کیا خواتین کا مظاہروں میں شرکت کرنا جائز ہے - محمد رضی الاسلام ندوی

عشاء کی نماز پڑھ کر میں آیا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجنے لگی _ میں نے موبائل اٹھایا _ کسی نمبر سے فون تھا _ اس کا مطلب یہ تھا کہ دوسری طرف کوئی اجنبی ہے _" کیا آپ رضی الاسلام صاحب ہیں _ میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتی ہوں _ " دوسری طرف سے نسوانی آواز پر میں چونکا _" جی ، فرمائیے _ میں رضی الاسلام بول رہا ہوں _ کیا بات کرنی ہے؟ " میں نے جواب دیا _

" مولانا صاحب ! یہ بتائیے _ کیا عورتیں مظاہروں میں شرکت کرسکتی ہیں _" خاتون نے سوال کیا _" ہاں ، کیوں نہیں؟ ظلم کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہر شہری کو ہے ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت _" میں نے کہا _" ہمارے شہر کے چوک میں ایک گھنٹے کے بعد مظاہرہ ہے؟ کیا ہم اس میں شریک ہوسکتے ہیں؟"میں نے جواب دیا : اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ عورتوں کو اپنی ضروریات کے لیے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے _( بخاری :4795 ، مسلم : 2170)

خاتون نے کہا : " ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ عورت دن میں تو اپنی ضروریات کے لیے جا سکتی ہے، لیکن اسے رات میں گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے _ "میرا جواب تھا : " میں نے اوپر جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ رات میں نکلنے کے سلسلے میں ہے _"" کیا عورت گھر سے باہر نکلے تو اس کے ساتھ محرم ہونا ضروری ہے؟ " خاتون نے اگلا سوال کیا _" عورت کے ساتھ محرم ہونے کی شرط اس وقت ہے جب وہ اتنی مسافت کا سفر کرے جس میں قصر نماز کی اجازت دی گئی ہے _( فقہ حنفی میں 75 کلومیٹر ، اہل حدیث حضرات کے نزدیک اس سے کم) شہر یا آبادی میں کہیں آنے جانے کے لیے عورت کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری نہیں _"

" مظاہروں میں خوب نعرے لگائے جاتے ہیں _ عورتیں بھی نعرے لگاتی ہیں _ ہمیں بتایا گیا ہے کہ عورت کی آواز کا پردہ ہے _ جائز نہیں کہ کوئی اجنبی مرد اسے سنے _" خاتون نے اشکال پیش کیا _
میں نے جواب دیا : " قرآن مجید میں عورتوں کو اپنی آواز میں ایسا لوچ پیدا کرنے سے منع کیا گیا ہے جس سے مریض ذہنیت کے لوگ غلط امید قائم کرنے لگیں _ ساتھ ہی انہیں اجازت دی گئی ہے کہ وہ سيدھی صاف بات کرسکتی ہیں _" ( الأحزاب :32 )

یہ بھی پڑھیں:   بڑے بڑے شہروں کی چھوٹی چھوٹی باتیں - شہلا خضر

" مظاہروں میں لوگ گُھل مِل جاتے ہیں _ مرد اور عورت الگ الگ نہیں رہ پاتے _ کیا یہ ناپسندیدہ نہیں _" خاتون نے اگلا سوال کیا _
میں نے جواب دیا : " جی ، آپ کی بات درست ہے _ اسلام میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط پسندیدہ نہیں _ مرد اور عورت کہیں اکھٹّا ہوسکتے ہیں ، لیکن کوشش کی جانی چاہیے کہ وہاں وہ خلط ملط نہ ہوں ، بلکہ الگ الگ رہیں _"

" مولانا صاحب ! آج کل پورے ملک میں عورتوں کے مخصوص مظاہرے ہو رہے ہیں _ اس کی کیا ضرورت ہے؟ کیا مردوں کے مظاہروں میں عورتوں کی شرکت کافی نہیں تھی؟ " خاتون نے سوال کیا _میں نے جواب دیا : " عورتیں بھی سماج کا حصہ ہیں _ ظلم کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کرنے کا حق مردوں کی طرح عورتوں کو بھی ہے _ عورتیں مردوں کے ساتھ بھی مظاہرہ کرسکتی ہیں اور الگ سے بھی _ اب یہ کہنے کا موقع نہیں کہ کون احتجاج کر رہا ہے اور کون نہیں ؟ کون کس کا ساتھ دے ، کس کا نہیں؟ جس کو بھی توفیق ہو اسے اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے _"

" مولانا صاحب! بہت بہت شکریہ _ میں نے آپ کو پریشان کیا _"" نہیں کوئی بات نہیں _ آپ آئندہ بھی، جب چاہیں، سوال کرسکتی ہیں _"