اعتراف ہی اصلاح کا نقطہ آغاز ہوتا ہے - حبیب الرحمن

عدالت کے فیصلے حق اور سچ ہیں، عدالت سیاست کا شکار ہو گئی ہے۔ عدالتیں آزاد ہیں، عدالتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی ساری تحقیقاتی رپورٹیں مبنی بر حقیقت ہوتی ہیں، ہم ٹرانسپیرنسی کی رپورٹس مسترد کرتے ہیں۔ یہ ہیں وہ حقیقتیں جس کا سامنا پاکستان کے عوام کرتے آرہے ہیں اور سامنا کرنے پر مجبور بھی ہیں۔

ساری باتوں کا تجزیہ کیا جائے تو نتیجہ یہی سامنے آتا ہے کہ اگر فیصلے اور دنیا کی رائے ہمارے حق میں آئے تو بہت خوب بلکہ ہپ ہپ لیکن خلاف آئے تو سازش بلکہ تھو تھو۔ آج جسارت میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے کرپشن سے متعلق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ "جس رپورٹ کا میڈیا، عوام اور سول سوسائٹی میں تذکرہ ہورہا ہے اورموجودہ حکومت کی کارکردگی صاف اور شفاف نہ ہونے کے فتوے لگائے جارہے ہیں۔

اس ادارے کی اپنی شفافیت سوالیہ نشان ہے، اس کی اپنی ساکھ کا جائزہ لیا جائے، یہ پاکستانی عوام میں مایوسی پھیلانے کے لیے ایک منظم اور ٹارگٹڈ ایجنڈا ہے، اس قسم کی رپورٹ دنیا کو گمراہ نہیں کرسکتی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو اپنی ساکھ کا جائزہ لینا چاہیے"۔ حکومت کا یہ استرداد دنیا کی نظر میں یا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی نظر میں کتنی اہمیت رکھتا ہے اس کا جواب تو خود عالمی رائے عامہ ہی دے سکتی ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب پی ٹی آئی اور ان کے خان صاحب حسب مخالف میں ہوا کرتے تھے تو اسی ادارے کی رپورٹیں ان کی نظروں میں (نعوذباللہ) آسمانی صحیفوں سے بھی زیادہ مقدس سمجھی جاتی تھیں اور ان میں کرپشن کی مد میں نواز دور کی ساری رپورٹیں مقدس آیات دکھائی دیتیں تھیں لیکن اب کرپشن کی مد میں یہی سارے اعداد و شمار انھیں اپنے خلاف ایک بین الاقوامی سازش نظر آ رہے ہیں۔

جس طرح اِس وقت موجودہ حکومت کو اپنے خلاف درج اعداد و شمار غلط دکھائی دے رہے ہیں بالکل اسی طرح اُس وقت کی نواز حکومت کو شائع ہونے والے سارے اعداد و شمار کوڑے کچرے کا ڈھیر نظر آتے تھے۔ بات یہیں آکر ختم ہوتی ہے کہ اگر فیصلے اور رپورٹیں تعریف و ستائش سے پُر ہوں تو درست لیکن اگر اس میں کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا جائے تو نہایت تکلیف دہ اور غلط سمجھی جاتی ہیں۔

یہ ضروروی تو نہیں کہ اگر کسی جانب سے ہم پر تنقید کی جا رہی ہو تو وہ سو فیصد حقائق پر ہی مبنی ہو اور اگر تعریف کی جارہی ہو تو اس میں غلو شامل ہی نہ ہو۔ کسی بھی قسم کی منفی تنقید میں نہایت قلیل مقدار میں ہی سہی، تنقید کرنے والا ہماری کسی نہ کسی کوتاہی کی نشاندہی کر رہا ہوتا ہے بالکل اسی طرح تعریف میں بھی "خوشامد" کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تعریف نفس کو پھلا کر ہمیں غرور کا شکار کردیا کرتی ہے جبکہ تنقید ہمیں اپنی اصلاح کا موقع فراہم کرتی ہے۔ بد قسمتی سے تنقید کرنے والے کے اشارہ کئے گئے کمزور پہلوؤں کا جائزہ لیکر اسے اپنی اصلاح کا سبب بنانے کی بجائے ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ لوگوں کی عادت ہی کیڑے نکالنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پڑھتا جا شرماتا جا - ریمنڈ ڈیویس

اگر ایسا سوچنے کی بجائے ہم ٹھنڈے دل کے ساتھ اس بات کا جائزہ لیں کہ ہمارے کسی کام میں کیا کوتاہی رہ گئی ہے تو ہم خوب سے خوب کی جانب بڑھ جاتے ہیں ورنہ ہم تنقید کو غلط سمجھ کر جذبات میں مزید خطاؤں کا شکار ہوکر اپنے لئے مزید مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں اب تک جتنی بھی حکومتیں آئیں وہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹوں پر اپنی اصلاح کی جانب نظر کرنے کے ان کی رپورٹوں ہی کو ہدف نتقید بناتی رہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی بہت ساری خوبیوں کا گراف اوپر کی جانب جانے کی بجائے نیچے کی جان ہی مڑتا ہوا نظر آیا اور آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک ہلکا سا دھکا بھی ہمیں تباہی و بربادی کی گہری کھائی میں گرا سکتا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں موجودہ حکومت کو اپنے سے پچھلی حکومت کے مقابلے میں زیادہ کرپٹ قرار دیا ہے۔ بیشک یہ بات موجودہ حکومت کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اس لئے کہ یہ حکومت آئی ہی اس دعوے کے ساتھ تھی کہ وہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کریگی۔ آج بھی وزیر اعظم کا یہی کہنا ہے کہ کرپشن ہی وہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو پاکستان کو ترقی کی جانب محوِ پر واز نہیں ہونے دیتی۔ وزیر اعظم کی یہ بات اتنی درست ہے جیسے دن کا دن ہونا یا رات کا رات کہلانا۔ پاکستان کی تباہی و بربادی کا سبب ہی یہ ہے کہ یہاں ہر بااثر فرد اور ادارہ ملک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے بری طرح نوچنے گھسوٹنے پر لگا ہوا ہے اور ساری دولت پاکستان سے باہر جائیدادیں، ملیں اور کارخانے تعمیر کرنے پر لگی ہوئی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 17 ماہ میں اس میں کمی یا ٹھہراؤ کیوں نہیں آ سکا۔

دولت کو لٹنے اور باہر جانے سے کیوں روکا نہیں جا سکا۔ اخراجات میں کمی کیوں نہ آ سکی، ٹیکسوں میں اضافہ کیوں ہوا، ڈالرز کی پرواز بلند سے بلند کیوں ہوتی چلی گئی، ہر شے مہنگی سی سے مہنگی کیوں ہوتی چلی گئی اور عام استعمال کی اشیا عوام کی قوت خرید سے تجاوز کیسے کر گئیں۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے قرض نہ لینے کے دعوے کے باوجود بھی دوسری حکومت سے زیادہ قرض لئے لیکن اس کے باوجود بھی کوئی میگا پروجیکٹ بنتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ سارے ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں اور بد انتظامی کی وجہ سے ایسے بہت سارے فلاح و بہبود کے منصوبے جو پہلے کسی حد تک عوام کو سہولتیں پہنچا رہے تھے، ان کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی۔ گھر بنا کر دینے کے وعدوں کے برعکس بستیوں کی مسماریاں اور ملازمتوں کے دعوؤں کے بر خلاف بے روزگاریاں بڑھتی گئیں۔

ممکن ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل میں جھوٹ سے کام لیا گیا ہو لیکن زمینی حقائق اگر ہر دعوے اور وعدوں کے برعکس جا رہے ہوں تو پھر رپورٹ کا مسترد کئے جانا نہ صرف پاکستانی عوام کیلئے ایک مذاق ہوگا بلکہ دنیا بھی ہمارے استرداد کو کسی بھی صورت قبول نہیں کر سکے گی۔یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ٹیکسوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا تھا، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے کا دعویٰ بھی کیا جارہا تھا اور ہر قسم کی اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا گیا تھا تو پھر قرض لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ بقول حکومت، انھوں نے اپنے اخراجات میں کمی بھی کی، کرپشن کو روک کر روزانہ 12 ارب روپیہ بھی بچایا اور ملک کی دولت لوٹنے والوں سے کئی سو عرب خزانے میں واپس لانے میں کامیاب بھی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ایماندار تو ہے - آصف محمود

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت کی آمدنی میں ٹیکسوں کی مد میں، مہنگائی کی صورت میں، ٹیکس دہندگان میں اضافہ کرکے اور بے تحاشہ قرض لینے کی صورت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تو پھر آخر وہ سارا کا سارا پیسہ گیا کہاں؟۔ یہی وہ پہلو ہیں جو حکومت کو اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ وہ ان پر غور کرے تو پھر اس کو ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں کوئی ذیادتی نظر نہیں آئے گی بلکہ اپنے اٹھائے گئے اقدامات میں کوتاہیوں کا ادراک ہو جائے گا اور پھر حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان کو یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ "ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹرکے سربراہ کو (ن) لیگ نے نوازا اور سفیر مقررکیا تھا، ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے ان کے سفیر کے عہدے کی مدت میں توسیع نہیں کی جس کی وجہ سے انہیں اپنے وقت پر ریٹائر ہونا پڑا، اب ان کی رپورٹ کو کون مانے گا؟ یہ رپورٹ شفاف نہیں، ہمیں اس پر تحفظات ہیں اور ہم رپورٹ مسترد کرتے ہیں، اعداد وشمار مرتب کرنے والوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہونا چاہیے"۔

ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ تو محض ایک رپورٹ ہی ہوا کرتی ہے اور اس کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے رپورٹ پر نہ تو کوئی منفی اثر پڑتا ہے اور نہ ہی مثبت التبہ اس میں درج خوبیوں اور خامیوں پر توجہ دی جائے تو ملکوں کی عزت و وقار میں اضافہ ضرور ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے جو ردعمل آنا تھا وہ اپنی جگہ درست لیکن اب پاکستان کی حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ اپنے اٹھائے گئے سارے اقدامات کا از سرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

یہاں حکومت کے فوری غور کرنے کی بات یہ ہے کہ وہ سوراخ کہاں کہاں ہیں جہاں سے کرپشن اب بھی بری طرح بہہ رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ حکومت کو اپنی مشینری کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ کہیں یہ وہی مشینیں تو نہیں جس کو گزشتہ حکومتیں استعمال کرتی رہی ہیں۔ اگر مشینیں وہی ہیں تو پھر ان سے پیدا ہونے والی اشیا کیسے خالص ہو سکتی ہیں لہٰذا اپنے دائیں بائیں موجود افراد پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے ورنہ صرف چیخنے چلانے، شور مچانے اور دنیا کو کرپٹ ثابت کرنے سے کرپشن کسی صورت ختم نہیں ہو گی۔