ماں‌ ہم بھی کوڑھیوں‌ کو تنہا نہیں‌ چھوڑیں‌ گے

جذام کے عالمی دن پر مجھے ماں یاد آئیں، کوڑھیوں کی ماں۔ ان کی مسیحا اور خدمت گار۔وہ ان کا دکھ بانٹتیں، ان کی حاجات اور ضروریات پوری کرتی تھیں۔ انھیں اس بیماری سے لڑنے میں مدد دیتیں اور ان کا بے حد خیال رکھتی تھیں۔ اپنا سکھ چین تج کر، دن رات کا فرق مٹا کر اور ہر حسرت، ہر آرزو کو کچل کر انھوں نے انسانیت کے نام پر اپنا آپ لُٹا دیا۔

وہ سمندر پار سے یہاں چلی آئی تھیں، ہمارے وطن میں۔ جہاں اپنوں نے ہی کوڑھی ہو جانے پر کسی اپنے کو گھر سے دور، ویرانے میں چھوڑ دیا کہ جب تک چاہو زندہ رہو، مگر اسی جگہ……ہم مجبور ہیں۔مگر سمندر پار سے وہ صبیح چہرہ، ستارہ آنکھوں والی چلی آئی۔ اس نے کہا میں تمھارے پاس آکر بیٹھوں گی، تمھارے زخم دیکھوں گی، میں ان پر مرہم رکھوں گی۔ مجھے گھن نہیں‌ آتی، مجھے تم بہت پیارے لگتے ہو، تم اپنے دل کی باتیں مجھ سے کرنا اور جب تک زندگی ہے اسے نعمت جاننا۔

ہاں تم پر کڑا وقت ہے، رب نے بیماری کے ذریعے آزمائش کی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم انسان نہیں رہے۔ وہ تمھارے اپنے بہت مجبور ہوں گے جبھی تمھیں یہاں چھوڑ گئے۔ انھیں معاف کر دو۔ اب میں تمھارے ساتھ ہوں۔ہر سال جنوری کا آخری اتوار اس مرض سے متعلق آگاہی اور علاج معالجے کی کوششوں‌ کے لیے مخصوص ہے۔یہ سطور اس مرض سے متعلق معلومات اور عام آگاہی کے لیے پیش ہیں۔جذام وہ مرض ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے جراثیم پھیلتے ہیں، یہ ایک سے دوسرے کو لاحق ہوتا ہے۔

طبی سائنس بتاتی ہے کہ مائیکو بیکٹیریم وہ جرثوما ہے جو جذام کی وجہ بنتا ہے۔کوڑھ کے مریض کا جسم رفتہ رفتہ گلنے لگتا ہے اور اس سے جسم پر جو زخم نمودار ہوتا ہے، اس میں پیپ پڑ جاتی ہے۔کوڑھی یا جذام کے مریض کا گوشت گویا جگہ جگہ سے جھڑنے لگتا ہے۔کوڑھی کے جسم سے شدید قسم کی بُو آتی ہے۔پاکستان میں یہ مرض 60 کی دہائی میں تیزی پھیلا اور اس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔

ایک وقت تھا جب یہ مرض لاعلاج سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اب اس حوالے سے لوگ زیادہ آگاہی رکھتے ہیں۔جذام کا علاج طویل عرصے تک جاری رہتا ہے۔ماہر ڈاکٹر ایسے مریض کا طبی تجزیوں اور اپنی تشخیص کی بنیاد پر مخصوص دواؤں کے ذریعے علاج شروع کرتے ہیں۔پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق سالانہ چار یا پانچ سو افراد جذام کا شکار ہوتے ہیں جس میں سندھ سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔