علم اورعقل کیا ہیں - مجیب الحق حقّی

انسان کا ایک وصف اس کا عاقل ہونا ہے اور عقل کے تئیں ہی انسان علم حاصل کرتا ہے۔ علم کیا ہے؟ علم کہاں سے آیا اور انسان اس کو کیسے حاصل کرتا ہے؟ عقل کیا ہے؟
ائیں غور کرتے ہیں۔

علم کیا ہے کا سادہ جواب یہ ہے کہ علم انسان کے ذہن میں دنیا کے مظاہر یعنی فینامناphenomena کا عکس ہے۔ یہاںدیکھنا یہ ہے کہ انسان کا بیرونی دنیا سے کیسے تعلّق بنتاہے۔ انسان بیرونی دنیا سے اپنے حواسوں کے ذریعے جڑا ہے اور ہر حواس ایک اندرونی نظام رکھتا ہے جو معلومات کے حصول کی تکمیل کرتا ہے یعنی انسان کے اندر بیرونی معلومات اندرونی اور بیرونی ہم آہنگ سسٹم کے تحت جذب ہوتی ہیںہیں یعنی خارج میں موجود کوئی آواز، کوئی منظر ، کوئی ذائقہ ، کوئی خوشبو کسی نظام کے بموجب ہی پیداہوتے ہیں جبکہ انسان کے اندر ان کے ریسیور ہوتے ہیں جو ایک دوسرامگر باہر سے مانوس سسٹم رکھتے ہیں۔

یہ تو ہوا سادہ معلومات کا حصول مگر ہم اور گہرائی میں جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کائناتی مظہر معلومات کا ایک میکینزم رکھتا ہے جو سادہ بھی ہوتا اور پیچیدہ بھی، ان کو جاننے کی کاوش حصول ِعلم ہے۔ انسان اپنے تجسس کے تئیں اورحواس کے ذریعے ان نظاموں کے میکینزم کی کھوج کرتا ہے تو یہ معلومات اس کے ذہن میں محفوظ ہوکر علم کہلاتی ہیں۔

دوسری طرف انسان کے اندر موجود عقل ایک ایسا غیر مرئی ٹول ہے جس کے ذریعے انسان ان نظاموں میں موجود معلومات کو دریافت کرتا ہے ۔ عقل بھی حواس کی طرح ایک سسٹم ہے جو علوم کو انسان کے لیے ڈی کوڈ کرتا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ عقل ہی وہ وصف ہے جس سے انسان علم حاصل کرتا ہے لیکن دیکھا جائے تو عقل تو ہر جاندار کے پاس ہوتی ہے لیکن ان کا علم انتہائی محدود ہوتا ہے جبکہ ان کے مقابل انسان کا علم بہت بلند ہوتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے اندر عقل کے علاوہ بھی کچھ خاص وصف ہے۔

انسان کے اندر وہ کیا خاص ہے جو انسان کو ہر مخلوق سے ممتاز کرتا ہے؟ مخلوقات میںیہ انسان ہی ہے جو تجسّس رکھتا ہے اور ہر مظہر یا فینامنن کی وجہ جاننا چاہتا ہے۔ یہاں ہمارا مطمح نظر یہ ہے کہ صرف تجسّس اور عقل سے علم آشکارہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ہمارے دماغ میں حصول علم کے حوالے سے عقل کے مددگارکسی فینامنن کا ہونا عین فطری ہے۔ یعنی ایسا کچھ جو باہر کے علم سے کوئی نسبت یا compatibility رکھتا ہو جس کی مدد سے عقل علم کی گتھّی سلجھاتی ہے ،۔

اب سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر وہ کیا ہے جس کی بدولت بیرونی علم انسان پر آشکارہ ہوتا ہے؟اس سلسلے میںاب ہمیں اس پنہاں سسٹم یا میکینزم کی تشریح کرنی ہے جس میں عقل کام کرتی ہے یعنی عقل کس طرح کوئی علمی گتھّی سلجھا تی ہے۔عقل کے حوالے سے ہمارا مذکورہ مفروضہ اس لیے منطقی ہے کیونکہ علم ایک بیرونی اثاثہ ہے جو اسی وقت انسان کی ذہنی گرفت میں آئے گا جب انسان کے دماغ میں اس سے ہم آہنگ کوئی نظم یا کلید ہو گی۔ قرین قیاس یہی ہے کہ انسان کے دماغ میں کائنات کے علوم کے ڈی کوڈر محفوظ ہیں جو انسانی عقل کو وہ اہم اور خام علم فراہم کرتے ہیں جو حصول علم کی تکمیل میں انسان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ خام علم اس پزل کا گمشدہ حصّہ ہوتا ہے جس کی انسان کو کسی مفروضے کی سچّائی جاننے میں تلاش ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فضیلت ِ علم - شیخ اشتیاق احمد

ہم کہہ سکتے ہیں کہ خارج میں علوم انجانے تالوں سے بند ہیں جن کی کلیدیں انسان کے دماغ میں مدفون ہیں۔ ان چابیوں کی موجودگی یعنی پنہاں علوم کے پاس ورڈ یا کلیدکا دماغ مین مدفون ہونا بھی وہ وصف ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتا ہے۔ ان چابیوں کا موجود ہونا اس لیے منطقی ہے کہ ہم نے ابھی جانا کہ حواس کے ذریعے موصول ہونے والی ہر معلومات ہم آہنگ اور مانوس بیرونی اور اندرونی سسٹم کے تحت ہی ہوتی ہیں اس لیے حصول علم اس سے مستثنا نہیں ہوسکتا۔ یعنی جس طرح دیکھنے میں صرف آنکھ ہی نہیں بلکہ آپٹک نرو optic-nerveبھی اہم ترین واسطہ ہے جو ایسے سسٹم کا پارٹ ہے جو دماغ تک بصری معلومات پہنچاتی ہے گویا صرف آنکھ نہیں دکھاتی بلکہ ایک سسٹم ہے جو ہمیں دکھاتا ہے۔

اسی طرح عقل بھی ایک واسطہ ہے جو معلومات کی تدوین میں فعّال ہوتی ہے۔ ہماری یہ بات کوئی اٹکل پچّو نہیں بلکہ ہمارے پاس اس نظریے کی توثیق میں آسمانی یعنی قرآنی شہادت بھی ہے جس میں خالق نے فرمایا کہ میں نے آدم کو آسمان میں موجود تمام چیزوں کے نام بتائے!(قرآن: سورۃ ۱ آیت ۳۱) یعنی علم کی براہ راست منتقلی ہوئی۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ آدم ؑکو علم عطا ہوا تو وہ نہ واپس لیا گیا نہ ہی تحلیل ہوا ، اس لیے یہ بات منطقی ہے کہ وہ دماغ کے کسی گوشے یا کسی جین میں محفوظ ہوا۔ اب صورتحال یہ بنی کہ ہر چیز یا مظہر اپنے اندر ایک میکینزم رکھتا ہے جس کے نام یا اہم حوالے نسان کے ذہن یا دماغ میں منجمد ہیں۔ جین میں مدفون یہ حوالے نسلاً منتقل ہوتے آرہے ہیں۔ یہی وہ پاس ورڈ یا علمی پزل کے گمشدہ ٹکڑے ہیں جس کا حامل تو ہر انسان ہے لیکن وہ اپنی صلاحیت اور تجسس کے شعبے میں ہی ان سے استفادہ حاصل کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فضیلت ِ علم - شیخ اشتیاق احمد

گویاانسان ایک سپر سائنس کی قلمرو میں بسنے والا جاندار ہے جو علوم کے گرداب میں گھرا اپنی عقل کے نظام کی مددسے کائناتی علوم کی گرہوں کو کھولتا اپنے علمی ارتقاء کی طرف گامزن ہے۔ یہی کلیدیں علم حاصل کرنے اور مظاہر کائنات کو مسخر کرنے میں انسان کو مخلوقات میںایک ممتاز حیثیت دیتی ہیں۔غالباً ہوتا یہ ہے کہ جب انسان کسی شعبے میں کسی مفروضے کے تحت ریسرچ میں مصروف ہوتا ہے تو دوران ریسرچ اس کے مسلسل انہماک سے متعلقہ علم سے منسلک وہی کلید عقل کی گرفت میں آجاتی ہے اور انسان نیا علم پا جاتا ہے۔ ثابت یہی ہوتا ہے کہ کائنات ایک سپر سائنس کا پرتو ہے۔

اب اس کو خالص مادّی نقطۂ نظر سے دیکھیں تواس ضمن میں مادّہ پرست اسکالر کے سامنے سوال رکھا جائے گا کہ بتائیں: علم کا منبع کیا ہے؟ اور کہاں ہے؟ عقل سے علم کے حصول کے میکینزم کی طبعی وضاحت کیا ہے؟
ان سوالات کے جوابات ان کے پاس نہیں ہیں!اب یا تو یہ اپنے ارتقائی نظریے کی روشنی میں ہمیں سمجھا دیں کہ علم بھی کائنات کی طرح خود کو تخلیق کر رہا ہے یا یہ مانیں کہ علم خود نہیں بنتا بلکہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن اس صورت میں انسان تو علم کا خالق نہیں ہوسکتا کیونکہ انسان کسی مظہر میں موجود علم دریافت کرتا ہے اور اسے ہی سائنس کا نام دیتا ہے۔

یہاں یہ ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ انسان کی سائنس سے برتر ایک سائنس کا ہونا منطقی ہے جو ہر مظہر کے میکینزم کو ترتیب دیتی ہے تب ہی انسان اس کو سمجھ کر مسخّر کرتا ہے۔ پھر یہ بھی عین منطقی ہے کہ سپر سائنسی علوم کی تدوین کرنے والا کوئی تو ہوگا جو انسان سے بہت برتر ہوگا کیونکہ وہ ان علوم کا خالق ہے جن کی خاک چھانتے انسانیت نڈھال ہوئی جا رہی ہے اور علوم ہیں کہ ختم ہونے کو نہیں آرہے۔

مگروہ کون ہوسکتا ہے؟کہیں وہی تو نہیں کہ جس نے دعویٰ کیا ہوا ہے کہ :زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (روشنائی بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی۔(قرآن:سورۃ ۳۱ آیت ۲۷)

ان الفاظ کو کسی انسان کی تحریر کہنا بے عقلی ہے کیونکہ انسان کے لیے لا محدود علوم کا تصوّر ہی محال ہے نہ کہ کوئی انسان ایسی بات لکھے یا کہے،لیکن یہ تحریر تو ڈیڑھ ہزار سال سے انسانوں کو چیلینج کررہی ہے کہ علوم کی تکمیل کرو اور اسے قلمبند کر کے دکھائو، ایسا چیلنج کون کرسکتا ہے؟ذرا سوچیں۔یہ فرمان عالیٰ یاد رکھیں کہ جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا ۔