میرے پاس اسلام ہے- بینش صابر

الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں۔ہماررے پاس اسلام ہے اللہ ہے محمد ﷺکی تعلیمات ہیں۔آءیے دیکھتے ہیں کہ کہیں ہم ان سب سے بیوفائ تو نہیں کر رہے؟ انٹرٹینمینٹ، اصلاح،کسی معاشرتی برائ کی نشاندہی وغیرہ وغیرہ کے نام پے کہیں ہمارے دین،ایمان،حیا،سوچ پر وار تو نہیں کیا جا رہا؟

ہمارے بےلگام میڈیا نے معاشرے میں بےشمار براءیوں کوفروغ دیا، پہلے جن باتوں کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا اب وہ عام ہیں معاشرے میں۔اب بات کرتےہیں اس ڈرامے کی جس کے پیچھے آج کل پوری پاکستانی قوم پاگل ہوئ ہے ،جدھر دیکھو اسی پے تبصرے ہو رہے ہیں حتی کہ مجھ جیسے ڈرامہ نہ دیکھنے والے بھی اس سے واقف ہوچکےہیں۔

کوئ مرد کی مظلومیت پے تبصرہ کررہا ہے اور کوئ ڈرامے میں استعمال ہوءے فقروں کی فصاحت وبلاغت سے متاثر ہےاور کوئ ڈرامے میںکی گئ عورت کی بیوفائ کا رونا رو رہا ہے۔کوءی عورت کی تذلیل پر شکوہ کناں ہے الغرض اس ڈرامےنے اکثریت کو کسی نہ کسی طرح متاثر کیا ہے۔

کچھ لوگوں کے مطابق ڈرامے معاشرے میں ہونے والی براءئوں کے عکاس ہوتے ہیں اور اصلاح کرتے ہیں لیکن میرے خیال میں اجکل ڈرامے لوگوں کو اسلام سےدور کرنے اور بے حیائ کوفروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اس پر فتن دور میں ایمان کی حفاظت سب سے اہم اور مشکل کام ہے۔جو برائ بہت عام ہو جاءے اس کی کراہت دلوں سے نکل جاتی ہے۔ لوگ اس کو کرنے یادیکھنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے۔ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئبے حیائ اس کی سب سےبڑی مثال ہے۔

کیا اسلام مرد و عورت کے اختلاط، عورت کی بے پردگی،چست لباس، عورت کا غیر مرد کو چھونا، رقص و سرودکی محافل کی اجازت دیتا ہے؟کیاجو لوگ یہ سب لکھ رہے ہیں،کر رہے ہیں،دکھا رہے ہیں، دیکھ رہے ہیں، سراہ رہےہیں ، ان سب نے ایسا کرنے کی رخصت لے رکھی ہے اپنے رب سے؟ان سب کےپاس اسلام ہےوہی اسلام جودنیا کے بہترین لوگ صحابہ اور دنیا کی بہترین عورتوں یعنی امھات المومنین کو بھی پردے کا حکم دیتے ہوءے کہتا ہے کہ اگ تمہیں ان سے کچھ مانگناہو توپردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی پاکستان میں کیا چاہتی ہے- میر ا فسر امان

وہی اسلام جو عورت کو حکم دیتا ہے کہ غیر محرم سے میٹھی اورلوچدار زبان میں گفتگو نہ کرو وہ آرٹ اور فن کے نام پےعورت کا غیر مرد کی بیوی ،بہن اور بیٹی کے کردار ادا کرنا کیسے پسند کر سکتا۔ وہی اسلام جس نے عورت کومسجد میں نماز،نمازجمعہ،اذان اور جہاد وغیرہ سے مستثنی قرار دیا ہے وہ عورت کا غیر مردوں کے ساتھ آزادانہ میل جول کی کون اجازت دے سکتا ۔

اب میڈیاغیر محسوس طریقے سےنت نءی براءیوں کو فروغ دینے کے لیے اس قسم کے واہیات اور اخلاق سوز ڈرام پیش کر رہا ہے۔یاد رکھیے کسی چیز کاعوام میں واءرل اور مقبول ہو جانا اس کی حلت اور جاءز ہونےکی دلیل نہیں ہوا کرتا۔ان سب براءیوں سےخودکودوررکھنا ایمان کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے۔ ﷲتعالی قرآن میں فرماتا ہے اگرتم اکثریت کی پیروی کروگے تو وہ تمہیں گمراہی میں مبتلا کردیں گے۔