منسٹر صاحب آپ کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ریلوے بند کر دی جائے - چیف جسٹس کا شیخ رشید کو مشورہ

سپریم کورٹ نے پاکستان ریلوے کے مالی خسارے سے متعلق مقدمے میں حکام سے کہا ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اس ادارے میں بہتری لانے کے لیے منصوبہ بنا کر جمع کروائیں ورنہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

منگل کو پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ریلوے کے مالی خسارے سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جس طریقے سے ریلوے کو چلایا جارہا ہے ’اس سے بہتر ہے کہ اس محکمے کو بند ہی کردیا جائے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ریلوے کی بہتری کے لیے اقدامات نظر نہیں آرہے اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی سامنے آرہی ہے۔’آپ کا سارا کچا چھٹا ہمارے سامنے ہے‘عدالت نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو روسٹرم پر طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ وہ اس محکمے کو منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔

اس پر وزیر ریلوے نے دعویٰ کیا کہ اُن کے دور میں ریلوے میں سفر کرنے والے افراد میں 70 لاکھ سے زیادہ مسافروں کا اضافہ ہوا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ ریلوے کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کیے جارہے ہیں جس میں چین کے تعاون سے ایم ایل ون منصوبہ بھی شامل ہے۔اُنھوں نے ریلوے کی سینکڑوں ایکڑ اراضی واگزار کرنے کا بھی ذکر کیا، جس پر بینچ کے سربراہ نے شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو خواب نہ دکھائیں، آپ کا سارا کچا چھٹا ہمارے سامنے ہے۔


چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج بھی پاکستان میں 18 ویں صدی کی ٹرین چل رہی ہے اور ریلوے کے محکمے میں لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2020 میں بھی ریلوے کا سارا نظام پرچیوں پر ہی چل رہا ہے جس پر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ سارا نظام بائیو میٹرک کرنے کے علاوہ اس کو کمپیوٹرائزڈ کیا جارہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریلوے میں پیسے لے کر لوگوں کو نوکریاں دی جارہی ہیں جس پر وفاقی وزیر ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ محکمے میں بھرتیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی نے ریلوے کے محکمے میں پیسے لے کر نوکریاں دینے کا الزام عائد کیا تھا جس پر قومی اسمبلی کے سپیکر نے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ریلوے کے افسران پیسے لے کر یومیہ اجرتوں پر لوگوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے وفاقی وزیر ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی انتظامیہ سے ریلوے کا نظام نہیں چلے گا اور جس طریقے سے اس نظام کو چلایا جا رہا ہے، اس سے بہتر ہے کہ اس ادارے کو بند کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   ظالم مومن اچھے یا ہمدرد کافر - حبیب الرحمن

چیف جسٹس نے شیخ رشید احمد سے سوال کیا کہ ریلوے میں آتشزدگی کا جو واقعہ پیش آیا تھا، اس کی تحقیقات کا کیا بنا؟

اس پر وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی روشنی میں 19 افراد کو برطرف کیا گیا ہے، جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ صرف دو افراد کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔

چیف جسٹس نے وفاقی وزیر ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد کے خلاف کارروائی کی ہوگی ان میں زیادہ تر سیکیورٹی گارڈ اور چھوٹے ملازمین ہوں گے۔

’منسٹر صاحب آپ کو مستعفی ہو جانا چاہیے‘

شیخ رشید احمد نے جب ’بڑوں‘ کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کروائی تو اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا ہوتا ہوا نظر تو نہیں آرہا۔

چیف جسٹس نے وفاقی وزیر ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سب سے بڑے تو آپ ہیں۔‘ اُنھوں نے شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد تو ’منسٹر صاحب آپ کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔‘
عدالت نے شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب سے سینیئر وزیر ہیں اور ان کے ادارے میں کارکردگی میں بہتری آنی چاہیے تھی لیکن ایسا نظر نہیں آرہا اور ان کا ادارہ سب سے نااہل ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے جب عدالت کو مطمئن نہ کرسکے تو انھوں نے وزارت ریلوے میں کام نہ ہونے کا ملبہ وزارت منصوبہ بندی پر ڈال دیا اور کہا کہ وہ اپنے ادارے میں بہتری لانے کے لیے وزارت منصوبہ بندی کے پاس جاتے ہیں لیکن ان کی طرف سے بھیجی جانے والی فائلوں پر توجہ نہیں دی جاتی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر اور سیکریٹری پلاننگ ڈویژن کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔یاد رہے کہ ریلوے میں خسارے کا مقدمہ سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور سے چل رہا ہے۔

اُس وقت کے وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق کے دور میں ایک درخواست سپریم کورٹ کے انسانی حقوق کے سیل میں آئی تھی جس میں ریلوے کے خسارے کا ذکر کیا گیا تھا، جس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس معاملے کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔

آج کی سماعت سے قبل شیخ رشید احمد نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے جس معاملے پر نوٹس جاری کیا ہے وہ محکمہ ریلوے کا سنہ 2013 سے سنہ 2017 تک کے آڈٹ سے متعلق ہے۔اُنھوں نے کہا کہ ان کو تو وزارت سنبھالے ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا ہے اور اس عرصے کے دوران اکاؤنٹس کا آڈٹ کرنے میں وقت لگے گا۔


گذشتہ روز کی سماعت میں کیا ہوا؟
پیر کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ریلوے ملک کا بدعنوان ترین ادارہ ہے اور اس محکمے کے ذمہ داران بہتری لانے کی بجائے سیاست میں پڑے ہوئے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں:   دنیا کہ منصفو، سلامتی کے ضامنو - شیخ خالد زاہد

گذشتہ روز عدالت میں جب اس محکمے کی آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی تو چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ابھی تک اس محکمے کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیں ہوا۔‘بینچ کے سربراہ نے وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید کا نام لیے بغیر کہا ’یہ پورا محکمہ آئے روز کبھی حکومت بنا رہا ہے اور کبھی حکومت گرا رہا ہے جبکہ اپنی وزارت ان سے صحیح طریقے سے چل نہیں پا رہی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نہ تو محکمہ ریلوے اور نہ ہی مال بردار گاڑیاں صحیح طریقے سے چل رہی ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریلوے پر سفر کرنے والا ہر فرد خطرے میں سفر کر رہا ہے۔ ’نہ تو ریلوے سٹیشن درست ہیں، نہ ٹریک اور نہ ہی سگنل ٹھیک ہیں۔‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس محکمے میں کوئی بھی چیز درست انداز میں نہیں چل رہی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے ریلوے کے وکیل سے استفسار کیا کہ گذشتہ برس ریلوے میں آگ لگنے کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس کی تفتیش کے بارے میں کیا ہوا جس پر ریلوے کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں اور دو افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاچکی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس رحیم یار خان کے قریب ریلوے میں آگ لگنے کی وجہ سے سے 74 مسافر ہلاک ہو گئے تھے اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اس واقعہ کی تمام تر ذمہ داری ان مسافروں پر ڈال دی تھی جو تیل والا چولہا لے کر ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا ’ریلوے کو اربوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے اور عدالت میں جو رپورٹ جمع کروائی گئی ہے اس سے بادی النظر میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ملک میں ریلوے کا نظام صحیح طریقے سے چل ہی نہیں رہا۔‘

چیف جسٹس نے ریلوے کے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالت نے ریلوے کے چیف ایگزیکٹیو افسر کو طلب کیا تھا وہ کیوں عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر ریلوے کے وکیل نے جواب دیا کہ عدالت کی طرف سے نوٹس سابقہ چیف ایگزیکٹیو افسر کو بھیجا گیا تھا جبکہ موجودہ چیف افسر کو نوٹس نہیں بھیجا گیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ اہم نوعیت کا ہے اس لیے نئے چیف ایگزیکٹیو افسر کو بھی پیش ہونا چاہیے تھا۔اس کے بعد عدالت نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، سیکریٹری ریلوے اور چیف ایگزیکٹیو افسر کو 28جنوری کو (آج) ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔