خدائی مسکراہٹیں - عمر بن عبد العزیز

اللہ رب العزت اپنی ذات و صفات میں لازوال، تغیر و تبدل سے پاک، ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ ہی رہنے والے بے مثل و بے مثال ہیں۔نہ اللہ رب العالمین کی ذات میں (مخلوق کی طرح) کوئی تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی صفات میں۔
رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کے لیے احادیث میں مختلف الفاظ استعمال ہوے ہیں مثلاً اللہ مسکرائے تو علماء فرماتے ہیں کہ ان جیسے الفاظ سے مراد ان کے معنیٰ کا لازم ہوتا ہے ۔

نہ کہ خود معنیٰ مثلاً مسکرانے کا لازم ہے راضی ہونا تو جہاں بھی احادیث میں اللہ مسکرانے کا ذکر ہے تو مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے راضی ہوے ہیں یہ مراد نہیں کہ انسانوں کی طرح مسکراتے ہیں۔چنانچہ بعض احادیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے ضحک کے الفاظ بھی استعمال ہوے ہیں مثلاً:

(۱)… ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندوں کے فیصلے سے فارغ ہوں گے تو ایک آدمی ایسا باقی رہے گا جس کا رُخ دُوزخ کی طرف ہوگا، یہ شخص دُوزخیوں میں سے جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا ہوگا، وہ عرض کرے گا اے رب! میرا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دیجیے، اس کی ہوا نے مجھے پریشان کر دیا اور اس کی گرمائش نے مجھے جلا ڈالا۔ وہ اللہ سے دعا کرے گا جب تک کہ اللہ کو منظور ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اگر تجھے یہ دے دیا جائے تو کیا اس کے علاوہ تو کچھ مانگے گا؟ وہ کہے گا: تیری عزت کی قسم میں اس کے سوا کچھ نہ مانگوں گا اور جس قدر اللہ کو منظور ہوگا وہ آدمی اپنے پروردگار سے عہد و پیمان کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا منہ دوزخ سے پھیر دیں گے۔

جب وہ جنت کی طرف منہ کرے گا اور جنت کو دیکھے گا تو خاموش رہے گا جب تک کہ اللہ کو منظور ہوگا، پھر عرض کرے گا: اے رب! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔ اللہ فرمائیں گے: کیا تو نے عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے سوا دوسری چیز نہیں مانگے گا؟ تیری خرابی ہو اے ابن آدم! تو کس قدر عہد شکن ہے تو وہ کہے گا: اے رب!… اور اللہ سے دعا کرے گا… یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اگر تیری درخواست منظور کی گئی تو پھر اس کے بعد تو نہ مانگے گا؟ وہ کہے گا: تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا کچھ نہ مانگوں گا۔

یہ بھی پڑھیں:   سیرت صدیق اکبر احادیث کی روشنی میں (حصہ سوم) - مفتی منیب الرحمن

جس قدر اللہ کو منظور ہوگا وہ آدمی عہد و پیمان کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے دروازے کے پاس پہنچا دیں گے۔ جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہوگا جنت اس کو سامنے نظر آئے گی اور اس کی خوشی اور اس کے آرام کو دیکھے گا جس قدر اللہ کو منظور ہوگا وہ آدمی خاموش رہے گا، پھر عرض کرے گا اے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم نے عہد و پیمان نہیں کئے تھے کہ اب اس کے سوا دوسری چیز نہیں مانگے گا؟ پھر اللہ تعالی فرمائیں گے: تیری خرابی ہو اے ابن آدم! تو کس قدر عہد شکن ہے وہ عرض کرے گا اے پروردگار میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بد بخت نہیں ہوں۔ پھر وہ شخص دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی اس سے ہنسیں گے اور اس کو حکم دیں گے: جنت میں داخل ہو جا۔

جب وہ جنت میں داخل ہوگا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے: کچھ آرزو کر! چنانچہ اپنے رب سے درخواست کرے گا اور آرزو کرے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی اس کو یاد دلاتے جائیں گے اور کہیں گے: فلاں فلاں چیز مانگ! یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں پوری ہو جائیں گی تو اللہ فرمائیں گے: یہ (جو کچھ تو نے مانگا) تجھ کو دیا اور اسی کے برابر اور بھی۔اورایک روایت میں دس گنا فرمایا گیا ہے۔

[صحیح بخاری:بَاب فَضْلِ السُّجُودِ]

(۳)… رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر ہنسیں گے کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا تھا اور پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہو گئے۔ پہلا وہ جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہ شہید ہو گیا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قاتل کو توبہ کی توفیق دی اور وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔ اس طرح دونوں قاتل و مقتول بالآخر جنت میں داخل ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   بندہ نواز - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

[صحيح البخاري:بَاب الْكَافِرِ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيُسَدِّدُ بَعْدُ]

(۲)… حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیw کے پاس آیا۔ آپw نے اپنی ازواج کے پاس اس کا کھانا منگانے کے لئے ایک آدمی کو بھیجا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے تو نبیw نے فرمایا: کون ہے؟ جو اس مہمان کو اپنے ساتھ لے جائے یا یہ فرمایا کہ کون ہے؟ جو اس کی میزبانی کرے۔ ایک انصاری نے عرض کیا:یا رسول اللہ میں تیار ہوں پس وہ اسے اپنی زوجہ کے پاس لے گیا اور اس سے کہا : رسول اللہw کے مہمان کی خوب خاطر کرنا اس نے کہا ہمارے ہاں تو صرف بچوں کا کھانا ہے تو انصاری نے کہا تم کھانا تو تیار کرو اور چراغ روشن کرو بچے اگر کھانا مانگیں تو انہیں سلا دینا اس بی بی نے کھانا تیار کر کے چراغ روشن کیا اور بچوں کو سلا دیا پھر وہ گویا چراغ کو ٹھیک کرنے کے لئے کھڑی ہوئی۔

مگر اسے گل کر دیا اب وہ دونوں میاں بیوی مہمان کو یہ دکھاتے رہے کہ کھانا کھا رہے ہیں حالانکہ (درحقیقت) انہوں نے بھوکے رہ کر رات گذار دی جب وہ انصاری صبح کو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رات تمہارے کام سے بڑا خوش ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود حاجت مند ہوں اور جو اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہوں گے۔

[صحيح البخاري ـ:بَاب قَوْلِ اللَّهِ { وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْالخ]