میرا یہ بھرم تھا. . . عمران خان - محمودفیاض

بیس بائیس سال کی جدوجہد میں میں نے عمران خان سے مسلسل محبت کی ہے۔ اشفاق صاحب والی محبت، جس میں محبوب کا "نا ٹھیک" بھی ٹھیک دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان نے جب سیاست شروع کی تو پہلے دو ہزار لوگ، جنہوں نے تحریک انصاف کا فارم بھرا ان میں میرا نام شامل تھا۔ ۔ ۔ اگر کوئی ڈیٹابیس رکھتا ہے تو چیک کر سکتا ہے سولہ سترہ سو کے قریب سیریل نمبر میں میرا نام ضرور مل جائیگا۔

مجھے کرکٹ سے کبھی دلچسپی نہیں رہی، اسکے باوجود میں اس نوے کی دہائی کے جنون کا شکار رہا جس میں ہم نے ورلڈ کپ جیتا اور عمران خان کو کاندھوں پر بٹھا لیا۔ عمران خان بھی اس فیکٹ کا انکار نہیں کر سکتا کہ اس روز کے بعد سے قوم نے کبھی اسکو کاندھوں سے اتارا نہیں۔ کوئی پاکستانی قوم کی محبت اور خلوص جاننا چاہے تو یہی ایک مثال کافی ہے۔ عمران خان کو سلیبرٹی کہنے والے غلط ہیں۔ سلیبرٹی کو دیکھ کر انسان رعب کا شکار ہوتا ہے۔ اسکا آٹوگراف مانگتا ہے۔ اس کو اسٹار سمجھتا ہے۔ عمران خان کو بانوے کے ورلڈ کپ نے جو مقام دلوایا وہ ایک گھر کے فرد کا تھا۔ اس نے ہسپتال کے لیے چندہ مانگا تو وہ عورتیں گھروں سے نکلیں جن کا چہرہ سورج نے کم کم ہی دیکھا ہوگا۔ ان مائیوں نے اسکی بلائیں لیں جن کو اس میں اپنا بیٹا دکھائی دیتا تھا۔ ان بوڑھوں نے اسکا ماتھا چوما جو جوان اولاد کے دکھ سے کبڑے ہو چکے تھے۔ جوان دلوں کی دھڑکن تو وہ تھا ہی، بانوے کے ورلڈ کپ اور کینسر ہسپتال کے بعد وہ ہر پاکستانی کے گھر کا فرد بن گیا۔ ۔ ۔ اس لیے آپ آج بھی پرانے محلوں میں انٹرویو لینے نکل جاؤ، لوگ ہمیشہ کہیں گے، "عمران کہتا ہے، عمران کرتا ہے ۔ ۔" ، کبھی یہ نہیں کہیں گے "عمران خان صاحب کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ " ۔

۔ ۔ یہ بے تکلفی صرف جوان بیٹے کے ماں باپ کرتے ہیں، جب وہ پیار سے اپنے بچوں کی بڑائی کر رہے ہوتے ہیں۔ سیاست کی داستان آپ سب جانتے ہیں۔ یہ مضمون سیاسی نہیں ہے۔ بس اتنا جان لیں کہ عمران خان نے جب مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ میں آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا، وہ وہی عمران خان تھا جو بانوے کے ورلڈ کپ سے کینسر ہسپتال تک عوام کی جیب سے پیسے ایسے نکال لیتا تھا جیسے میں بچپن میں اپنی دادی اماں کی جیب سے نکال لیتا تھا۔ اپنے سمجھ کر، اور دادی کی ڈانٹ میں بھی پیار ہوتا تھا۔ عمران خان وزیراعظم بن گیا تو میں نے پوسٹ کی کہ یوں لگتا ہے ہم تپتی دھوپ سے چھاؤں میں آگئے ہیں۔ جیسے کوئی ہے جس کو ہماری فکر ہے۔ کوئی ہے جو پل پل ہمارا خیال رکھ رہا ہے۔ یہ بھرم یونہی نہیں تھا۔ اس کے پیچھے بائیس سال کا وہ مان تھا جو ہر چھوٹے بڑے، امیر غریب نے عمران خان کی جھولی میں ڈال رکھا تھا۔ ملک آدمخوروں کے قبضے میں تھا۔ اربوں ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا تھا۔ پیسوں کے بغیر تو ایک جھونپڑی میں جینا مشکل ہے، ایک ملک کا چلانا کونسا آسان تھا۔ ہم سب کو علم تھا۔

عمران خان نے جو بھی کرنا ہے کسی زاتی مفاد میں نہیں کرنا۔ یہ قوم قربانی تو ہمیشہ سے دیتی آئی ہے۔ جس نے بھی مانگی ہمیشہ غریب عوام سے قربانی مانگی، تو اس بار بھی سہی۔ ویسے بھی بھیڑ کی قربانی بھی کیا قربانی ہے، اگر وہ انکار بھی کر دے زبح تو اسی نے ہونا ہوتا ہے۔ مگر کچھ امیدیں تھیں، جو ایک غریب باپ کے گھر آنے پر اسکے بچے بھی اس سے لگا لیتے ہیں۔ وہی امیدیں میری عمران خان سے تھیں۔ اپنے بہن بھائیوں کے لیے۔ عمران خان کو میں نے اس عوام کا باپ سمجھا ۔ ۔ ۔ بس میرا یہ بھرم تھا۔ میں نے سمجھا کہ غریب باپ کی جیب میں پیسہ نہ بھی ہو وہ اپنے بچوں پر کسی کو ہاتھ اٹھاتے نہیں دیکھ سکتا۔ ۔ وہ اپنے بچوں کی طرف آنے والی ہر مصیبت اپنے سر لینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ مگر میرا بھرم ٹوٹا جب "غریب باپ" یعنی عمران خان کے سامنے اسکے بچوں یعنی عوام کو بے دردی سے گولیاں مار دی گئیں اور غریب باپ سے ڈھنگ کا جھوٹا رونا بھی نہ رویا گیا۔ میرا یہ بھرم تھا کہ غریب باپ کی بیٹی کی عزت لٹنے سے پہلے غریب باپ اپنی جان لٹا چکتا ہے۔ مگر میرے سامنے بیٹیوں کی عزتیں لٹتی جا رہی ہیں، اور "غریب باپ" صرف اس پر مطمئن ہے کہ اس نے کمیٹی ڈال رکھی ہے جیسے ہی وہ کھلے گی تو وہ "بیٹیوں کی باعزت رخصتی" کا انتظام کر دیگا۔

میرا یہ بھرم تھا کہ غریب باپ کے لیے اپنے بچوں کی بھوک برداشت نہیں کر سکتا۔ اپنے حصے کا نوالہ بھی انکو دے دیتا ہے۔ اور اگر کچھ کر نہیں سکتا تو اسکے چہرے پر بے بسی اور ملامت دور سے دیکھنے والے کو بھی نظر آ جاتی ہے۔ مگر میرا یہ بھرم بھی روز ٹوٹتا ہے جب بھوک سے عوام خودکشیاں کرتے ہیں اور عوام کے باپ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جب آٹے کے لیے قطاریں لگتی ہیں تو غریب عوام کے باپ کے وزیر مذاق اڑاتے ہیں، اور وہ خاموش رہتا ہے۔
میرا عمران خان سے یہ بھرم تھا کہ اسکی حکومت میں چاہے کتنی بھی سختیاں آئیں گی، عمران خان اپنی چندہ مہم کی طرح مجھے عوام کے درمیان نظر آئیگا۔ مگر اس بار وہ کچھ مانگنے کی بجائے انکو تسلی دے رہا ہوگا۔ ان کو حوصلہ اور صبر دے رہا ہوگا۔ میرا یہ بھرم تھا کہ کراچی سے خیبر تک کسی غریب سے زیادتی ہوگی تو عمران خان کو خبر ہو جائے گی۔ کسی بیٹی کی عزت پر ہاتھ پڑیگا، تو اسکے قائم کردہ وزراء فوراً متحرک ہو جائیں گے، شام تک محکمے الرٹ ہو جائیں گے، اور کسی بچے کی نعش ملنے پر تو عمران خان ننگے پاؤں دوڑتا چلا آئیگا، اور بالکل ویسے ہی غمزدہ ماں باپ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جائیگا، جیسے ملتان جلسے میں اپنے کارکن کے مرنے پر اسکے باپ کے سامنے کھڑا تھا۔

لاکھ سوچتا ہوں کہ نہیں عمران خان کے بس کی بات نہیں ہے یہ۔ کسی بھی حکمران کے بس کی بات نہیں کہ بیس کروڑ کے ملک کے ہر فرد کی رکھوالی کرے۔ پھر خیال آتا ہے کہ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کے پاس یہ مثال تو ہوگی کہ بغیر انٹرنیٹ، فون، وٹس ایپ، سی سی ٹی وی، حتیٰ کے تار، اور زرائع مواصلات کے بغیر تب خلیفہ وقت کیسے اپنے عوام کے حال سے باخبر رہتے تھے۔ آج کے ریاست مدینہ کے دعویدار کے پاس وسائل کی کمی تو نہیں ہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پیغام رسانی اور رابطے کی ٹیکنالوجی ہے، لاکھوں سرکاری ملازمین ہیں اور لاکھوں ہی کی تعداد میں اسکے جانثار ہیں جو پچھلے دس برسوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر مفت میں کام کرتے ہیں۔ اتنے وسائل اور اذہان کے باوجود اگر ایک قتل کا سراغ نہیں ملتا، اور ایک ریپ کا مجرم بچ نکلتا ہے تو "اس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے"۔ عمران خان چاہے تو پولیس کے محکمے کے متوازی رضاکاروں کی ایک فوج کھڑی کر سکتا ہے، جو ہر شہر کی پل پل کی خبر اسکو دیتے۔ مہنگائی، ٹریفک، اقربا پروری کی خبریں تو ہم روزانہ سوشل میڈیا تک مفت پہنچاتے ہیں، ان کی چھان بین کرنے کے لیے ہزار پانچ سو رضاکار بھی ڈال دیں تو ایک ایک لمحے کی رپورٹ اور تدارک ممکن ہو سکتی تھی۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں پانچ لاکھ رضاکاروں کے لیے عمران خان کے وزیراعظم والے آفس میں ایک الیکٹرانک وال بنائی جا سکتی تھی، جس کا ہر نکتہ ایک وٹس ایپ رضاکار ہوتا، جو اوکے، الرٹ، یا خطرے کے سرخ، سبز یا زرد رنگوں سے ظاہر ہوتا۔ وزیراعظم ایک نظر سے دیکھ لیتا کہ سرخ کتنا ہے اور سبز کتنا۔
یہ سب کام ممکن تھے، اگر غریب باپ کی نظر میں اسکے عوام اسکی اولاد ہوتے۔ اور میرا عمران خان سے یہ بھرم تھا کہ وہ عوام کا وہ والا غریب باپ ثابت ہوگا، جو پوری روٹی دے نہ دے، پوری محبت ضرور دیتا ہے۔ میرا یہ بھرم ان دو سالوں میں ٹوٹ گیا۔ عمران خان، یا کوئی اور ۔ ۔ ۔ اس ملک کا قرض بھی اتار دیگا ۔ اکانومی بھی ٹھیک ہو جائے گی۔ اور باقی سب بھی ٹھیک ہو جائیگا۔ ممکن ہے عمران خان کے اس دور میں یا اگلے دس سالوں میں۔ مگر اس میں ایک لیڈر کی عوام سے محبت نہیں ہوگی، بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ کا بے رحمانہ آپریشن ہوگا۔ یہ تو کوئی اور بھی کر دیتا۔ عمران خان کی کیا ضرورت تھی؟ اس لیے میرا یہ عمران خان کے بارے میں آخری مضمون ہے۔ پچھلے دس سالوں میں عمران خان کی حمائت و محبت میں دسیوں مضامین لکھے۔ ان سب کا بھرم ان دو سالوں میں ٹوٹ گیا۔ جو لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ اسکو مزید وقت دو۔ ۔ وہ نہیں جانتے کہ بھرم ٹوٹنے کا ٹائم ٹیبل نہیں ہوتا، یہ ایک لمحے میں ٹوٹتا ہے۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.