تصوف نہیں سائنس اور ٹیکنالوجی-ُ پروفیسر جمیل چودھری

تصوف کو شامل نصاب کرکے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔یہ وقت اوروسائل کاضیاع ہوگا۔یہ تصورات مسلمانوں میں ابتدائی2۔صدیوں کے بعد درآئے تھے۔کوفہ اور بغداد کے باہر خانقاہیں تعمیر ہونا شروع ہوگئیں تھیں۔ترک دنیا کادرس شروع ہوگیاتھا۔شروع کے لوگ دینی مسلمات کے قریب رہے لیکن مسجد کوچھوڑکر خانقاہیں بنانے سے کچھ نہ کچھ تونیا ہوناتھا۔

یہ کچھ نیاتھوڑا نہیں ہوا۔بلکہ بے شمار ہوا۔کچھ مزید صدیاں گزرنے کے بعد تصوف کے نام پر نیادین کھڑاہوگیا۔اسلام کی بنیاد اس دین پرتھی جو رسولوں کے ذریعے وحی کیاگیا۔بہت سے صحیفے اورکتابیں اﷲ کی طرف سے رسولوں پرنازل ہوئے اور آخری صحیفہ آسمانی قرآنی شکل میں ہرلحاظ سے محفوظ ہے۔اور ایک بڑی دنیا اس سے اپنی اصلاح کرتی چلی آرہی ہے۔اصل اسلام میں وحی بذریعہ رسول آتی ہے۔لیکن تصوف کے بزرگ اپنا اﷲ سے تعلق Directجوڑتے نظر آتے ہیں۔یوں ہر صاحب تصوف بزرگ کی باتیں بھی علیحدہ علیحدہ ہیں۔ان کے بے شمار سلسلے اورگروہ ہیں۔مسلمانوں کی اس وقت کرۂ ارض پرجوحالت ہے اس سے آپ ہرلہاظ سے واقف ہیں۔تمام مسلمان امریکہ یا مغرب کے کسی نہ کسی شکل میں غلام بن چکے ہیں۔میں نے اپنے کئی کالموں میں اس صورت حا ل کو کافی واضح کیا ہے۔

مسلمانوں کی بقاء صرف قدرتی علوم اور ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی کرنے میں ہے۔ذرا اردگرد کی قوموں پرنظر دوڑا کردیکھیں کہ وہ کس رفتارسے نئی سے نئی تخلیقات اورایجادات کررہے ہیں۔اپنی انہی ایجادات سے بہت سی اقوام اورخاص طورسے امریکہ نے دنیامیں اپنی حکمرانی قائم کرلی ہوئی ہے۔ابھی مغرب یاامریکہ میں سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی نے سٹاپ نہیںلگایا بلکہ یہ لوگ مزید آگے سے آگے جارہے ہیں۔چین اورجاپان بھی اب دنیا کی بڑی قوتیں بن چکی ہیں۔ایسے ماحول میں مسلمانوں کویہ سبق دیناکہ تصوف کوشامل نصاب کیاجائے۔بہت عجیب سی بات نظر آتی ہے۔یہ کشمکش دنیا سے بھاگنے کی بات نظر آتی ہے۔امریکہ نے اپنی سائنس اورٹیکنالوجی کی قوت سے موجودہ کرۂ ارض کوہرلہاظ سے اپنی گرفت میں لیاہوا ہے۔بہت اونچائی پرجسے ہم خلاء کہتے ہیں۔

وہاں پر بھی امریکی موجودگی واضح طورپر نظر آتی ہے۔مختلف طرح کے کاموں کے لئے ہزاروں سیارے گردش کررہے ہیں۔International space Centreبھی کئی سالوں سے خلاء میں گردش کررہا ہے۔زمین سے کئی سائنسدان اورماہر خلائی جہازوں کے ذریعے اسٹیشن تک جاتے ہیں اورکئی کئی ماہ وہاںگزارکر اورتجربات کرکے واپس زمین پر آرہے ہیں۔خلائی سٹیشن سے باہرنکل کرخلاء میںسیروتفریح بھی کی جارہی ہے۔چند دن پہلے یہ اطلاع تھی کہ کچھ خواتین خلاء نوردوں نے بھی خلاء میں سیرکی۔ایک خلاء نورد پورے دس ماہ کاعرصہ گزار کروہاں سے زمین پرآیا۔ہبل نامی دوربین بھی500۔کلومیٹر کی بلندی پرگردش کررہی ہے۔اسی دوربین کے ذریعے کائنات میں نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں۔کہکشاؤں کی تعداد جوپہلے 100۔ارب بتائی جاتی تھی۔اب نئی ریسرچ کے مطابق 200۔ارب تک جاپہنچی ہے۔

ہماری اپنی کہکشاں جسےMilky wayکہاجاتا ہے۔اس کے سیاروں کی تفصیلات معلوم ہوتی رہتی ہیں۔یہاں موجود Black Holesکامطالعہ ہورہا ہے۔سٹیفن ہاکنگ نامی معروف سائنسدان اس بلیک ہول کے بارے کافی کچھ معلوم کرچکے تھے۔ملکی وے کہکشاں جس میں ہماری زمین بھی واقع ہے۔اس کے مطالعات کافی آگے بڑھ چکے ہیں۔یہ تو آپ جانتے ہیںکہ امریکہ نے تسخیر کائنات کاتفصیلی پروگرام بنایا ہوا ہے۔مریخMars))پراب تک امریکہ کے4عدد (Rovers)لیبارٹریاں اترچکی ہیں۔اس سیارے کے بارے بے شمار معلوماتNASAنے حاصل کرلی ہیں۔مزید معلومات کے لئے17جولائی2020ء کوایک مشن مریخ کی طرف جائے گا اور18فروری2021ء کو مریخ پرلینڈ کریگا۔یہ عرصہ مریخ کے ایک پورے سال کے برابر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا کے مریضوں کا علاج ڈاکٹر نہیں تو پھر کون کرے گا؟ اٹلی میں اہم پیشرفت

جوگاڑی مریخ پراترے گی اس میں بہت ہی ذہین اورطاقتورربوٹ نصب ہوگا۔یہ ربوٹ مریخ کی مٹی کی کھودائی کریگااور اسے کسی دوسری جگہ مریخ پر ہی محفوظ بنایا جائے گا۔بعدمیں جانے والاکوئی مشن اس مٹی کولیکر ناسا میں واپس آئے گا۔یہ معلوم کرنامقصود ہے کہ کیا قدیم زمانے میں مریخ پر زندگی کے آثار پائے جاتے تھے۔یہ تجربہ مائیکروبیالوجی طرز کاہوگا۔دوستوں کو یہ تومعلوم ہے کہ مریخ اور زمین کا فاصلہ4۔کروڑ اور20لاکھ کلومیٹر اوسطاً شمارہوتا ہے۔اس دفعہ ایسے موقع کاانتظار ہے جب زمین اور مریخ کا فاصلہ کم سے کم ہوکیونکہ دونوں سیارے سورج کے گرد گردش میں ہیں۔امریکہ نے موجودہ مالی سال میں خلائی فورس کے لئے رقوم مختص کردی ہیں۔اس سے پہلے ہم بری،بحری اورہوائی فوج سے توواقف تھے اب دنیاکی واحدسپرپاور خلاء میں بھی اپنی فورس قائم کرنے جارہی ہے۔

اگریہ فورس کامیابی سے قائم ہوگئی توپھرپورے کرۂ ارض کوخلاؤں سے بھی امریکہ ہی کنٹرول کریگا۔موجودہ کرۂ ارض کے تمام ممالک جوپہلے بھی کافی حد تک امریکی کنٹرول میں ہیں۔خلائی فورس سے امریکی کنٹرول مزید مستحکم ہوجائے گا۔دوستو۔یہ باتیں کہانیاں نہیں۔یہ سائنس اورٹیکنالوجی کی حقیقتیں ہیں۔یورپ نے بھی اپنا خلائی پروگرام علیحدہ کئی سالوں سے بنایاہواہے۔یہ بھی اس شعبے میں کافی آگے بڑھ چکے ہیں۔چین اور روس بھی سائنس اورٹیکنالوجی میں بہت ترقی یافتہ ہوچکے ہیں۔یہ ممالک بھی خلاؤں میں اپنا اثرورسوخ بڑھارہے ہیں۔چین نے اپنے ہی کسی پہلے ارسال کردہ مصنوعی سیارے کو زمین سے اپنے میزائل سے مارگرانے کاتجربہ کیاتھا۔امریکہ کو یہ کام اچھا نہیں لگاتھا۔ان تمام باتوں کے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی مختلف قومیں سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیز رفتارترقی کررہی ہیں۔

کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے ہرشعبہ زندگی کوبدل دیاہے۔ہماری کتابوں میں درج کرامات اب بچوں کوراتوں کوسنائی جانے والی کہانیاں لگتی ہیں۔سائنس کے کارنامے اب معجزے محسوس ہوتے ہیں۔جب ہم موبائل سے امریکہ میں رہائش پزیر اپنے دوست سے لمبی لمبی گفتگو کررہے ہوتے ہیں ۔کیایہ صورت حال پرانے زمانے کی کرامات سے اونچے درجے کی بات نہیں لگتی۔اوریہ ساری گفتگو ہم بغیر کسی معاوضہ کے جدید ترینDevicesسے کررہے ہوتے ہیں۔ہمیں 40سال پہلے کی دنیا اب بالکل مختلف نظر آتی ہے۔اگرہم مسلمانوں نے اس کرۂ ارض پرعزت واحترام کی زندگی گزارنی ہے۔تو اسباب کی دنیا میں آگے بڑھنا ہوگا۔اپنا وقت اپنی انرجی اور اپنے وسائل سائنس اور ٹیکنالوجی میں لگائیں گے تو اسی صورت میں ہم طاقت حاصل کرسکتے ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہی معیشتیں بڑھتی ہیں اور پھلتی پھولتی ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی سے اہم اپنی صنعتوں کوترقی دے سکتے ہیں۔برآمدات بڑھاسکتے ہیں اور اپنے خسارے دورکرسکتے ہیں۔ہمیں تصوف والے حضرات ہروقت قلب کی صفائی کاکہتے رہتے ہیں۔جدیدتحقیق یہ بتاتی ہے کہ قلب میں خون کی صفائی اورسپلائی کے علاوہ اورکچھ نہیں ہوتا۔اچھے اور برے خیالات کامرکز صرف اورصرف انسان کادماغ ہے۔ذہن ہے نئے Ideasاورخیالات دماغ میں پیداہوتے ہیں۔عقل کے پھیلاؤ کابھی یہی مرکز ہے۔اگرہم نے قوموں کی برادری میں آگے بڑھنا ہے اورترقی کرنی ہے تواپنی عقل اور دماغی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔اور استعمال کرنا ہے۔اورمختلف شعبہ جات میں مثبت تبدیلیاں لاکراسے بہتر بنانا ہے۔مغرب میں اب انسانی قدرتی دماغی صلاحیتوں کومصنوعی ذہانت سے بڑھاکر سپرمین بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا کے مریضوں کا علاج ڈاکٹر نہیں تو پھر کون کرے گا؟ اٹلی میں اہم پیشرفت

آپ اسے موجودہ انسان کی ارتقائی حالت بھی کہہ سکتے ہیں اس شعبہ پربہت سے کامیاب تجربات ہوچکے ہیں۔ذراتصور کریں کہ اگرموجودہ انسانی دماغی صلاحیتوں کودگنایاچارگنا کردیاجائے توانسان کیاکیا کارنامے سرانجام دے گا۔سائنس اورٹیکنالوجی کے اس بلند ترین دور میں تصوف کوشامل نصاب کرنا مجھے توبہت عجیب لگتا ہے۔مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں پوری5صدیاں پیچھے رہ گئے ہیں اگرہم اپنے وسائل اوروقت روحانیت اور خانقاہی نظام میں صرف کریں گے توکیاہم اسباب کی اس دنیا میں طاقت ور ہوجائیں گے؟۔تصوف کے خیالات اس کرۂ ارض پراسلام سے پہلے سے موجود ہیں۔تحقیق کرنے والوں کوپتہ چل رہا ہے کہ تصوف کے خیالات اورنظریات قدیم ہندوستان ،قدیم ایران اور قدیم یونان میں پیدا ہوئے تھے۔

اسلام سے پہلے تصوف نے عیسائیت کوبھی صراۃ مستقیم سے ہٹاکر غلط راستے پرلگادیاتھا۔صاحبان تصوف یاترک دنیا کے ماہرین عیسائیوں میں مسلمانوں سے بھی زیادہ ہوگزرے ہیں۔عیسائی صوفیوں نے تمام یورپ کو غلام بناکر رکھ دیاتھا۔عیسائیوں کوان صوفیانہ طرز کے راہبوں سے جان چھڑانے کے لئے بڑی جدوجہد کرنی پڑی تھی۔احیاء العلوم کی تحریک اور اصلاح مذہب کی تحریکیں بڑے پیمانے پرچلائی گئی تھیں۔اورپھر انقلاب فرانس کے بعد یورپ مں انسان آزاد ہوا۔سائنس اورٹیکنالوجی آگے بڑھی۔تصوف نے مسلمانوں کوبطورقوم کبھی طاقت فراہم نہیں کی۔نقصان یہ ہواکہ بڑے بڑے ذہین لوگوں کی صلاحیتیں اس شعبہ میں آکر ضائع ہوئیں۔برصغیر پاک وہند میں تصوف کاپودا جلد پھیلا اوربڑاہوا۔

قرآن وسنت جوعربی زبان میں تھے۔برصغیر کے عوام کے لئے اجنبی تھے اور اب بھی عوام کی رسائی ان تک نہ ہے۔اب آکر اردو اور انگریزی تراجم سے مسلمانوں کابلواسطہ تعلق قائم ہواہے۔لوگ اب قرآن سے استعفادہ کرنے لگے ہیں۔اس پرغوروحوض بھی شروع ہوا ہے۔کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں کوبھی قرآنی آیات سے سمجھاجانے لگا ہے۔قرآن وسنت کوجاننے اور سمجھنے کی تحریک کوآگے بڑھانا اسلام کوجاننے کے لئے کافی ہے۔تصوف کی کتابوں سے مسلمانوں کودوررکھنا مسلمانوں پربہت بڑااحسان ہوگا۔مغرب کی یونیورسٹیوں میں اگر یہ کہیں شامل نصاب ہے تووہ فلسفہ کی شاخ کے طورپر ہے۔مجموعی طورپر انکی یونیورسٹیاں اسبا ب کی دنیا میں رہ کر نئے علوم پیداکررہی ہیں۔

نئی سے نئی ایجادات کے طریقے یونیورسٹیوں میں پیداہورہے ہیں۔باطنیت کی تعلیم وہاں نہیں ہے۔ہمارے لئے مینارۂ نور ہمارے بنیﷺ کی ذات ہے۔اورپھر ابوبکرصدیقؓ،عمربن خطابؓ ،عثمان غنیؓ اورحضرت علیؓ۔بہت سے دیگر صحابیؓ بھی ہمارے رہبرہیں۔سیرت رسولؐ اورصحابہ کرامؓ کی زندگیوں پراب بڑی تحقیقی کتابیں شائع ہوچکی ہے۔ہمارے لئے یہی لوگ دینی رہنمائی کے لئے کافی ہیں۔حضرت علیؓ کی زندگی بھی ایک انسان کی زندگی ہی تھی۔ان میں مافوق الفطرت کچھ بھی نہ تھا۔

ان چاروں صحابہ کرامؓ پراب بڑی بڑی تحقیقی کتب دودوجلدوں میں شائع ہوچکی ہیں۔لوگوںکو دینی رہنمائی کے لئے نبی اکرم کی ذات اورچاروں خلفاء کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔یہ ہمارے لئے کافی وشافی ہے ۔تصوف کی بھول بھلیوں سے بچنا ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے۔اگرکسی نے صوفی بننا ہے تووہ سائنس کاصوفی بنے۔لیبارٹری اورلائبریری میں بیٹھ کر تحقیق وتخلیق کی منزلیں طے کرے۔مسلمانوں کی بقاء کاراز اسی میں ہے۔