی۔اسے لگتا انسان ہی سب سے بے حس اور سنگ دل مخلوق ہے ورنہ تو پرندے،موسم،پھول پتے سب ہی اسے ماتم زدہ سے لگتے ایسے میں وہ گھبرا کر آنکھیں موند لیتی اور سوچتی کاش وہ اتنی بااختیار ہوتی کہ کچھ کر سکتی اور چپکے سے دو آنسو لڑھک کر گال بھگو دیتے،عماد اس کی یہ حالت دیکھ کر کڑھتے رہتے۔۔۔اچانک دروازے پہ ہونے والی اطلاعی گھنٹی نے اسے چونکایا تھا۔اس وقت کون آگیا،وہ خود کلامی کرتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھی اور دروازہ کھولتے ہی سامنے کھڑے احمد کو دیکھ کر بے ساختہ اس کے چہرے پہ دھنک رنگ بکھرے تھے۔اس سارے اداس ماحول میں اسے فقط اپنے بھائی کا وجیہہ چہرہ ہی چمکتا نظر آ رہا تھا،اسے اندر بٹھاتے ہوئے اس نے سوال داغا۔۔۔۔”تم اچانک کیسے آ گئے احمد۔؟

آپی میں ملنے آیا ہوں۔میں جہاد پہ جا رہا ہوں کشمیر۔دعا ہے وہیں سے جنت کا ٹکٹ مل جائے۔اس نے ہنستے ہوئے بات مکمل کی تھی اور ماہم نے ڈبڈبائی آنکھوں اور مسکراتے چہرے سے اسے گلے لگایا تھا۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہ چلا گیا اور ماہم کو لگا جیسے کسی حد تک وہ رب کے حضور سُرخرو ہو گئی ہے،اس کا ماں جایا اس دھرتی پہ گیا ہے جو خون سے رنگین ہے،جو جنگلی بھیڑیوں کے چُنگل میں ہے۔سجدے میں روتے ہوئے اس نے جانے کیسی دعائیں مانگی تھیں کہ احمد کچھ ہی عرصے بعد بے جگری سے کفار کا منہ توڑتے ہوئے جنت مکیں ہو چکا تھا۔

اور اب قوی امکانات نظر آ رہے تھے کہ پاک فوج کے دستے روانہ ہونے والے ہیں عماد پہلے دستے کے ساتھ روانگی کے لیے خود کو پیش کر چکا تھا۔حالات دن بہ دن خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے تھے،بھائی کے بعد شوہر کو بھی اس راستے پہ روانہ ہونے کی تیاری کرتے دیکھ کر بھی وہ مطمئن تھی،کوئی غم نا تھا،بلکہ وہ عماد کا حوصلہ بڑھاتی اور وہ نٹ کھٹ سی ماہم کوایسے البیلے روپ میں دیکھ کر مسکرا کررہ جاتے کہ واقعی اگر دیس کی مائیں،بیویاں،بہنیں یونہی گھر سے شیروں کا حوصلہ بلند کرتی رہیں تو وہ وقت دور نہیں ۔

جب کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ عملی طور پہ نظر آئے اور کوئی میلی نظر ہماری شہہ رگ پہ نا اٹھے۔کہ ہم مسلمان عورتیں بہت محبت سے جہاد پہ روانہ کرنا جانتی ہیں۔وقت اور حالات کے تقاضے ہمارے مزاجوں کو تبدیل کر کے شر کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہمیں دیتے ہیں۔۔۔۔۔کہ ہم اللہ پہ کامل بھروسہ رکھتے ہوئے سب سہہ کر بھی بلند حوصلہ رکھنا جانتے ہیں۔۔۔۔۔ہے کوئی کفار میں ہم سا؟؟؟؟؟جو موت کی آنکھوں میں بخوشی آنکھیں ڈالے؟؟؟
ہم سا ہو تو سامنے آئے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com