سوال کا سوال - عمران منیر

مُعم سروش
میری انتہائے نگارش ہے
تیرے نام سے ابتدا کر رہا ہوں

انسان کی پیدائش سے شعور تک کے سفر میں سب سے اہم جزو سوال ہے۔ حضرتِ انسان اپنے ہوش و حواس میں خود ایک مجسم سوال ہے۔نظر سوال کا بنیادی ماخذ و محرک ہے۔ نامعلوم کو جاننا جبلت میں ودیعت کر دیا گیا اور پھر حکم ہوا غور و فکر کرو۔ مجبور و مہقور وسائلہمیشہ جواب کے آڑے آتے ہیں اور جہل کی پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔

دور جدید میں سایئنس نے نوع انسانی پر بڑا کرم کر دیا اور یہ ریاضیاتی کلیات و سائنسی اصولوں سے جواب کو ثابت کرنے میں جُت گئی۔ابفلسفہ کی دور سے آگے جہانوں میں قدم رکھنے کا سُنہرا دور شروع ہو چکا ہے۔ سوال بھی نئے ہیں اور اصولوں پر مبنی جواب بھی دلائل لئےبیٹھے ہیں۔

دانائی کا بنیادی فرمان ہی یہ ہے کہ “جو قائل ہوا دلیل سے قائل ہوا”۔ حواس خمسہ شعور و عقل کی معراج تک لے جانے کے زینے ہیں۔ گود سے گور تک سوال و جواب کا سلسلہ ذہنی ارتقاء کے ہم رکاب رہتا ہے۔ وجدان کے لامحدود صحراؤں اور تنگ نظری کی اتھاہ گہرائیوں کےبیچ چھپے سچ کی تلاش ہی زندگی کا کُل حاصل ہے۔

معلوم اور علم کے بیچ ایک انتہائی باریک لکیر ہے جہاں اکثر گمراہی باہیں پھیلائے آپ کا استقبال کرتی ہے۔ علم ، معلوم کو اصول و ضوابط کی کسوٹی پر غوروفکر کے ساتھ پرکھنے کے بعد کی ریفایئنڈ پروڈکٹ کا نام ہے۔ ایک بڑی خوبصورت پہچان علم کا خاموش ہونا اور معلوم کا شور کرنا ہے۔ معلوم کہتا ہے اُٹھو گھنگھرو پہنو اور ناچ ناچ کر اعلان کرو۔ جبکہعلم خاموشی کے سمندر کی تہہ میں استراحت فرما ہوتا ہے۔ یہی حاصل ہے کہ آپ اس سمندر کی گہرائی تک جانے کا کشٹ اُٹھانے کا حوصلہرکھتے ہیں کہ نہیں۔

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

حاصل گفتگو یہ ہے کہ انسان تن آسانی کا مارا اس خواہش تلے دبا ہوا ہے کہ بنا محنت ہی منزل حاصل ہو جائے۔ بھائی بات یہ ہے کہ کُن خالق کی خصوصیت ہے آپ پر معلوم کی جانچ پڑتال غور و فکر کے ساتھ فرض کی گئی ہے یہی دنیاوی و اخروی منزلہے۔ محنت کے بعد حاصل کی گئی منزل ہی آپ کی بہشت ابریں ہے جس آپ میں ہمیشہ رہیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */