کٹ پیس اور ٹرانسپیرنسی رپورٹ - ذیشان نور خلجی

صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے "فواد چودھری ہر مہینے ہیرو گیری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔" حالانکہ اس کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہوتا۔ آپ کسی وقت بھی ہیرو کا رول ادا کر سکتے ہیں۔ اپنی کہوں تو میں نے تب سے ہیرو گیری سے توبہ کر لی ہے جب سانحۂ پی آئی سی کے موقع پر وکلاء نے مجھے اپنے کندھوں پہ بٹھانے کے لئے میری ٹانگیں اٹھائی تھیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے " چینی کی قیمت میں بلا جواز اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔" البتہ اضافے کے لئے کوئی جواز گھڑا جائے تو سوچا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے " تنقید سے گھبرانے والا نہیں۔" بلکہ ڈٹا رہوں گا۔ کیوں کہ میں ایک مستقل مزاج بندہ ہوں۔ دوسرے الفاظ میں، عوام اسے میرا ڈھیٹ پن بھی کہہ سکتے ہیں۔ بات صرف میرے ڈھیٹ پن تک رہتی تو بھی ٹھیک تھا۔ لیکن کچھ انصافی اب بھی میرے سے تبدیلی کی آس لگائے، خود اپنے ڈھیٹ ہونے کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے "دعوے ضرور تھے کہ حالات بہتر ہوں گے، لیکن خزانے کی کیفیت کا بعد میں پتا چلا۔" اس لئے 'ساڈے تے نہ رہنا' کیوں کہ عقل مندوں کے لئے اشارہ ہی کافی ہے۔ اور جن کے پاس عقل کا فقدان ہے یا وہ سستے نشے کے عادی ہوچکے ہیں ان کا پھر اللہ ہی حافظ ہے۔

باقی کے کٹ پیس اگلے کالم میں۔

ابھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ نظر سے گزری ہے جس کے مطابق پاکستان کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں درجہ بندی تنزلی کا شکار ہوئی ہے اور عالمی درجہ بندی میں 3 درجہ تنزلی کے بعد پاکستان 120ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ جس کے بعد پاکستان کا اسکور گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہو کر 33 سے 32 ہو گیا ہے جو ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن کا واضح ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم کو اعتبار آیا - حبیب الرحمن

ویسے اقتدار کے ایوانوں میں جو پارٹی اس وقت براجمان ہے اس کا منشور ہی کرپشن کے خلاف جہاد تھا۔ میرا خیال ہے یہ جو مولوی حضرات جہاد کی فرضیت بارے آئے دن فتوے دیتے رہتے ہیں کہ اب یہ فرض نہیں رہا۔ اسی کا اثر قبول کرتے ہوئے حکومتی اراکین نے جہاد سے کنارہ کر لیا ہو گا۔ اور کرپشن کے مال کو مال غنیمت کے طور پر سمیٹ کر ثواب دارین بھی حاصل کر رہے ہوں گے۔ کیونکہ حکومتی ٹولہ، مذہبی بھی ضرورت سے کچھ زیادہ ہی واقع ہوا ہے۔
بات کرپشن کی زیادتی تک رہتی تو شاید میں بھی خاموش ہی رہتا۔ کہ میرے آواز اٹھانے سے کون سا ان لوگوں نے باز آجانا ہے۔

لیکن ہمارے ہاں ایک پنجابی محاورہ بولا جاتا ہے 'اک چور اتوں چتر' یعنی چور مچائے شور کے مصداق وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے جھٹ سے بیان داغ دیا ہے (اردو میں لفظ 'داغنا' توپ کے لئے مخصوص ہے۔ لیکن یہاں محترمہ کے لئے اس کا استعمال صرف جملے کی خوب صورتی کے لئے کیا گیا ہے ورنہ ہر دو فاعلین میں کسی قسم کی مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی) کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ٹرانسپیرنسی یعنی شفافیت ہی مشکوک ہے۔

قارئین ! بجا ہے کہ کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے۔ لیکن اس میں محترمہ کا بھی کوئی قصور نہیں۔ انہوں نے اپنی تنخواہ بھی تو حلال کرنی ہے۔ کہ انہیں حکومت کے ہر برے بھلے فعل کا دفاع کرنے کے ہی تو پیسے ملتے ہیں۔ ایک ہارا ہوا امیدوار، جس کو عوام کی اکثریت نے اپنا نمائندہ منتخب کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ اسے حکومتی ایوان میں جگہ اسی بنا پر ملتی ہے۔اچھا ہے فردوس عاشق اعوان صاحبہ ! لگی رہیں۔

لیکن یہاں میں، عوام کے ووٹوں سے منتخب شدہ حکومتی اراکین سے گزارش کروں گا۔ آپ لوگ جو ہم سے تنخواہیں وصول کر رہیں ہیں کم از کم اپنی اس ساتھی سے ہی کچھ سبق سیکھ لیں۔ اور تنخواہ کو حلال کرنے کا سوچیں۔ کہ آپ کو عوام نے کرپشن ختم کرنے کے لئے منتخب کیا تھا نا کہ مزید کرپشن کرنے کے لئے۔