قانون میں مولویوں کی وجہ سے مسائل زیادہ ہیں یا سیکولرز کی وجہ سے- محمد مشتاق

آج ایک جج صاحب نے بحث کے دوران میں کہا کہ پاکستان میں مولویوں سے لوگ بہت ڈرتے ہیں اور اس وجہ سے قانون میں فلاں فلاں مسئلے ہیں۔میں نے کہا پہلے اس فلاں فلاں مسئلے پر بات کرلیتے ہیں، اس کے بعد بتاؤں گا کہ مولویوں کی وجہ سے مسائل زیادہ ہیں یا سیکولرز کی وجہ سے؟

چنانچہ فلاں فلاں مسائل کی وضاحت کے بعد میں نے عرض کیا:اب آئیے مولویوں کی جانب سے دباؤ کے مسئلے کی طرف۔ تو مولویوں کا دباؤ سب سے زیادہ آشکارا ہوتا ہے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی، یعنی توہینِ رسالت کی سزا، کے معاملے میں لیکن آپ دیکھیں کہ مولویوں کا جتنا بھی خوف، دبدبہ، دباؤ، شور، ہنگامہ، وغیرہ تھا، وہ جنرل مشرف کو "پروسیجرل قانون" میں ایسی تبدیلیاں لانے سے نہیں روک سکا جس کے بعد توہینِ رسالت کی سزا کا یہ قانون عملاً غیرمؤثر ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود جب اس قانون کے تحت سزا ہوجاتی ہے تو کیسے آپ کی پوری ریاستی مشینری اس سزا کو کالعدم کردینے کےلیے کھڑی ہوجاتی ہے اور مولویوں کا خوف آپ کو نہیں روک پاتا۔

دوسری طرف ایک قانون ایسا ہے، مسلم فیملی لاز آرڈی نینس، جس کے خلاف مولوی پچھلے پچاس سال سے چیخ رہے ہیں کہ یہ اسلام کے خلاف ہے، یہ شریعت سے متصادم ہے، یہ غیر اسلامی ہے۔ نہ صرف مولوی بلکہ پشاور ہائی کورٹ کی شریعت بینچ نے بھی اس کی ایک دفعہ کو 1980ء میں غیر اسلامی قرار دیا تو آپ کی سپریم کورٹ نے "تکینیکی بنیادوں پر"، نہ کہ دلائل کی بنیاد پر، اس فیصلے کو ختم کردیا۔ پھر 1987ء میں سندھ ہائی کورٹ نے اس کی ایک اور دفعہ کے خلاف فیصلہ دیا تو پھر آپ کی سپریم کورٹ نے "تکنیکی بنیادوں پر" وہ فیصلہ ختم کردیا۔

پھر 1999ء میں وفاقی شرعی عدالت نے اس قانون کی چند دفعات کے خلاف فیصلہ دیا تو اس کے خلاف اپیل 20 سال سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور آج تک اس کی ایک دفعہ بھی سماعت نہیں ہوسکی۔ چنانچہ یہ قانون پچھلے بیس سال سے صرف اس وجہ سے نافذ ہے کہ سپریم کورٹ اس کے خلاف اپیل کی سماعت نہیں کررہی۔

اور تو اور، پارلیمنٹ کے سامنے سرکاری دستاویز میں وزیر قانون اعتراف کرتا ہے کہ اس قانون پر پاکستان میں عموماً عمل نہیں ہوتا اور یہ کہ اس کی وجہ سے خواتین کو یہ یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہی وزیر قانون اس قانون کو تبدیل کرنے کے بجاے حدود قوانین کی تبدیلی کا مسودہ پیش کردیتا ہے اور پارلیمنٹ اسے منظور بھی کردیتی ہے۔یہ ایسا قانون ہے جسے جنرل ایوب خان نے مارشل لا کے جبر کے ذریعے نافذ کیا لیکن کوئی جمہوریت کا چیمپین لکھاری اسے "ڈکٹیٹر کا قانون" قرار دے کر اس کے خلاف واویلا نہیں کرتا۔

یہ ایسا قانون ہے جسے جنرل ضیاء کی انتہا پسند اسلامیت کے دور میں بھی تبدیل کرنے کی ساری کوششیں ناکام بنائی گئیں۔سوال یہ ہے کہ 97٪ فی صد مسلمان آبادی کے اس ملک میں نکاح، طلاق اور میراث کے امور میں اسلامی شریعت سے صراحتاً متصادم قانون کیسے جبراً نافذ کیا گیا ہے؟ نہ صرف نافذ کیا گیا ہے، بلکہ اس میں تبدیلی کا نہ پارلیمنٹ سوچ سکتی ہے، نہ عدالت اسے ہاتھ لگاسکتی ہے۔

یہ مٹھی بھر سیکولر عناصر آخر کیسے اتنا جبر کرسکتے ہیں؟اگر پاکستانی قانونی نظام کا کوئی taboo ہے جسے چھیڑنے کا رسک کوئی نہیں لے سکتا، تو وہ توہینِ رسالت کی سزا کا قانون نہیں بلکہ مسلم فیملی لاز آرڈی نینس ہے۔