کیا میرزا غالبؔ مارکیٹنگ کے گرو تھے؟ ۔عبدالخالق بٹ

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِجَم سے میرا جامِ سِفال اچھا ہے
یقیناً یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ شعر میرزا غالبؔ کا ہے۔ تاہم لائقِ بیان یہ ہے کہ میرزا غالبؔ شعر و شاعری اور نثر نگاری کے علاوہ ’مارکیٹنگ کے گرو‘ بھی تھے۔ مذکورہ شعرہمارے اس دعوے کی دلیل ہے۔
مارکیٹنگ نام ہے مخالف برانڈ کے ہیروں کو پتھر ثابت کرنے اور اپنی مٹی کو بھی سونا بتا کر بیچ دینے کا۔ یہی کچھ غالبؔ نے ایران کے قدیم افسانوی کردار ’جمشید‘ کے ساتھ کیا، اور اپنے مٹی (سفال) کے پیالے کے مقابلے میں جمشید کے ’ساغر‘ کو فقط ایک دلیل سے دو کوڑی کا بنا دیا۔
غالبؔ کی دلیل سے پہلے جمشید اور اس کے ’ساغر‘ کا بیان ہوجائے۔ ’جمشید‘ ایران کے قدیم ’پیش دادی‘ خاندان کا چوتھا فرماروا تھا۔ اُس سے منسوب غیر معمولی کارناموں نے اُسے افسانوی کردار بنا دیا۔
’جمشِید‘ لفظ ’خورشید‘ کا ہم قافیہ ہے جو دولفظوں’جَم‘ اور’شِید‘ سے مرکب ہے۔ مگر عام بول چال میں اسے حرف شین پر زبر کے ساتھ ’جمشَید‘ کہتے ہیں جو نا درست ہے۔’جَم‘ کے بہت سے معنوں میں سے ایک معنی ’چاند‘ ہے، جب کہ ’شِید‘ کے معنی ’کرن، شعاع اور چمک‘ کے ہیں۔ مختصر یہ کہ ’خورشِید‘ اگرچمکتا ہوا سورج ہے تو ’جم شِید‘ روشن چاند ہے۔
کہتے ہیں کہ جمشید کے پاس ایک ایسا پیالہ تھا جسے گردش دینے سے بادشاہ پر جہاں بھر کے حالات ظاہر ہوجاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پیالہ قدیم زمانے ہی سے افسانوی ادب میں خاص مقام رکھتا اور’جامِ جہاں نُما، ساغرِ جَم اور جامِ جَم‘ کہلاتا ہے۔ میرزا غالبؔ نے ایک موقع پر آخری مغل بادشاہ کے ’دل‘ کو اسی ’جامِ جہاں نما‘ سے تشبیہ دے کر اُس کی خود فریبی کی تقویت کا سامان کیا تھا :
’جامِ جہاں نما‘ ہے شہشاہ کا ضمیر
سوگند اور گواہ کی ضرورت نہیں مجھے
یعنی ’جامِ جہان نما‘ کی طرح بادشاہ کے ’دل‘ پر سب باتیں عیاں ہیں ایسے میں مجھے اپنی صفائی کے لیے قسم اٹھانے یا کوئی گواہ پیش کرنے ضرورت نہیں ہے۔
علاوہ ازیں’جامِ جَم‘ کے نام سے ایران میں ایک اخبار بھی شائع ہوتا ہے جو ’جیسا نام ویسا کام ‘کا خوبصورت اظہار ہے۔
ایسے میں جب کہ ’جَم‘ اور ’ساغرِ جَم‘ دونوں کی حیثیت مسلّم ہے، غالبؔ نے ’مارکیٹنگ تیکنیکس‘ کے بَل پر ’ساغرِجَم‘ کی خوبی کو اُس کی خامی قرار دیا ہے۔ غالبؔ کا کہنا ہے کہ ایسے’ساغر‘ کا کیا فائدہ جو اگر ایک بار ٹوٹ جائے تو اُس جیسا دوسرا لانا محال ہوجائے اور بندہ دُھائی دیتا رہ جائے:
’ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے‘۔
اس کے برخلاف غالبؔ نے اپنے مٹی کے پیالے کو ’ٹیشن فری‘ کے ’بگ آئیڈیے‘ کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اور خوبی یہ بیان کی ہے کہ: ’اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا‘۔
جامِ سفال‘ میں ’جام‘ فارسی اور ’سِفال‘ عربی لفظ ہے۔ سفال کی اصل ’سِفل‘ ہے جس کے معنی میں گھٹیا، نیچ، نیچا، پست اور فروتر شامل ہیں۔ اس لفظ سے پھوٹنے والے تمام الفاظ میں یہ معنی کسی نہ کسی طور پر موجود ہیں۔ سورہ تین میں ’اسفل السافلین‘ آیا ہے جس کا ترجمہ ’ سب نیچوں سے نیچ‘ کیا گیا ہے۔
عربی کی رعایت سے اردو میں اسفل، سافل،سفلہ اور سفلی وغیرہ کے الفاظ بھی رائج ہیں۔ میر تقی میؔر نے دنیا کو ’سِفلہ‘ جان کر اُس سے بیزاری ظاہر کی ہے : ’کیا اس جہانِ سفلہ کو دل سے لگایے‘۔
علاوہ ازیں کمینگی اور رذالت کو بھی ’ سِفلہ پن‘ کہا جاتا ہے۔
اردو میں ارضیاتی یا زمین سے متعلق چیز کو ’سِفلی‘ کہتے ہیں کہ اس کا تعلق پستی سے ہوتا ہے۔ اسی پستی کی رعایت سے جادو ٹونے کو’سِفلی علم‘ کہا جاتا ہے کہ یہ دلوں میں نفرتیں پیدا کرتا ہے۔ نیز ایسے خیالات جو ناپاک ارادوں کا سبب بنیں ’سِفلی جذبات‘ کہلاتے ہیں۔
اب سوال کیا جا سکتا ہے کہ ’مٹی‘ کو کس حساب میں ’سفال‘ کہا گیا ہے۔ تو عرض ہے کہ سونے چاندی بلکہ تانبے اور پیتل کے ظروف کے مقابلے میں مٹی کے برتن بے حیثیت ہوتے ہیں اس لیے اہل فارس نے انہیں حقیر جانتے ہوئے ’سفال‘ پکارا ہے۔ مٹی کے برتنوں کی رعایت سے بعد میں خود مٹی کو بھی ’سفال‘ کہنے لگے۔ دیکھیے علامہ اقبال کیا کہہ رہے ہیں:
اُٹھا نہ شیشہ گرانِ فرہنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر
اب جب کہ ہم ’جامِ جَم‘ سے ’جام سِفال‘ کی وضاحت تک پہنچ گئے ہیں۔ بات ہوجائے’بازار‘ کی، جہاں سے مزید جامِ سفال خریدنے کا عندیہ غالبؔ نے دیا ہے۔
تھوڑا سا غور کرنے پر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ’بازار‘ کے ’با‘ پر ’زار‘ کا جوڑ ہے۔’با‘ پر بات سے پہلے ’زار‘ کو سمجھ لیں۔ یوں تو ’زار‘ کے معنی کمزور، ناتواں، نحیف اور نالہ و فریاد ہیں، مگر لفظ ’بازار‘ میں آنے والا ’زار‘ کسی چیز کی کثرت یا بہتات کو ظاہر کرتا ہے اور بہت سے مرکبات میں بطورِ لاحقہ آتا ہے۔ جیسے لالہ زار، گل زار اور چمن زار وغیرہ۔
جہاں تک بات ہے ’بازار‘ کے ’با‘ کی تو اس کے معنی کھانا اور کھانا پکانے کے ہیں۔ لفظ ’شوربا‘، ’نان بائی‘ اور’باورچی‘ پر غور کریں بات آسان ہوجائے گی۔ یوں ’بازار‘ کے لفظی معنی ہوئے وہ جگہ جہاں مختلف انواع و اقسام کے کھانے ملتے ہوں۔
’طاقت ور‘ اور ’سخن ور‘ ہی کی طرح ایک لفظ ’باور‘ بھی ہے، جس کا مطلب ہے ’کھانا پکانے والا‘۔ بادشاہوں، راجاؤں اور نوابوں کے ہاں یہ ’باور‘ ہمیشہ اعتماد کا آدمی ہوتا تھا جس کے بارے میں یہ اطمینان ہوتا تھا کہ یہ دشمنوں کے ساتھ مل کر کھانے وغیرہ میں کوئی جان لیوا چیز شامل نہیں کرے گا۔ اس لیے لفظ ’باور‘ بعد میں ’یقین، بھروسے اور اعتماد‘ کا مترادف ہوگیا۔ دیکھیے ہندوستان کے ایک مزاحیہ شاعر محمد یوسف پاپا کیا کہہ گئے ہیں:
گرانی سے دنیا کو ’باور‘ ہوا ہے
کہ اپنے زمانے کا حافظ خدا ہے
جس طرح توپ سے توپچی یا مشعل سے مشعلچی بنا ہے، اسی طرح اس ’باور‘ میں ’چی‘ کا لاحقہ لگا کر صفت ’باورچی‘ بنائی گئی،اور اس کے معنی ہوئے ’بھروسے کا آدمی‘۔تاہم اب باورچی کے معنی ’کھانا بنانے والا‘ تک محدود ہیں۔
’بازار‘ کے ٹھیٹ لفظی معنی کا انگریزی مترادف ’فوڈ اسٹریٹ‘ ہے جو آج کل اردو میں ’اِن‘ ہے۔ اہل عرب و اہل فارس میں انگریزی زبان سے مرعوبیت نہیں پائی جاتی، لہٰذا عربی میں ’فوڈ اسٹریٹ‘ کو ’شارع الطعام‘ اور فارسی میں ’خیابانِ غذا‘ کہتے ہیں۔ اگر کچھ ہمت و حمیت کا مظاہرہ کیا جائے تو عربی و فارسی کے امتزاج سے اردو میں فوڈ اسٹریٹ کی جگہ ’خیابانِ طعام‘ کو رواج دیا جاسکتا ہے۔
اول اول جو ’بازار‘ مزیدار پکوان سے سجا تھا بعد میں نت نئے ناموں سے موسوم ہوا۔ کتابوں کا ’اردو بازار‘، زیورات کا ’جوہری بازار‘، پھولوں کا ’پھول بازار‘، خواتین کے لیے خاص ’مِینا بازار‘ اور کم آمدن والوں کے لیےعام ’بچت بازار‘ قائم ہوئے۔ جب کہ ان بازاروں میں موجود ہجوم بے کراں کو ’خربازار‘ کا نام دیا گیا۔ بازاروں کی یہ بہار جہاں یکجا ہو جائےاُسے فارسی میں ’بازارِ بزرگ‘ کہتے ہیں کہ بزرگ سب کو جوڑ کر رکھتے ہیں۔
ایک کان پور (انڈیا) کا ’مچھلی بازار‘ بھی ہے جہاں برسوں پہلے ہونے والی ہنگامہ آرائی ضرب المثل ٹھہری اور اردو زبان کو شور شرابے کی نسبت سے ’مچھلی بازار‘ کا محاورہ دے گئی۔
ایک ’بازارِحسن‘ بھی ہے جہاں کی رنگا رنگی کو رنگ رلیوں سے نسبت ہے۔اس باب میں مزید کچھ کہنے کی تاب نہیں ایسے میں جناب ’واجؔد امیر‘ کا ایک شعر ملاحظہ کریں اور ہمیں اجازت دیں:
پرے ہے بازارِ حُسن چہروں سے
جانے کس کس کی آبرو ہے یہاں

بشکریہ اردو نیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.