میرے پاس تم ہو - بشریٰ زاہد

"میرے پاس تم ہو " ۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ کہانی ہمارے معاشرے میں رونما ہونے والی حقیقی کہانیوں سےمماثلت نہیں رکھتی تو یہ بیجا بات ہوگی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ کہانی ہماری اقدار و روایات کی عکاس نہیں کرتی ۔لیکن صد افسوس ، ہمارے افسانہ نگار قلم بند کرتے ہوئے ہماری اقدار کو پیش نظر کیوں رکھیں؟ انکی منتہائے نظر تو ایسی کہانیاں ہیں جو اپنے اچھوتے انداذ ، بیباکانہ رویے اور گلیمر کی وجہ سے زبان زد عام ہو جائیں۔

ہمارا معاشرہ بے راہ روی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، اخلاقی قدریں اور رشتوں کی پاسداری مفقود ہوتی جارہی ہے۔ معاشرے میں جو ہو رہا ہے ، میڈیا اسکا ذمہ دار ہے یا میڈیا جو دکھا رہا ہے وہی معاشرے کی اصل تصویر ہے ۔یہ ایک نا ختم ہونے والی بجث ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میڈیا بلکل ڈرون کیمرے کی طرح معاشرے میں ہونے والی بے شمار کہانیوں میں سے جسکو نمایاں کرنا چاہے وہ بڑی خوبصورتی سے کر دیتا ہے۔ اور یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ بس یہی کہانیاں معاشرے کی اصل ہیں۔

اور بھیڑ چال چلنے والی ہماری عوام خاص کر نوجوان نسل ، انہیں کہانیوں سے متاثر ہوکر اپنی زندگیوں کا رخ بھی انہی افسانوں کے سپرد کرنے لگتی ہے۔ مزید براں برائ کو بار بار مختلف رنگوں میں نشر کرنے سے اس سے فطری کراہت بھی قدر کم ہوتی جاتی ہے اور وہی بات جو کبھی زبان پر لانا بھی عجیب لگتا ہو اسکو برداشت کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ قدریں اپنی پامالی کا سفر ایسے ہی طے کیا کرتی ہیں ۔

اب اسی ڈرامے کو لے لیجیے ۔ بغیر شادی کے مرد و عورت کا اکھٹے رہنا، غیر مرد اور مال کے لیے خلع لے لینا، غیر مرد سے ٹھکرائے جانے کے بعد دوبارہ اپنے شوہر کی طلب کرنا ،سب ایسے عنوانات ہیں ، جنکا زکر کرتے بھی غیرت جاگتی ہے۔ لیکن بار بار دکھا کر خود بھی وہ گناہ گار تائب قابل ترس معلوم ہونے لگی۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی ڈرامے - ہادیہ امین.

دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار ، ہمارے بہترین قلمکار اس بارے میں اپنے رب کی عدالت کے سامنے جواب دہی کا خوف کیوں نہیں رکھتے؟ اللہ رب العزت نے انہیں بےمثال طاقت سے نوازا ہے۔ اپنے قلم سے وہ 'کن' کرتے ہیں اور ایک جیتی جاگتی کہانی ، دلوں اور دماغوں پر اپنا گہرا اثر چھوڑ جانے والی 'فیکون' ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ قرآن میں سورہ القلم کی آیت نمبر 52 میں ہے کہ
نٓ ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ۔
ن، قلم کی قسم ہے اور اس کی جو اس سے لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ قلم کی قسم کھا کر اہل قلم سے مخاطب ہیں کہ کتنی بڑی ذمہ داری ان پر عائم ہوتی ہے ۔ آج کے دور میں جہاں دنیا اہک گلوبل ولیج کی مانند ہے ، یہ طاقت اور بھی دو چند ہو گئ ہے۔

ایسے تمام بہترین قلمکاروں سے میری گزارش ہے کہ خدارا آپ کے ہاتھوں میں ہمارے معاشرے کی ڈور ہے ۔اس پتنگ نما معاشرے نے کتنا اڑنا ہے ، کب اور کس جگہ جا کر کٹنا ہے ، سب آپ کے اختیار میں ہے ۔ آپ اپنی طاقتوں کا مثبت استعمال کریں اور ان اقدار کو معاشرے میں لوٹادیں ، جو کبھی ہماری زینت ہوا کرتے تھیں۔