نظام نو؟ ہارون الرشید

کہیں سے بھی انصاف کی کوئی امید دور دور تک نظر نہیں آتی ۔ کہیں کوئی کرن نہیں پھوٹتی ۔ کہیں کوئی امید نہیں جاگتی ۔ کہیں کوئی نوید نہیں ۔ اگر اب بھی ایک نظامِ نو کی تشکیل پر غور نہیں ہوگا تو کب ہوگا ؟ کسی معاشرے کی موت اس وقت واقع ہونے لگتی ہے جب اس میں تغیر کی آرزو ہی مٹ جائے ۔ جب وہ خواب دیکھنا ہی چھوڑ دے۔ کیا ملک کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے یا ایک نئے آغاز کی ۔گاہے یہ سوال اٹھتا ہے لیکن پھرشور و شغف میں گم ہو جاتا ہے ۔ روزمرّہ کے مسائل ہیں اور سنگین ۔ ہر روز نئے سکینڈل اور نئے جھگڑے۔ اخبارات اور ٹی وی چینل اس میں ڈوبے رہتے ہیں ۔ کوئی تنہا آواز اٹھتی ہے اور ڈوب جاتی ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تازہ جائزے نے ایک بار پھر اس موضوع کو اجاگر کیا ہے ۔ پوری شد و مد کے ساتھ سرکاری شخصیات یہ کہتی ہیں کہ غلط اعداد و شمار پہ مبنی یہ رپورٹ جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے بعض حامیوں نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ شریف خاندان نے رشوت دے کر یہ شوشا چھوڑا ہے ۔ یہ مضحکہ خیز ہے بلکہ احمقانہ ۔ اس لیے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ کینیڈا ، امریکہ ، بنگلہ دیش اور چین سمیت کئی اور ملکوں میں بھی کرپشن کے فروغ کی نشاندہی ہے ۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بحیثیتِ مجموعی ساری دنیا میں رشوت ستانی کو فروغ ہے ۔ اس کی وجہ شاید اخلاقی اقدار کا انہدام ہے ۔ بڑھتی ہوئی مادہ پرستی اور ہر کہیں اپنی نوعیت کی سیاسی شورشیں۔ افریقی ممالک غربت کے طوفان میں ہیں تو مشرقِ وسطیٰ خانہ جنگی کے اثرات میں ۔ ہمارا معاملہ منفرد ہے ۔ ہماری نئی حکومت قائم ہی کرپشن ختم کرنے کے نعرے پر ہوئی تھی ۔ ایک نئے اور منصفانہ نظامِ عدل کے لیے ۔ کیا وہ ایسا کر سکی ؟ کیا آغازِ کار ہی ؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے ۔ سرکاری پارٹی کا موقف وہی ہے ، بار بار دہرایا گیا آموختہ ۔ بدعنوانی تو دراصل زرداری اور نواز شریف کے ادوار میں تھی۔ دونوں خاندانوں نے جی بھر کے لوٹ مار کی ۔ ان کے بچّے تک ارب پتی ہو گئے اور اس کے شواہد موجود ہیں ۔ جعلی بینک اکائونٹ ہیں اور ایسے لوگوں کے نام پر سمندر پار سے کروڑوں اربوں روپے منتقل ہو ئے ، جو کبھی بیرونِ ملک گئے ہی نہیں ‘ جو پاسپورٹ ہی نہیں رکھتے ۔ مالی طور پر جن میں ہوائی جہاز پہ سوار ہونے کی تاب تک نہیں ۔ پھر یہ کہ اس دور میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع ہی نہیں ہوا ؛لہٰذا لوٹ مار یا اس میں اضافے کا کیا سوال۔ اخبار نویسوں کی اکثریت اس رائے سے اتفاق نہیں کرتی ۔ان کا کہنا ہے کہ بعض اعلیٰ سرکاری شخصیات ضرور مستثنیٰ ہیں لیکن سرکاری دفاتر میں من مانی کا رجحان بڑھ گیا ہے ۔

نیب اور دوسرے سرکاری اداروں کی ساری توجہ سیاسی مخالفین پر ہے ۔ پٹواری اور تھانیدار ایسے میں کھل کھیلنے کے لیے آزاد ہیں ۔ لاہور کے ایک ممتاز وقائع نگار نے کہا کہ خرید وفروخت کے لیے زمین کی نقول حاصل کرنے کے لیے اب تین گنا تک ادائیگی کرنا پڑتی ہے ۔ اہلکار اور افسر کام کو روکے رکھتے ہیں ۔ وہ حکومت سے ناراض ہیں ۔ دوسروں کی طرح انہیں بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ دوسرے معاملات میں الجھی ہوئی کمزور رٹ کی حکومت کے ہاتھ ان کے گریبان تک نہیں پہنچ سکتے ۔ اپنی سی کرگزرنے کی اب انہیں تقریباًکھلی چھٹی ہے ۔ وہ جو شاعر نے دیہی خدائوں کے بارے میں کہا تھا ان کی محنت ہے مری حاصلِ محنت بھی مرا ان کے بازو بھی مرے، قوت بازو بھی مری میں خدا وند ہوں اس وسعتِ بے پایاں کا موجِ عارض بھی مری نکہتِ گیسو بھی مری اخبار نویس کہتے ہیں کہ پولیس اور عدلیہ میں ، جو انصاف فراہم کرنے کے بنیادی ادارے ہیں ، اصلاحات کا آغاز تک نہیں ہو سکا۔ وہ سندھ میں اے ڈی خواجہ اور کلیم امام کے انجام کی مثال دیتے ہیں ۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ 16ماہ کے دوران پنجاب میں چار انسپکٹر جنرل آف پولیس تبدیل کر دیے گئے ۔ سب سے نمایاں مثال کے طور پر ان میں سے ہر کوئی ناصر درّانی کا نام لیتا ہے ۔

وہ آدمی جو دھوم دھڑکے سے لایا گیا ، جس کے ذریعے صدیوں سے بگڑی پنجاب پولیس میں انقلابِ عظیم برپا کرنے کی نوید دی گئی ۔ پھر کسی سائے کی طرح وہ سرمئی شام میں تحلیل ہو گیا ۔ نہ تو اس ہیرو کی طرف سے کوئی وضاحت سامنے آئی اور نہ آج تک حکومت نے زبان کھولنے کی زحمت کی ۔ حکمرانی کا حال برا ہے ۔ پنجاب میں حلیف تو بگڑے ہی تھے ، پی ٹی آئی کے زیرِ اثر تینوں صوبوں میں بغاوت کا ساماں ہے ۔ پنجاب میں بیس ارکان پر مشتمل ایک علیحدہ گروہ وجود میں آچکا ۔ اس کی بنیادی شکایت یہ ہے کہ افسر لوگ ان کا کام نہیں کرتے ۔ ان کے حلقوں میں ترقیاتی رقوم مہیا نہیں کی جاتیں ۔ دوسرے تو کیا ، خود گورنر پنجاب نے ایک ٹی وی پروگرام میں چیخ چیخ کر شکایت کی۔ سرکاری افسر ایک دوسرے کی بات تو مانتے ہیں ۔ خاص طور پر اپنے بالاتروں کی ۔ جائز سے جائز معاملے میں مگر گورنر کی ایک نہیں سنتے ۔ پرسوں پرلے روز پختون خوا میں ایک وزیر نے وزیرِ اعلیٰ کے خلاف بغاوت کا علَم لہرایا اور کہا کہ ان کے ساتھ وہ کام نہیں کر سکتے ۔ طنزیہ طور پر وزیرِ اعلیٰ محمود خان کو عثمان بزدار پلس کہا جاتا ہے ۔عثمان بزدار وسیم اکرم پلس ہیں ۔ اس معاملے میں تقریباً اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ پنجاب کا انتظامی سربراہ ناکام ہوچکا ۔ عملاً وزیرِ اعظم بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں ؛چنانچہ اختیارات انہوں نے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو سونپ دیے ہیں ۔ سرکاری افسروں کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی سے بھی حتی الامکان گریز کیا جائے گا ۔

ابھی کچھ دیر پہلے بلوچستان اسمبلی کے سپیکر نے اپنے وزیرِ اعلیٰ کے خلاف تحریکِ استحقاق جمع کرا دی ہے ۔ کاروباری طبقات سے ٹیکس وصولی کی مہم ماند پڑ گئی ہے اور ٹیکس اصلاحات کی بھی ۔ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کو ہمیشہ ایک رستا ہوا ناسور سمجھا گیا ، جو ٹیکس کا ایک بڑا حصہ ہضم کر جاتا ہے ۔ سربراہ کی تبدیلی ضرور ہوئی لیکن اصلاحات کا یارا کسی میں نہیں ۔ کاروباری طبقات سے بھی سمجھوتہ کر لیا گیا ۔ جہاں کہیں تبدیلی کا ارادہ یا آغاز کیا ، کچھ دنوں میں حکومت اپنی ایڑیوں پر الٹی گھوم گئی ۔ اسے یو ٹرن کہا جاتا ہے اور وزیرِ اعظم کی رائے میں یہ تاریخ کے عظیم ترین حکمت کاروں کا شعار ہے ۔ پنجاب اور مرکز میں حکومت کا انحصار حلیفوں پر ہے اور وہ آئے دن بگڑے رہتے ہیں ۔ ان کی منت سماجت کی جاتی ہے اور کچھ دن کو معاملہ ٹل جاتا ہے ۔صنعتیں بند ہو رہی ہیں ۔ پیداوار میں کمی ہے ۔دعوے بہت بڑے بڑے مگر بے روزگاری پھیلتی جاتی ہے اور مہنگائی اس سے بھی زیادہ ۔ لوگ چیختے ہیں مگر حکمرانوں کے پاس حرفِ تسلی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔

جمہوریت کا مطلب ہے نچلی سطح پر اختیارات کی تقسیم مگر بلدیاتی اداروں کے بارے میں کوئی واضح اور جامع منصوبہ سامنے نہیں ۔ تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے اور زوال ہے کہ تھمنے میں نہیں آتا ۔بے حسی کی حد یہ ہے کہ مفلس اور درماندہ مخلوق کے لیے بے نظیر پروگرام کا قابلِ ذکر حصہ سرکاری افسر چٹ کر تے رہے ۔ ظاہر ہے کہ سیاسی پارٹیاں ملوث تھیں ۔ محترمہ ثانیہ نشتر نے معاملے کو واشگاف کیا اور اصلاح کی کوشش کی تو الٹا انہی کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا ۔ گویا وہ یتیموں کے منہ سے لقمہ چھین رہی ہوں ۔ حکومت اور اپوزیشن میں نفرت کا رشتہ ہے ۔ میڈیا سیل قائم ہیں جو ایک دوسرے کی کردارکشی کرتے ہیں اور اخبار نویسوں کی بھی ۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ وزیرِ اعظم نے اپنے ٹوئیٹر حامیوں کو اکسایا کہ ان کے بعض مخالفین گٹر سے نکلے ہیں ۔ یعنی یہ کہ ان کی کردارکشی کارِ ثواب ہے ۔ ابھی کل تک حکومت او راسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر تھے ۔ اب نہیں ہیں ۔ کہیں سے بھی انصاف کی کوئی امید دور دور تک نظر نہیں آتی ۔ کہیں کوئی کرن نہیں پھوٹتی ۔ کہیں کوئی امید نہیں جاگتی ۔ کہیں کوئی نوید نہیں ۔ اگر اب بھی ایک نظامِ نو کی تشکیل پر غور نہیں ہوگا تو کب ہوگا ؟ کسی معاشرے کی موت اس وقت واقع ہونے لگتی ہے جب اس میں تغیر کی آرزو ہی مٹ جائے ۔ جب وہ خواب دیکھنا ہی چھوڑ دے۔