زندگی تماشا- خورشید ندیم

زندگی تماشا ہی تو ہے! جس ملک میں فلموں کی نمائش کا فیصلہ مذہبی جماعتوں اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ہاتھ میں دے دیا جائے، وہاں زندگی کیا، موت بھی تماشا بن جاتی ہے۔
معاشرہ بھی انسان کی طرح ہوتا ہے۔ اس کی جمالیاتی موت واقع ہو جائے تو سجھیے کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ پھر جو دکھائی دیتا ہے، وہ محض ایک قالب ہوتا ہے۔ معاشرے کی جمالیاتی موت، فرد کی موت کا بھی اعلان ہے۔ یہ آرٹ اور فنونِ لطیفہ ہیں جو سماج کی جمالیاتی حیات کا سامان کرتے ہیں۔ جہاں ان کا گلا گھونٹ دیا جائے، وہاں زندگی پنپ نہیں سکتی۔ جس سماج میں قاری عبیدالرحمٰن لحنِ داؤدی میں الہام کی تلاوت نہ کریں، غالب اور اقبال غزل سرا نہ ہوں، خورشید انور ساز و آواز کو ہم آہنگ نہ کریں، نصرت فتح علی نغمہ سرا نہ ہوں، صادقین کینوس پر رنگ نہ بکھیریں، اسے سماج نہیں قبرستان کہتے ہیں۔

ایک عرصے سے ہماری حسِ لطیف کو مارنے کی مہم جاری ہے۔ لوگ ہر اس مظہرکو مٹانے کے درپے ہیں جو میرے جمالیاتی وجود کی بقا کی ضمانت ہے۔ افسوس کہ اس کام کے لیے سب سے زیادہ مذہب کو استعمال کیا گیا۔ آج پاکستان دنیا کا واحد 'اسلامی‘ ملک ہے، جہاں فنونِ لطیفہ کا مستقبل بعض مذہبی تاویلات کی زد میں ہے۔ اب تو سعودی عرب بھی ہم سے آگے نکل چکا۔
ہمارے مذہبی طبقات جانتے ہیں کہ وہ ہوا کے مخالف رخ پر کھڑے ہیں۔ ان کا چراغ تا دیر نہیں جل سکتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ مذہب کی روشنی باقی نہیں رہے گی۔ مذہب انسان کی فطری طلب کا جواب ہے اور اسے باقی رہنا ہے۔ مسئلہ اس تعبیر کا ہے جو ان طبقات نے اختیار کر لی ہے۔ وہ اپنے فہمِ مذہب کو مذہب کے عنوان سے پیش کر رہے ہیں۔ اس فہم کے دیے کا روغن اب ختم ہونے کو ہے۔ اہلِ مذہب کو اس کا اندازہ ہے۔ اس لیے وہ حیلوں بہانوں سے اس چراغ کو روشن رکھنا چاہتے ہیں۔

وہ سب فلموں پر اعتراض نہیںکرتے۔ وہ اگر ایسا کریں تو معاشرہ انہیں اگل دے۔ وہ اس فلم پر معترض ہوتے ہیں جو ان کو موضوع بناتی ہے۔ جہاں کسی فلم یا ڈرامے میں اہلِ مذہب کا کردار زیرِ بحث آتا ہے تو وہ اسے ایک مذہبی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کا عَلم بلند کرتے ہیں۔ معاشرے اور حکومت کو مجبور کرتے ہیں کہ ان کے موقف کو تسلیم کریں۔ حکومت جو نہتے اور کمزور طبقات کے خلاف جری ہوتی ہے، مذہبی گروہوںکے سامنے بھیگی بلی بن جاتی ہے۔ اس کا دم خم ختم ہو جاتا ہے۔ پھر وہ بلا اپنے سر سے اتارتی اور نظریاتی کونسل جیسے کسی ادارے کے گلے میں ڈال دیتی ہے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ میں اس سوال کو اجتماعی نفسیاتی ساخت سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتا۔ ہمارے ہاں مقدس گائے کا ایک تصور پایا جاتا ہے۔ ہر کوئی خود کو یہی مقام دیتا ہے۔ ہمارے ہاں کچھ اداروں پر تنقید کو ریاست پر تنقید تصور کیا جاتا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اور قومی مفاد ہم معنی ہیں۔
یہی تصور غالباً اہلِ مذہب میں بھی سرایت کر گیا ہے۔ انہوں نے اس خیال کو فروغ دیا کہ اہلِ مذہب پر تنقید، مذہب پر تنقید ہے۔ پہلے گروہ کی طرح، یہ طبقہ بھی ایک بے بنیاد بات کہہ رہا ہے۔ اہلِ مذہب یا علما ایک سماجی طبقے کا نام ہے جیسے اہلِ سیاست یا اہلِ صحافت۔ اگر سیاست دانوں پر تنقید ہو سکتی ہے، صحافیوں پر تنقید ہو سکتی ہے تو علما یا مذہبی طبقے پر تنقید کیوں نہیں ہو سکتی؟ اس تنقید کا تعلق مذہب سے نہیں، علما کے سماجی رویے سے ہے۔

اگر یہ رویہ اچھا ہو گا تو تعریف ہو گی۔ برا ہو گا تو تنقید ہو گی۔
اہلِ سیاست پر تنقید کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ سیاست کوئی برا کام ہے یا صحافیوں پر نقد کا یہ مفہوم نہیں کہ یہ پیشہ ہی غلط ہے۔ یہ کام کا سوئے استعمال ہے جو تنقید کا سبب بنتا ہے۔ ہر طبقے کی طرح علما میں بھی دو طبقات ہوتے ہیں۔ اسی لیے خود ہمارے دینی ادب میں علمائے حق اور علمائے سو کی اصطلاحیں پائی جاتی ہیں۔ علمائے سو پر بہت کچھ لکھا گیا۔ مسلم تاریخ میں، کیا یہ علمائے سو نہیں تھے جو امام ابو حنیفہؒ اور امام احمد ابن حنبلؒ جیسے لوگوں کے مقابلے میں بادشاہوں کے ساتھ کھڑے تھے؟ کیا ان پر تنقید، مذہب پر تنقید ہے؟
ریاست و سماج کی ساخت پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ سب طاقت کا کھیل ہے۔ ریاستی و غیر ریاستی گروہ طاقت میں حصہ چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ ان مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جب وہ طاقت کے اصل مرکز ریاست اور معاشرے کو یرغمال بنا کر اپنا حصہ وصول کریں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایک مذہبی طبقے نے اس فلم پر احتجاج کے لیے اس دن کا انتخاب کیوں کیا جب بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کو یہاں میچ کھیلنا تھا۔

سب جانتے ہیں کہ ہم نے دنیا کو بمشکل باور کرایا ہے کہ پاکستان اب ایک محفوظ ملک ہے اور یہاں غیر ملکی کھلاڑی کسی خوف کے بغیر آ سکتے ہیں۔ یہ دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے ضروری تھا‘ جسے تشدد اور انتہا پسندوں نے گہنا دیا تھا۔ سری لنکا کے بعد بنگلہ دیش کی ٹیم کا پاکستان آنا بہت اہم تھا اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو یہ پاکستان کو کئی سال پیچھے لے جا سکتا ہے۔ ریاست اس موقع پر کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی۔ مذہبی طبقوں نے ریاست کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اسی دن فلم کے خلاف مظاہرے کا اعلان کر دیا؎۔ وہ فلم جو ابھی تک کسی نے نہیں دیکھی۔
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایک دن پہلے عدالت نے ایک گروہ کے کچھ افراد کو قید کی سزا کا فیصلہ سنایا تھا؛ چنانچہ انہوں نے رد عمل میں اس فلم کو موضوع بنایا اور یوں ریاست اور معاشرے کو ایک بار پھر دبائو میں لانے کی کوشش کی۔ مسئلہ یہ ہوا کہ ہاتھیوں کے اس کھیل میں آرٹ اور فنونِ لطیفہ گھاس کی طرح کچلے گئے۔ حکومت ان گروہوں سے براہ راست متصادم ہونے سے ڈرتی ہے۔ یوں اس نے اس معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے کر دیا۔ کونسل کا کردار آئین میں متعین ہے۔ فلموں کی نمائش کا فیصلہ کرنا اس میں شامل نہیں۔ اس لیے چیئرمین کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے واضح لفظوں میں بتا دیا کہ یہ کونسل کا کام نہیں۔

میرا کہنا یہ ہے کہ طاقت کے اس کھیل میں آرٹ کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ آرٹ معاشرے کی جمالیاتی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ جب جمالیاتی حس مر جاتی ہے تو لطیف انسانی جذبات کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔ محبت، ترس اور پیار جیسے الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ پھر تشدد اور انتہا پسندی معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ ہم چالیس سال سے یہ عذاب بھگت رہے ہیں۔ معاشرے کو زندہ کرنے اور متوازن بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے جمایاتی طور پر زندہ کیا جائے۔ فنونِ لطیفہ دراصل یہ خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ ریاست اگر اس بات کو سمجھ پاتی تو صرف 'پیغام پاکستان‘ پر اکتفا نہ کرتی، آرٹ کو بھی فروغ دیتی۔
میں اس بات سے متفق ہوں کہ آرٹ اور فنونِ لطیفہ سماج کی تہذیبی قدروں اور مذہبی حساسیت سے بے نیاز نہیں ہوتے۔ اسی لیے ہمارے ملک میں سینسر بورڈ قائم ہے۔ وہ انہی امور کا جائزہ لے کر کسی فلم یا ڈرامے کو قابلِ نمائش قرار دیتا ہے۔ ضروری ہے کہ یہ حق اس کے پاس رہے۔ یہ اہلِ مذہب یا اسلامی نظریاتی کونسل کا کام نہیں کہ ان امور پر فیصلہ دے۔
ہمارے لیے، لیکن زندگی تماشا ہے۔ قومی مفاد کا تعین وہاں نہیں ہوتا جہاں ہونا چاہیے، کہیں اور ہوتا ہے۔ اسی طرح اب فلموں کی نمائش کے فیصلے وہاں نہیں ہوتے جہاں ہونے چاہئیں۔ یہ کہیں اور ہو رہے ہیں۔ دیکھیے، کب تک طاقت کا کھیل جاری رہتا ہے اور زندگی تماشا بنی رہتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */