امّت کا زوال-اختر شریف

کسی بھی فرد، قوم یا امّت کے اثاثے اس کے افکار ہوتے ہیں۔ جب وہ افکار ختم ہو جاتے ہیں، یا مدھم پڑھ جاتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ کیوں کہ اصل ترقی فکر کی ہوتی ہے۔ فکری بلندی ہی انسان کی مادی و روحانی ترقی کا ضامن ہوتی ہے۔ باقی معاشی و اقتصادی ترقی فکری ترقی کا مظھر ہے اصل ترقی نہیں ہے۔

تو جب فکر پست اور قدامت هو، تو انسان زوال اور تنزلی کا شکار ہوتا ہے۔آج امّت مسلمہ کا یہی صورتحال ہے، آج مسلمان بطور امّت(اجتماعی طور پر) فکری زوال کا شکار ہیں۔ جو کہ انکی غلامی، تنزلی اور پستی کا سبب ہے۔اس بات کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ : شام میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ یمن کفّار اور انکے ایجنٹوں کے حملوں کا شکار ہے۔ فلسطین اور بیت المقدس (جو کہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے) یہودیوں کے قبضے میں ہیں۔

افغانستان پر امریکی قابض ہیں۔ چین میں مسلمان اپنے تمام تر بنیادی حقوق سے محروم ہیں حتی کہ آزادی سے اپنی عبادات بھی سر انجام نہیں دے سکتے ہیں۔ انکے مرد الگ سے عقوبت خانوں میں ہیں، عورتیں گھروں میں محصور ہیں، اور جبکہ بچوں کو کمیونسٹ سکولوں میں تعلیم و تربیت دے کر ملحد بنایا جا رہا ہے۔ بلوچستان سے لیکر فاٹا تک خون ہی خون ہے۔ کشمیر پر ہندو قابض ہیں اور مسلسل چار مہینوں سے کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہیں۔

مگر دوسری طرف امّت کیا کر رہی ہے ؟

امّت اپنے حالات سے بے نیاز ہوکر غفلت کی نیند سو رہی ہے۔ نہ صرف غفلت بلکہ مجرمانہ طور پر اپنے ہی خون کو پانی کی طرح بہتا دیکھ کر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ جی ہاں وہی امّت جسکو ایک جسم کی مانند قرار دیا گیا تھا کہ جب جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم بے چین و بے قرار رہے گا۔اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف امّت کو مولی اور گاجر کی طرح کاٹا جا رہا ہے تو دوسری طرف امّت کے نوجوان(جو کہ امّت کے لئے رگوں میں بہتی ہوئی خون کی مانند ہیں) "میرے پاس تم ہو" جیسے ڈرامے میں ایک کردار کے مر جانے پر غم زدہ، شدید غم و غصہ اور صدمے کی حالت میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امت کو پھر ایک ارطغرل کی ضرورت - حسان بن ساجد

فکری پستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف امّت ایک جسم کی مانند خون میں لت پت ہے ، تو دوسری طرف اسی امّت کو ڈالر کے عوض بیچنے اور انکا قتل عام کرنے والے مشرف اور سلیمانی ہیرو قرار دے دیئے جاتے ہیں۔ اور ان کے حق میں ریلیاں اور جلسے منعقد ہوتے ہیں۔ فکری زوال اور کیا ہو سکتا ہے کہ امّت کو مہاتیر، اردوگان اور عمران خان جیسے جھوٹے سیاست دان اسلام کے نام پر بیوقوف بنا کر انکی ہم دردیاں حاصل کرتے رہے ہیں اور کر بھی رہے ہیں۔

وہ امّت جسکو اپنے رب کی طرف سے واضح احکامات "جو اللہ‎ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ نہیں کریگا وہی تو کافر ، فاسق اور ظالم ہے" ملنے کے باوجود ان میں یہ کنفیوژن پائی جاتی ہے کہ آیا اسلام کا اپنا بھی کوئی سیاسی و اقتصادی نظام ہے کہ نہیں ؟ آیا اسلام بھی کوئی نظام زندگی عطا کرتا ہے کہ نہیں ؟کیا اسلام آج کے دور کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے کہ نہیں ؟ یا اسلام آج کے دور میں نافذ العمل ہے کہ نہیں ؟

وہ امّت آج بے مقصد اور اندھوں کی طرح بھٹک رہی ہے جسکو اس کے رب نے یہ کہہ کر راستہ دکھا دیا کہ"بیشک تمہارے لئے اللہ‎ کے رسول کی زندگی ایک بہترین نمونہ ہے"لہذا، یہ کہنا کہ یہ قوم ہی گٹھیا قوم ہےیا یہ کہنا کہ ہم ہے ہی پست و ذلیل اور منافق، انتہاہی آسان کام ہے۔

مگر امّت کے حقیقی مسلہ کی نشاندہی کرنا اور پھر اس کے لئے حل پیش کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اور آج امّت کو ضرورت ہی ایسے افراد و جماعت کی ہے جو کہ امت کو اس فکری پستی سے نکال کر علم و عمل کی بلندیوں تک پہنچا دے!