ایک تصویر دو رُخ - بشری زاہد

"امی امی ! یہ فائرنگ کی آوازیں بہت قریب سے آ رہی ہیں؟ " بارہ سالہ ارسلان بھاگتے ہوئے امی ماں کے گلے سے چمٹ گیا۔"اللہ خیر رکھے بیٹا ! تمہارے ابا اور چچا بھی گھر سے باہر ہیں۔ زوبیہ اور زنیرا کدھر ہیں ؟ ان کو میرے پاس لے آو جلدی سے " چھ سالہ زوبیہ اور تین سالہ زنیرا ساتھ والے کمرے میں بے حس و حرکت ایک دوسرے سے چمٹ کے کھڑی تھیں۔

ایسا کہیں گھنٹوں ہوتا رہا ۔ باہر سے گولیوں کے چلنے، لوگوں کے کراہنے ، چیخنے چلانے کی آوازیں آتی رہیں۔ اگرچہ ایسا پہلی بار نہہوا تھا ۔ لیکن اس بار نجانے کیوں سانس حلق کو آ رہی تھی۔ کچھ ہمت کر کے روزینہ نے جب فون تلاش کیا تو معلوم ہوا کہفون، ریڈیو اور ٹی وی کی لائنیں بھی کاٹ دی گئ ہیں۔

کچن کے دروازے سے ایک کھڑکی ساتھ والے گھر کو کھلتی تھی ۔ جب گولیوں کی آواز کچھ تھمی تو زوزینہ کچن کی طرف ہمسائیوں کیخبر لینے گئ۔ وہاں بھی سناٹا تھا۔ کتنی دیر کوشش کرتی رہی کہ ہمت کر کے ہمسائ کو نام لے کر پکاروں ۔لیکن یوں لگتا تھا زبانکی ہلکی سی جنبش بھی گولیوں کا رخ ادھرکو پھیر دے گی۔ پوری رات روزینہ اور اس کے بچوں نے ایک دوسرے کے سینے سےلگے ، پھٹی ہوئ خاموش جاگتی آنکھوں میں کاٹ دی۔ ارسلان اور زوبیہ تو پھر سمجھدار تھے، مجال ہے جو زونیرا کے منہ سے بھیکوئ حرف نکلا ہو۔ اس رات نہ اسے کوئ دودھ چاہیے تھا، نہ کھیلنے کے لیے کوئ ساتھ۔ خوف نے شاید ان سے انکی ذات کیموجودگی کو احساس چھین لیا تھا۔

اگلی صبح روزینہ نے قرآن کی تلاوت شروع کی کہ شاید دل کو کچھ قرار آ جائے۔ ارسلان بھی خاموشی سے سننے لگا۔ سورہ البقرہ کیتلاوت کرتے کرتے والدہ جب اس آیت پر آئیں۔

واستعینوا بالصبر والصلٰوة

ارسلان نے کہا " امی ! آپکو معلوم ہے اس آیت کا کیا مطہب ہے ؟ میں نے قاری صاحب سے ترجمہ سیکھا ہے۔ اسکا مطلبہے۔ صبر اور نماز سے کام لو۔ لیکن امی ! یہ دیکھیں فجر کی نماز کا وقت ہوگیا، لیکن کوئ اذان کی آواز نہیں؟ کوئ چہل پہل نہیں۔ایسی خاموشی جیسے رات ہو؟ چچا اور ابو بھی ابھی تک گھر نہیں آئے " روزینہ کے پاس ان سب باتوں کے جواب میں کہنے کو بس یہی تھا۔ "بیٹا! اللہ نے کہا نہ صبر اور نماز سے کام لو۔ چلو نماز پڑھتےہیں۔ اور ہم بھی صبر کریں گے ۔حضرت ایوبؑ والا صبر " ارسلان والدہ کی آنکھوں میں موجود نمی کو پھانپ گیا۔ " جی امی جان ! ویسے بھی قاری صاحب کہتے ہیں۔ مسلمان کے لیے کوئ خوف نہیں۔ اگر وہ لوٹ آئے تو غازی ، نہ لوٹے تو شہید " یہ کہ کر چاروںبے اختیار رونے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر میں مظالم اور اللہ تعالیٰ کی داہمی سنت - میر افسرامان

کرفیو کو کہیں دن گزر گئے تھے۔ باہر کی دنیا کی کوئ خبر نہ تھی۔ اب تو گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہیں بچا تھا۔ ارسلان نے سوچا وہہمت کر کے باہر جائے گا۔ اپنے چچا اور ابا جان کی کوئ خبر معلوم کرے گا۔ کچھ گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کرے گا۔لیکن روزینہ کا دل بیٹھا جارہا تھا۔ نہ ہی یہ ممکن تھا کہ گھر بیٹھ کر اپنی موت کا انتظار کریں ۔نہ ہی باہر نکل کر اپنے جوان بیٹے کوگولیوں کی بوچھاڑ کے حوالے کرنے کو دل تیار تھا۔ رات کی تاریکی میں ارسلان نے گلی میں جھانکنے کی ہمت کی۔ کچھ فوجی اس وقت بھی گلی میں پہرا دے رہے تھے ۔

اس کا دل کررہا تھا انکی آنکھیں نوچ لے۔ ان سے چیخ چیخ کر پوچھے کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟ میرے چچا اور ابا کہاں ہیں ؟ تھوڑی دیر میں گلی میںعجیب شور سنائ دیا۔ " ارے یہ تو فیاض بابا ہیں۔" گلی میں ان کی چیخ چیخ کر رونے اور منت سماجت کرنے کی آواز آنے لگی ۔" ظالموں ! میری ماں مر رہی ہے۔ اسکی دوا دارو کا کوئ بندو بست کرنےدو۔ یا پھر اس گناہ میں مجھے بھی مار دو"۔ فوجیوں کے ظالمانہقہقے آسمان میں گونجنے لگے۔ " چلو! جیسے تمہاری مرضی! جاو اپنی والدہ کے ساتھ جنت میں۔ " آخری آواز گلی سے بس یہی آئ اورپھر اس کے بعد پوری رات سناٹا رہا۔ کوئ چیخ پکار نہیں، کوئ آہ و زاری نہیں۔ با لکل خاموشی ۔ساتھ والے کمرے سے والدہ کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی۔ الا ان نصر اللہ قریب

خبر دار رہو! اللہ کی مدد قریب ہے۔ ارسلان نم آنکھوں سے امی سے پوچھنے لگا۔ " امی جان ! کیا ہم مسلمان نہیں؟ کیا ہم اچھے لوگ نہیں؟ پھر اللہ کے وعدے ؟اللہ کی مدد ؟ امی جان! اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ "
روزینہ مصحف کو بند کرتے ہوئے پورے اطمینان کے ساتھ بولی ۔ " کیوں نہیں بیٹا۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ دیکھنا پوری اسلامی دنیا ہمارے لیے بے بس ہوگی۔ ۵کڑوڑ مسلمان ہمارے لیے تڑپ رہے ہونگے۔ اور پھر پاکستان ۔۔۔پاکستان تو جلد ہی ہمارے حق میں کوئ قدم اٹھائے گا۔ اللہکے وعدے سچے ہیں بیٹا۔"

یہ بھی پڑھیں:   زائرہ وسیم کی کشمیر کے موضوع پر انسٹا گرام پوسٹ وائرل

" ماما ! ہمارے اسکول میں کل کشمیر ڈے منایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ہمیں کشمیری کپڑے پہننے ہونگے۔ آئیں چلیں بازار چلتےہیں۔ مجھے وہ پیاری سی کشمیری فراق پہننی ہے ۔ اور ماما! کل اسکول میں دومنٹ کے لیے کشمیر کی وجہ سے خاموشی بھی ہوگی۔ اچھا ماما! ایک اور بات۔ کشمیر پر ظلم ہو رہا ہے ؟ انڈیا ان کو مار رہا ہے اور گھروں میں بند کر دیا ہے ؟ کوئ گھر سے باہر نہیں نکلسکتا ؟ " چوتھی جماعت میں پڑھنے والی معصوم سی مریم بہت سے سوال اکھٹے اپنی والدہ سے پوچھنے لگی۔

جی بیٹا! کشمیریوں پر بڑا ظلم ہو رہا ہے۔ اللہ انکی مدد کرے۔" " ماما! کل ہم اسکول سے باہر نکل کر نعرے بھی لگائینگے۔ ایک میں نے یاد بھی کرلیا۔ ' کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔' ویسے ماما! شہ رگ کیا ہوتا ہے ؟
بیٹا ! ہمارے جسم میں ایک بہت اہم رگ ہے۔ اگر یہ کٹ جائے تو جسم ختم۔" " اوہو ماما! اسکا مطلب ، کشمیر گیا تو پاکستان بھی ختم ؟ " " ایسا نہ کہو بیٹا ! یہ بڑی باتیں ہیں، تمہیں سمجھ نہیں آئینگی۔ چلو بازار چلتے ہیں۔
ویسے ماما ! کشمیریوں والے کپڑے پہننے سے ، نعرہ لگانے سے اور دو منٹ خاموش رہنے سے کشمیر آزاد ہو جائے گا ؟ " " ارے نہیں بیٹا! کہا نہ ، تم زیادہ نہ سوچو، ہم اور کر بھی کیا سکتے ہیں ۔ہم ان کے لیے دعا جو کرتے ہیں۔
لیکن ماما! دعا تو وہ بیچارے بھی اپنے لیے کرتے ہونگے۔ ہم تو آزاد ملک ہیں، ہمیں تو دعاوں سے کچھ بڑھ کر کرنا چاہیے نہ "