اسرائیلی شہریوں کو سعودی عرب جانے کی اجازت

اسرائیل کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی شہریوں کو سعودی عرب سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ آئندہ چند روز میں مشرقِ وسطی میں امن کے قیام کے لیے اپنے نئے منصوبے کا اعلان کرنے والا ہے۔ مبصرین کے مطابق اِس کے لیے امریکہ کو سعودی عرب کی حمایت بھی درکار ہے۔

یہ اعلان اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان خاموشی سے بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک تازہ مثال ہے۔اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان ایران سے متعلق ایک مشترکہ سوچ پائی جاتی ہے۔اسرائیل کی جانب سے نئی پالیسی کے تحت اسرائیل میں رہنے والے مسلمان مذہبی مقاصد کے لیے سعودی عرب جا سکیں گے جبکہ اسرائیلی یہودی کاروباری مقاصد کے لیے سعودی عرب کا سفر کر سکتے ہیں۔


یروشلم میں صحافی ہریندر مشرا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی شہری پہلے سے ہی سعودی عرب جا رہے ہیں۔ اِن میں سے جو مسلمان ہیں انھیں اسرائیل میں قائم وقف بورڈ کی جانب سے خصوصی دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔جبکہ اطلاعات کے مطابق یہودی شہری جو کسی کاروباری مقصد کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں انھیں دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کے تحت جانے دیا جاتا ہے لیکن ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔

'کیونکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں اِس لیے اب تک یہ ہوتا رہا ہے کہ اگر کسی مسلمان اسرائیلی نے سعودی عرب جانا ہے تو وہ اردن یا مصر کے ذریعے جاتا ہے۔ اِن افراد کے پاسپورٹ پر کوئی ویزا نہیں ہوتا بلکہ اِن کے پاس اسرائیلی وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ خصوصی دستاویزات ہوتے ہیں۔'

ہریندر مشرا نے بتایا کہ سعودی عرب جانے کا راستہ تو اب بھی یہی ہو گا لیکن اب یہ افراد اپنے اسرائیلی پاسپورٹ پر سفر کر سکیں گے۔’اب یہ ہو گا کہ اسرائیلی شہری کو سعودی عرب پہچنے پر ویزا دے دیا جائے گا اور پاسپورٹ پر سعودی ویزے کی مہر سے اسرائیلی حکومت کو کوئی اعتراض بھیں نہیں ہو گا۔‘

ہریندر مشرا نے بتایا کہ اسرائیل کے وزیرِ داخلہ کے دستخط سے ایک نیا قانون منظور ہو گیا ہے۔'اب نئے قانون کے تحت اسرائیلی شہری اسرائیلی پاسپورٹ پر سعودی عرب جا سکیں گے۔ اِن میں جو مسلمان ہیں وہ تو اپنی مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے جا سکیں گے۔ جبکہ یہودی شہری کاروباری کاموں کے لیے جا سکیں گے لیکن انھیں سعودی عرب سے کسی ادارے یا سرکاری اہلکار کا دعوت نامہ درکار ہو گا۔'

ہریندر مشرا نے بتایا کہ وہ کئی ایسے اسرائیلی شہریوں کو جانتے ہیں جو سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک خاموش سی مفاہمت پہلے ہی موجود ہے۔


اسرائیلی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ کرتے وقت اسرائیل کے سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی مشورہ کیا گیا ہے جس میں وزارتِ خارجہ بھی شامل ہے۔اسرائیلی اعلان کے بارے میں سعودی عرب سے ابھی تک ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن سعودی عرب پہلے ہی کئی مرتبہ ایسے اقدامات کر چکا ہے جو دونوں ممالک میں تعلقات کی بہتری کی جانب اشارہ ہیں۔ سنہ 2018 میں سعودی عرب نے اسرائیل جانے والی ایئر انڈیا کی پروازوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے دی تھی جس سے سفر میں کئی گھنٹوں کی کمی ہوتی ہے۔

صحافی ہریندر مشرا کے مطابق بنیامن نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی حکومت کے فیصلے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اسرائیل میں مارچ میں انتخابات ہو رہے ہیں اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ان کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک سے اسرائیل کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔

مصر اور اردن صرف وہ دو عرب ممالک ہیں جن کے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات اور امن معاہدے ہیں۔