کرپشن سے کرپشن تک! خورشید ندیم

عوامی تاثر یہ ہے کہ کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ اس جملے میں اصل اہمیت 'کرپشن‘ کی ہے یا 'تاثر‘ کی؟
حکومت اس تاثر کو درست نہیں سمجھتی۔ خان صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت تاریخ کی شفاف ترین حکومت ہے۔ اس دعوے کو اگر درست مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بعض اوقات قائم تاثر حقائق کے خلاف ہوتے ہیں۔ یہ مفروضے ہیں جنہیں ہم حقائق کا درجہ دے دیتے ہیں۔ یہ دراصل آپ کی ابلاغی قوت ہے جو تاثر کو حقیقت بنا کر پیش کر سکتی ہے۔ اسی لیے خان صاحب بھی اس تاثر کا انتساب ذرائع ابلاغ کے نام کرتے ہیں۔
میڈیا کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ جو کچھ دکھاتا ہے، وہ حقیقت نہیں، حقیقت نما ہوتا ہے۔ اصطلاحاً 'ہائپر ریئلٹی‘ (Hyper reality)۔ سادہ الفاظ میں حقیقت اور افسانے کی آمیزش۔ اسی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے دو تین سال پہلے انگریزی لغت میں 'پوسٹ ٹروتھ‘ کے لفظ کا اضافہ ہوا۔ یہ عمل اس مہارت سے ہوتا ہے کہ کروڑوں افراد کی رائے کو تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ سب کیسے ہوتا ہے؟
اس عمل میں مقدمے کی بنیاد بعض حقائق پر رکھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ملک میں مہنگائی ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ مہنگائی کیوں ہے؟ اس سوال کا تعلق علمِ معاشیات سے ہے۔

جب ایک ماہر معیشت اس کا جواب تلاش کرے گا تو وہ ان عوامل تک پہنچے گا جو پیچیدہ اور ہمہ جہتی ہیں۔ وہ طلب و رسد کے سادہ اصول سے لے کر عالمی کساد بازاری تک بے شمار اسباب و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی وجوہات تلاش کرے گا۔عام آدمی کو اس پیچیدہ تجزیے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اسے اگر اس کا سادہ سا سبب بتا دیا جائے تو اس کے اطمینان کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر کچھ مفاد پرست گروہ منظر کا حصہ بنتے ہیں۔ وہ مسئلے کی ایک ایسی تاویل کرتے ہیں جو عام آدمی کے لیے قابلِ فہم ہوتی ہے۔ اس تاویل کی مقبولیتِ عامہ سے اس گروہ کے اپنے مفادات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ میڈیا اس کام میں مفاد پرست گروہ کے معاون کے طور پر شریک ہو جاتا ہے اور اس گروہ سے اپنا حصہ وصول کر لیتا ہے۔
اسی مہنگائی کو دیکھیے۔ آٹا کیوں نایاب ہوا؟ مہنگائی میں تیرہ فیصد کیوں اضافہ ہوا؟ یہ حقیقت ہے جس کا سامنا ہر خاص و عام کو ہر روز ہوتا ہے۔ اس کا انکار محال ہے۔ ایک تاویل کے مطابق یہ ایک مافیا ہے جو حکومت میں بیٹھا ہے۔ یہ چینی اور آٹے کا کاروبار کرتا ہے۔ یہ پہلے چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے اور پھر طلب بڑھنے کی صورت میں قیمت بڑھا دیتا ہے۔ لہٰذا اس مہنگائی کی وجہ اس گروہ کی کرپشن ہے۔

یہ ایک ایسی سادہ تاویل ہے جو ہر آدمی کی سمجھ میں آتی ہے۔ یوں واقعہ اور تاویل دونوں مل کر ایک 'پوسٹ ٹروتھ‘ تخلیق کرتے ہیں۔ حکومتوں کے خلاف اپوزیشن اس کا مہارت کے ساتھ استعمال کرتی ہے اور یوں ان کو عدم استحکام سے دوچار کر دیتی ہے۔ اس سادہ تاویل کے مقابلے میں، کسی ماہرِِ معیشت کا علمی مقدمہ بے اثر ثابت ہو گا۔
اسی پوسٹ ٹروتھ کو عمران خان صاحب نے بہت مہارت سے استعمال کیا اور میڈیا نے ان کے ایک کارندے کا کردار ادا کیا۔ ملک میں موجود غربت و افلاس، ظاہر ہے کہ ایک حقیقت ہے۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ عام آدمی کو تعلیم و صحت جیسی عام سہولتیں میسر نہیں۔ اس کے وسائل اور ضروریات میں تفاوت ہے۔ خان صاحب نے ان واقعات کی یہ سادہ تاویل کی کہ اس کا سبب کرپشن ہے اور وہ بھی شریف خاندان کی۔ میڈیا نے اس مقدمے کو عوام کے ذہنوں میں اتارنے کے لیے، ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ باقی کام کچھ اوروں نے کر دیا اور یوں وہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔
خان صاحب نے مقدمہ یہ قائم کیا کہ جب ملک کا وزیر اعظم کرپٹ ہوتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ مہنگائی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگر اوپر بیٹھا ہوا کرپٹ ہو گا تو نیچے کی سطح پر کرپشن ختم نہیں ہو سکتی۔ عوام کے ایک طبقے نے اس مقدمے کو مان لیا۔ گویا پوسٹ ٹروتھ کو قبول کر لیا۔

جب وہ وزیر اعظم بن گئے تو نہ ملک میں مہنگائی کم ہوئی نہ کرپشن۔ ریاست اور حکومت کے ادارے بتا رہے ہیں کہ مہنگائی میں تیرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کہہ دیا ہے کہ کرپشن کے بارے میں تاثر ہے کہ بڑھی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر خان صاحب کا بیان کردہ استدلال درست ہے تو ماننا پڑے گا کہ اب اوپر کی سطح پر کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے کہ وہ بتا چکے کہ جب ملک کا وزیر اعظم کرپٹ ہوتا ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے اور کرپشن بھی۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ خان صاحب کے قائم مقدمات درست نہیں تھے۔ انہوں نے جان بوجھ کر ایک پوسٹ ٹروتھ تخلیق کیا اور اس قوم کو گمراہ کیا۔
میں قومی میڈیا میں پہلا آدمی تھا جس نے پوسٹ ٹروتھ پر لکھا اور لوگوں کو خبردار کیا کہ کیسے یہ معاملات کی درست تفہیم نہیں ہے۔ پاکستان کی معیشت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کرپشن نہیں، سیاسی عدم استحکام ہے۔ کرپشن ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ نہیں۔ معاشی بہتری کے لیے ترجیحات طے کرتے وقت، ہمیں سب سے زیادہ اہمیت سیاسی استحکام کو دینی چاہیے۔ وقت نے اسے درست ثابت کیا۔

پاکستان کو 2016ء میں سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیا گیا۔ اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اس وقت معاشی ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی۔ آج 2.4 فیصد ہے جس میں سٹیٹ بینک کے مطابق آنے والے سال میں بھی کسی قابلِ ذکر بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ اسی طرح مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا اور روزگار کے مواقع سکڑ چکے۔ رہی کرپشن تو اب پتا چلا کہ اس میں بھی اضافہ ہو چلا ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ گزشتہ چند سالوں میں جو مقدمہ تراشا گیا، وہ پوسٹ ٹروتھ کا مظہر تھا جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
آج وقت نے پھر پلٹا کھایا ہے اور عمران خان صاحب لکیر کی دوسری طرف کھڑے ہیں۔ وہ کرپشن کو محض ایک تاثر (perception) قرار دے رہے ہیں اور اس کا ذمہ دار میڈیا کو سمجھ رہے ہیں۔ وہ اب میڈیا کا منہ بند کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ معیشت کا ایک علمی تجزیہ پیش کر نے کی کوشش کرتے ہیں۔ اداروں کی تشکیلِ نو کا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری قرار دیتے ہیں۔ عوام لیکن کسی تاویل کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے لیے یہ سادہ بات زیادہ قابلِ قبول ہے کہ مہنگائی کی اس لہر کا سبب کرپشن ہے اور اس کے ذمہ دار وہ مافیاز ہیں جو حکومت میں بیٹھے ہیں۔ اپوزیشن ظاہر ہے کہ اب اس کو استعمال کرے گی۔

میں اس کی تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تردید کہ موجودہ مہنگائی کا سبب کرپشن ہے یا نہیں؛ تاہم میں یہ بتا سکتا ہوں کہ 'پولیٹیکل اکانومی‘ کا علم اس معاملے میں کیا کہتا ہے۔ میں اس مقدمے کو آج بھی درست سمجھتا ہوں کہ کرپشن، معاشی عدم استحکام کا سب سے بڑا سبب نہیں ہے۔ اس کی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ عدم استحکام کرپشن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ گورننس کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ملک ایک بار پھر عدم استحکام کی راہ پر تیزی سے رواں دواں ہے۔ میں نے ڈیڑھ سال خان صاحب کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ ملک کو سیاسی استحکام کی راہ پر ڈالیں۔ افسوس کہ انہوں نے فسطائی انداز اپنائے اور اپوزیشن کے وجود ہی کو ختم کرنا چاہا۔ سیاسی مخالفین کے بعد وہ میڈیا میں اپنے ناقدین کے درپے ہیں۔ نئی بساط بچھا دی گئی ہے اور اب خان صاحب کی پہلی ترجیح اقتدار کو بچانا ہے، ملک اور عوام کو بچانا نہیں۔ 201ء میں نواز شریف صاحب بھی اسی کیفیت سے دوچار تھے۔ عدم استحکام ترقی کی شرح کو 5.8 فیصد سے 2.4فیصد تک لے آیا۔آج کا عدم استحکام 2.4 فیصد کو کہاں لے جائے گا، یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔