حالیہ برف باری اور کاکڑ خراسان کی حالت زار - محمد اکمل جمال

ملک کے بیشتر علاقوں کی طرح بلوچستان کے شمالی اضلاع بھی آج کل سخت سردی کے لپیٹ میں ہیں ، کئی دن سے تسلسل کے ساتھ ہونے والی برفباری نے لوگوں کا برا حال کیا ہے، بلوچستان کو کے پی اور افغانستان سے ملانے والی دو اہم شاہراہیں: کوئٹہ ژوب اور کوئٹہ چمن شاہراہ چند دن بند رہنے کے بعد اب جزوی طور پر کھل چکی ہیں ۔

کوئٹہ ژوب شاہراہ پر واقع کان مہترزئی یہاں کا سرد ترین علاقہ ہے، سطح زمین سے نہایت بلندی پر ہونے کی وجہ سے یہاں ہر سال برف باری ہوتی ہے، جو کئی دن تک پگھلنے کا نام نہیں لیتی ۔ اس مرتبہ بھی یہاں دوسرے علاقوں کی نسبت برف زیادہ پڑگئی، جس کے نتیجے میں درجنوں مسافر گاڑیاں اور سینکڑوں مسافر پھنس کر محصور ہوگئے ۔ جو بعد میں مقامی افراد اور کچھ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ریسیکیو کیے گئے ۔لیکن دو تین صوبوں کو ملانے والی یہ اہم شاہراہ ابھی تک پوری بحال نہیں ہے ۔ مین شاہراہوں پر جمی برف تو ہٹادی گئی ، مگر ان مصروف شاہراہوں سے دور اکثر بستیوں اور دیہاتوں میں اب بھی برف بدستور پڑی ہوئی ہے، جو کم از ایک فٹ تک ہے۔ جس سے انسانوں کی طرح براہ رست جانوروں کی زندگی کو بھی خطرہ ہے۔ مجھے یہاں اپنے علاقے اور اس میں بستی آبادی کی حالت زار کا نوحہ سنانا ہے۔ ہمارا علاقہ تحصیل کاکڑ خراسان ، ضلع ژوب کے جنوب مشرق میں واقع ، کئی میل پر پھیلا ہوا ، اس ضلع کا شاید رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا تحصیل ہے۔ افغانستان کے سرد تین حصے سے قربت اور کچھ فطری خدوخال اور محل وقوع کی وجہ سے یہاں تقریبا ہر سال برف پڑتی ہے، مگر اس سال کی برفباری کو ریکارڈڈ کہا جارہا ہے۔

کچھ فرق کے ساتھ فٹ، پون فٹ یا بعض جگہ کچھ آدھ گز کے قریب برف پڑٰی ہے، جس نے آمد ورفت کی طرح انسانی زندگی کو بھی مشکل بنا رکھا ہے، انتظامیہ اور کچھ مقامی افراد کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت کی جانے والی کاروائیوں کے نتیجے میں ژوب قمردین شاہراہ جزوی طور پر آمد ورفت کےلیے کھل چکی ہے، تاہم قریب اور دور کے چھوٹے بڑے راستے برف کی وجہ سے تاحال سفر کےلیے ناہموار ہیں۔ لیکن چونکہ یہ علاقہ اور اس گزرنے والا راستہ نہ کسی مصروف شاہراہ کی حیثیت رکھتا ہے، نہ یہاں بین الصوبائی یا بین الملکی ٹریفک چلتی ہے، اس لیے انتظامیے کی جانب سے بدستور اگنور ڈ ہے۔ حالانکہ شمالی بلوچستان کے اکثر دیہی آبادیوں کی طرح یہاں بھی ایک طرف جہاں ایک گاوں کا دوسرے گاوں سے رابطے کٹ چکے ہیں، وہاں ان دیہات کا قریبی شہر سے بھی رابطہ منقطع ہے، جبکہ بستیوں میں انفرادی سطح پر سٹور کردہ خواراک اور دیگر اشیائے ضرورت اب تقریبا ناپید ہیں۔ چونکہ یہاں کے لوگ مال مویشی بھی رکھتے ہیں، جو پورا سال گھر سے باہر چرتے ہیں، فٹ یا اس سے زیادہ برف پڑنے کے باعث جانور نہ باہر نکل کر چرسکتے، نہ اتنی مقدار کے برف میں ان کو کوئی گھاس اور خوراکی چارہ میسر آسکتا ہے، گھروں میں ان کے لیے چارے کی بندوبست ہے ناممکن ؟

اس لیے سخت سردی اور اس کے باعث اٹھنے والی بھوک کی کشمکش میں موت ان کو آلیتی ہے، جس سے ان کے مالکان ، جن کی معیشیت کا سہارا صرف یہی مال مویشی ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ گیس اور بجلی کی سہولت سے محرومی کے باعث یہاں کے لوگ سخت سردی میں گیس ہیٹر یا بجلی ہیٹر کی جگہ حرارت کے حصول کےلیے لکڑٰی کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں، جس کےلیے وہ سردی کی آمد سے مہینہ بھر پہلے گھر کے چند افراد کو بھیج کر پہاڑٰی درختوں سے اتنی مقدار میں لکڑی کاٹ کر جمع کرتے ہیں، جس سے ٹرک یا ایک ٹریکٹر بھر جائے ، پھر یہ لوڈ پورے سردی کے موسم میں استعمال کرتے ہیں، اب کے بار سردی کی شدت کے باعث اتنی لکڑیاں استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی ، کہ جمع کردہ لکڑٰی وقت سے پہلے ختم ہوئی، اب سردی اور برف کے باعث مزید لکڑی لانے پہاڑوں کی طرف رخ کرنے کا امکان نہیں ہے، گھر موجود لکڑٰی ختم ہوگئی، لہذا سردی سے بچاو کےلیے کیا کیا جائے؟؟؟ آبادی کم ہونے کی وجہ سے یہاں گاوں میں اتنی بڑٰی دکانیں نہیں ہوتیں، جن میں ہمہ وقت جملہ اشیائے ضرورت کی فراہمی یقینی ہو، بلکہ یہ ضرورت پورا کرنے کےلیے ہفتہ وار یا دس روز کے وقفے سے قریب یا دور کے شہر وبازار کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔

اب چونکہ بازار اور گاوں کے درمیان برف کے باعث آمد ورفت کے راستے منقطع ہیں، اس لیے راشن جیسی اہم ضرورت کو لوگ ترس رہے ہیں۔ پورے علاقے میں صرف ایک ٹیلینار سروس جزوی طور پر بحال ہے، جس سے لوگ عام طور پر اپنے پیاروں سے رابطے کی ضرورت پوری کرتے ہیں، مگر مشکل یہ ہے کہ موبائل چارچنگ کےلیے بجلی نہیں ہے، اگر چہ اس کا متبادل انتظام وہاں کے لوگوں نے یہ نکالا ہے کہ سولر سے موبائل چار کر لیتے ہیں، لیکن اس موسم میں وہ بھی کار آمد نہیں ہے، اس لیے کہ بارشی اور برفیلے موسم میں سورج کی تپش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، جس سے سولر کی پاور سیونگ بیٹری میں اتنا چارج نہیں بھرتا، جو چارجنگ کی ضرورت کو پورا کرسکے، اس مشکل کی وجہ سے زمینی رابطے منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ مواصلاتی رابطے بھی ندارد ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض وہ لوگ جو برفباری کے پہلے دن گھر کی طرف چلے، پانچ روز کے بعد ان کے پہنچنے کی خبر ملی۔ یہاں کے گھر عمومامٹی کے بنے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ کی دیواریں اگر مضبوط پتھر پر کھڑی بھی ہیں، تو ان کی لپائی اور اوپر کی چھت مٹی کی ہوتی ہیں،

جن میں زیادہ بارش کی صورت میں یا برف پڑنے کے باعث پانی رستے رستے چھت بیٹھ جاتی ہیں، دیواروں میں رخنے پڑجاتے ہیں اور پھر پورا کمرہ دھڑام سے آگرتا ہے، حالیہ برفباری میں ژوب میں ایک ہی گھرانے سے اٹھنے والی چھ لاشوں کا باعث اسی طرز کا حادثہ بنا۔ ویسے تو اس علاقے میں عام سہولیات کی عدم فراہمی اور عوامی ضروریات کے فقدان کا مسئلہ اتنا سنگین ہے، جو نا قابل بیان ہے۔ جس پر کسی وقت تفصیل سے انشاء اللہ لکھنے کا ارادہ ہے، فی الحال برف باری کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اور ممکن خدشات کے حوالے سے عرضی پیش خدمت ہے۔ ہمارا انتظامیہ اور حکام سے اپیل ہے، کہ شہر سے میلوں دور اس علاقے پر خصوصی توجہ دی جائے، ژوب سے قمردین جانے والے راستے کو فی الفور کلیئر کیا جائے، سڑک سے فاصلے پر آباد دیہاتوں کی باسیوں کی خوارک، سردی اور برف سے بچانے والی اشیاء کی فوری بند وبست کریں ، یہاں کے لوگوں کے مال مویشی کے چارے کے لیے بھی خصوصی بنیادوں پر اقدامات کریں ۔ خیال رہے، کہ برفباری اور بارشوں کی تازہ لہر کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں ، جن کے وقوع سے قبل ان اقدامات پر فوری عمل کرنے کرانے کی اپیل ہے .