کرپشن کا انڈیکس- سجاد میر

یہ ایک نئی مصیبت پڑ گئی ہے۔ سارے صوبوں میں الگ الگ شورش کی کیفیت تھی۔اوپر سے سیاسی پنڈتوں نے پیش گوئیاں کر رکھی تھیں کہ فروری ‘ مارچ کے مہینے سخت ہیں۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ عمران خان ڈیووس میں دنیا بھر کے لیڈروں کو یہ سمجھا رہے تھے کہ فوج کے ساتھ جیسے تعلقات ان کی حکومت کے ہیں پہلے کسی اور حکومت کے نہ تھے وجہ اس کی بتائی کہ پہلے والے کرپٹ تھے‘ اس لئے فوج اس سے خوش نہ رہتی تھی۔ قطع نظر اس بات کے کہ آیا یہ کوئی کریڈٹ کی بات ہے کہ کوئی جمہوری حکومت اس بات پر فخر کرے کہ اس کے فوج سے بہت قریبی تعلقات ہیں۔ وہ بھی اس صورت میں جب کہ ان پر الزام لگایا جاتا ہو کہ وہ فوج کی مدد سے اقتدار میں آئی ہے‘ عالمی سطح سے ایک معتبر ادارے کی طرف سے یہ تجزیہ آ جانا کہ پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ کمی نہیں ہوئی وہ بھی ترتیب یوں کہ سب سے زیادہ کرپشن اس دور میں ‘ اس کے بعد مشرف کے دنوںمیں اور اس سے کم زرداری کے زمانے میں اور ان میں سے سب سے کم نواز شریف کے عہد حکومت میں۔ جس پر جتنا الزام تھا وہ اتنا ہی بری الذمہ نکلا۔ اسے قدرت کی ستم ظریفی نہ کہیں تو اور کیا کہیں ہمارا تو سارا بیانیہ ہی یہ تھا کہ پاکستان کی ساری خرابیوں کی جڑ پرانے حکمرانوں کی کرپشن ہے۔

خاص طور پر نواز شریف تو اس معاملے میں ناقابل معافی ہیں۔ اس پر حکومت نے چیخم دھاڑ مچا رکھی ہے کہ یہ لوگ بِکے ہوئے ہیں۔ یہ تجزیے پیسے دے کر کرائے جاتے ہیں اور ضرور نواز شریف نے کرائے ہیں۔ یہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نام ہم کم از کم نصف صدی سے سنتے آئے ہیں۔ جب بھٹو نے صحافت کو پابند سلاسل کیا۔ قریشی برادران‘ مجیب شامی‘ حسین نقی اور مظفر قادر پابند سلاسل ہوئے تو اس ادارے نے اعلان کیا کہ یہ لوگ ضمیر کے قیدی ہیں۔ اس سے پہلے کا مجھے پتا نہیں‘ مگر مرے شعور کی آنکھ نے اس لفظ کو سب سے پہلے شہرت پاتے اس وقت دیکھا ۔ پھر غالباً یہ اعزاز بھٹو صاحب کو بھی ملا بڑی شہرت ہوئی۔یہ ادارہ ہر ملک میں معلومات اکٹھی کرتا ہے مگر ان معلومات کی بنیاد پر فیصلہ اپنی مقامی برانچ کو نہیں کرنے دیتا‘ بلکہ سرعام عالمی سطح پر کہا جاتا ہے۔ بڑا غیر جانبدار ادارہ ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ویسے بھی ہمارے یہاں دستور ہے کہ مختلف ادارے جو سروے کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں ہم اپنی اپنی ضرورت کے مطابق رائے دیتے رہتے ہیں۔ جس کے خلاف رائے آتی ہے‘ وہ مخالفت میں کوئی بیانیہ ترتیب دے دیتا ہے۔ گزشتہ انتخاب میں ہمارے ہاں ایسے کئی بیانئے آئے۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنے سروے کراتی ہیں۔ مگر ایسے بھی ادارے ہیں جن کی شہرت ہی ان کی غیر جانبداری کی علامت ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں یہ سروے عام طور پر درست بھی نکلتے ہیں اور غلط بھی۔

سب سے غلط تجزیہ اس اس بار ٹرمپ کے صدارتی انتخاب کا نکلا۔ یہ سب سروے بتا رہے تھے کہ ہیلری کلنٹن جیت رہی ہیں اور ٹرمپ کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ رزلٹ آیا تو دنیا دنگ رہ گئی۔ ایسا ہی ہوتا آیا ہے مگر عام طور پر سارے ہی سروے ہم خیال بھی ہوتے ہیں اور درست بھی نکلتے ہیں۔ زاویہ نگاہ کا فرق علمی تحقیق پر بھی پڑ جاتا ہے اور عام آدمی اس کا اندازہ کر لیتا ہے۔ ویسے ہم کاروباری عہد میں جی رہے ہیں۔ ایسے میں مرضی کے سروے بھی کروائے جاتے ہیں اگر عمومی طور پر ایسا ذرا مشکل سے ہوتا ہے۔ اب یہ جو ایمنسٹی انٹرنیشنل کا سروے آیا ہے تو ویسے تو یہ معتبر ادارہ ہے اور اس وقت اس کا یہ سروے پاکستان کی سیاسی صورت حال میں بہت دلچسپ صورت حال پیدا کر گیا ہے۔ گویا حکومت کا سارا بیانیہ ہی بدل ڈالا ہے۔ وہ کہتی ہے ہمارے مخالف کرپٹ ہیں۔ سروے کیا ہے کہ بھائی کرپٹ آپ زیادہ ہیں‘ اگرچہ یہ کرپشن معمولی سی بتاتا ہے۔ 32پوائنٹ اور 33پوائنٹ ۔ 117کے بجائے 120واں مقام‘ بہت معمولی فرق جو ہے بھی یا نہیں‘ مگر ہمارے ہاں بحث کا باعث بن گیا ہے ۔یہ جو سروے ہوتے ہیں یہ کوئی سونا تولنے کا عمل نہیں ویسے بھی ان میں کئی طرح کے زاویے ہیں۔ کئی طرح سے نتائج نکالے جاتے ہیں۔ قانونی طور پر سہولت پیدا ہو گئی ہے۔

اقتصادی طور پر سہولتیں بہتر ہوتی ہیں۔ کئی طرح سے جانچا جاتا ہے۔ اب ذرا بتائیے کہ اس سروے میں اس بات کے نمبر ملے ہیں کہ نیب کی وجہ سے کرپشن کے خلاف کارروائیاں بہتر ہوئی ہیں۔ یہ رائے کوئی پاکستانی مان سکتا ہے‘ پھر بھی انڈیکس میں بہتری آنے کے بجائے خرابی کرتی ہے۔ نتائج ایسے نہیں کہ اس پر بہت واویلا کیا جاتا۔ کچھ عرصہ پہلے جمہوریت کے بارے میں ایک سروے میں افغانستان کی صورت حال کو پاکستان سے بہتر بتایا گیا تھا تو اس پر کسی نے تبصرہ کیا کہ میں یہ ماننے کوتیار نہیں کہ افغانستان میں پاکستان سے بہتر جمہوریت ہے۔ آپ مختلف معاملات پر ایسے سروے پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ سب اندازے درست نہیں ہیں۔ بعض تو مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ اس وقت مگر اصل بات یہ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہماری حکومت اس پر اتنی بھنائی کیوں بیٹھی ہے اور اپوزیشن اسے کوئی بہت بڑی کامیابی کیوں سمجھ رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے اندر بھی عام تاثر یہ ہے کہ ملک میں کرپشن بڑھی ہے حتیٰ کہ رشوت کا ریٹ تک کھلے عام بڑھ گیا ہے۔

کوئی ادارہ بھی خوشدلی سے کام نہیں کر رہا۔ ادارے سے مراد وہ ادارے ہیں جن کا تعلق ملکی معیشت سے ہے۔ بیورو کریسی چونکہ ناراض ہے‘ اس لئے کھلے عام کرپشن کرتے کسی کو نہ ڈر لگتا ہے نہ کوئی اجتناب ہوتاہے۔ اس وقت آپ اگر موڈی یا کسی دوسرے ادارے کی ریٹنگ نکال کر یہ دہائی دینے لگیں کہ ہم منفی سے مستحکم ہوئے ہیں‘ ہماری معیشت میں استحکام آیا ہے تو یہ خود کو خواہ مخواہ چکر میں ڈالنے والی بات ہے۔ ایک تو یہ اشارے بہت چکرا دینے والے ہوتے ہیں بی میں منفی‘ بی میں مستحکم۔ پھر بی پلس‘ پھر پلس ون‘ پھر…جانے کیا کچھ ہوتا ہے۔ کہیں یہ اشاریہ بزنس کرنے میں آسانی کے بارے میں ہوتا ہے‘ کہیں امکانات کے بارے میں۔ یہ سب بہت پیچیدہ بھی ہوتا ہے اور کئی زاویے رکھتا ہے۔ جو بات میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اپوزیشن کے لئے زیادہ خوش ہونے کی بات نہیں ہے۔ حکومت کے لئے بھی زیادہ شور مچانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم جس بات کو مثبت سمجھ رہے ہیں وہ ایسی مثبت ہے نہیں اور جیسے ہم منفی گن رہے ہیں وہ ایسی منفی بھی نہیں۔یہ بات البتہ طے ہے کہ کہ ملک ابھی آگے نہیں بڑھ رہا۔ ہاں‘ یہ بات ضرور ہے کہ کچھ اشارے مثبت آنا چاہیے تھے یا کم از کم ویسے ہی ہوتے ۔مثال کے طور پر اس کرپشن کے معاملے پر‘ اس کا الٹ آنا یہ بتاتا ہے کہ ہمارے بارے میں جو تاثر تھا وہ بھی باقی نہیں رہ پایا۔

اس طرح معیشت کے بارے میں ہم جسے مستحکم کہہ رہے ہیں۔ وہ بھی کوئی خوش ہونے کی بات نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہیں اٹکے ہوئے ہیں جہاں تھے۔ حکومت کے لئے البتہ تشویش کی بات ضرور ہے کہ اتنے سارے پروپیگنڈا کے باوجود وہ دنیا کو یہ نہیں سمجھا پا رہے کہ ان سے پہلے والے سب خراب تھے۔ اتنے خراب کہ ساری خرابیاں ان کے سبب سے تھیں اور یہ کہ حکومت اور فوج جو ایک پیج پر ہیں تو اس کی کم از کم یہ وجہ نہیں ہے۔ اور ہاں اس سب کچھ میں ایک اور تشویش ہے اور وہ یہ سب کچھ اچانک اکٹھا کیوں ہونے لگا ہے۔ ملک کے اندر بھی مہنگائی آٹا‘ چینی‘ ٹماٹر صوبوں میں جھگڑے‘ چاروں صوبوں میں تصادم‘ پھرسیاسی نجومیوں کا یہ کہنا کہ ان دو مہینوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر چیز بگڑ رہی ہے۔ عدالتوں میں ایک ہل چل ہے۔ فوج میں چیف کی توسیع پر گڑ بڑ‘ بہت کچھ۔ اللہ رحم کرے۔ خوامخواہ دل کانپتا ہے۔ چاہے مجھے کوئی کہانی نہ ہو‘ مگر نظر بہت کچھ آتا ہے۔