اے وسیم خٹک

میرے کانوں میں تمھاری وہ آوز گونجتی ہے ،
جب کہا تم نے میر ے پاپا ،
مجھے سائیکل والابستہ ،
اور بہت سارے چاکلیٹ لادینا.
بہت سارے چاکلیٹ سے تم نے ہاتھوں کو بہت آگے کیا ہوگا۔

کہ اتنے زیادہ ہوں
.وہ چاکلیٹ میں اپنی
چھوٹی بہن کو بھی نہیں دونگی ،
تمھارا یوں مجھے کہنا اور پھر یہ کہنا
چھوٹی کو خود سے لادینا
آور یوں آخری بار کہنا
کہ کب آوگے پاپا
پھر مستی میں فون ماں کو تھمادینا
مجھے بے چین کر رہاہے اب
میں آگیا ہوں نور
تمھاری خواہشوں کے ساتھ
مگراب تم کہا ہو
تمھارے لئے چاکلیٹ بھی اتنے سارے لایا ہوں
تمھارا سائیکل والا بستہ بھی آیا ہے
پلٹ آو اور مجھے آواز دے دو
مجھے پاپا بلاو ۔ مجھے بابا بلاو
مگریہ کہاں ممکن
درندوں نے تمھارے خون سے ہاتھ رنگے ہیں
اب تم آنہیں سکتی ۔
مجھے پاپا کہہ کر بلا نہیں سکتی

ٹیگز