شرم و حیاٗ قرآن وحدیث کی رو سے- محمد برھان الحق جلالی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے انسان کی تخلیق فرمائی تو اس کی ھدایت و رھنمائی کا بندوبست بھی فرمایا حضرات انبیاء ورسل کی عظیم ہستیوں کو بھیجا اللہ نے روز اول سے ہی انسان کے سامنے دو راستے رکھ دیے ایک نیکی اور دوسرا بدی اور انسان کو اختیار دے دیا کہ چاہے تو وہ نیکی کو اختیار کرے چاہے برائی کو۔چاہے صراط الجنہ پر چلے چاہے صراط النار پر۔

اللہ رب العزت نے امت محمدیہ پر بہت بڑا انعام فرمایا کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کو ھمارے لیے نمونہ بنایا۔انسان چاہے کسی بھی فیلڈ کسی بھی شعبے سے وابستہ ھو اس کے لیے حضور ﷺ کی زندگی کامل نمونہ ھے آپ ﷺ نے ھمیں اخلاقیات کی تعلیم دی ھمیں اخلاقی آداب وخصائل سے اگا ہ فرمایااخلاق کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا کہ’بروز قیامت مومن کے اعمال میں سے جو چیز میزان پر سب سے بھاری ہو گی وہ ہے اس کے اخلاق اور بلاشبہ اللہ تعالی بد اخلاق شخص پر ناراض ھو گا‘اوکما قال علیہ الصلوٰۃ والسلام

حوالہ:۔سنن ترمذی شریف ج ۲ ص ۲۰ قدیمی کتب خانہ

اخلا ق حسنہ میں سے ایک شرم وحیاء بھی ھے۔اسلام دین فطرت ھے اور یہ شرم وحیاء کو پسند کرتا ھے۔ شرم حیاء کی اسلام میں بہت زیادہ اھمیت ہے شرم و حیاء کے بارے میں اسلامی تعلیمات کیاھیں؟
شرم وحیاء قرآن کی رو سے:۔

شرم وحیاء کے بارے میں بے شمار آیات ھیں مگر طوالت کے خوف سے صرف تین چار آیات کا ترجمہ رقم کروں گااھل ایمان کو قرآن حکیم نے جا بجا شرم وحیا ء کی صفت اختیار کرنے کا حکم دیا ھے۔ اللہ تعالی فرماتا ھے کہ
۲۔۱:۔’’اور (کامیاب مومنین)وہ ھیں جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ھیں‘‘(سورۃ المومنون ۵ نیز سورۃ المعارج ۲۹)

۳:۔’’اے حبیب ﷺ آپ ایمان والوں کو حکم دیں کہ وہ اپنی نگاھوں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں(سورۃ النور ۳۰)

۴:۔وہ حیاء کے ساتھ چلتی ھوئی آرہی تھی۔(سورۃ القصص ۳۵)

شرم وحیاء احادیث کی رو سے:۔

آیات مبارکہ کی طرح احادیث میں شرم حیا ء پر بہت زور دیا گیا ھے۔

۱:۔حیاء ایمان کا حصہ ھے۔

(سنن ابی دائود شریف حدیث نمبر ۴۷۹۵،جلد دوم ص ۳۱۸ مطبوعہ رحمانیہ)

۲:۔حضور ﷺ نے فرمایا ہر مذہب کو ماننے والوں کچھ امتیازی صفات و عادات ہوتی ہیں مسلمانوں کی امتیازی صفت شرم و حیاء ہے(سنن ابن ماجہ شریف ص ۳۰۸)

۳:۔حضرت سیدنا ابو سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک نوجوان صحابی کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ایک جب وہ باھر سے گھر آ رہے تھے تو یہ دیکھ کر انہیں بڑی غیرت آئی کہ انکی دلہن گھر کے دروازے پر کھڑی ھے جلال میں آکر نیزہ تان کر اپنی دلہن کی طرف لپکے وہ گبھراکر پیچھے ہٹ گئی اور رو کر پکاری اے میرے سرتاج مجھے نہ ماریں میں بے قصور ہوں ذرا گھر کے اندر چل کے تو دیکھیں کہ کس چیز نے مجھے باھر نکالا ھے چنانچہ جب وہ اندر گئے توزہریلے سانپ کو دیکھا بے قرار ہو کر سانپ پر زور دار وار کیا اس نے آپ کو ڈس لیا وہ غیرت مندصحابی اس سانپ کے زہر کی وجہ سے واصل بحق ہوگئے(سنن ابی دائود جلد ۳ ص ۴۶۵ ح ۵۲۵۷ دارالحیا بیروت)

قارئین گرامی قدر:۔

اسلام نے عورت کو اعلیٰ مقام و رتبہ عطا کیا اسے عظمت و رفعت کا تاج دیا ھے اسلام نے ھمارے لئے درخشندہ اصول و قوانین وضع کئے ہیں اسلام مرد و عورت کو شرم وحیاء کا درس دیتا ھے ھم اسلام کے اصولوں کو اپناکر اپنی عاقبت کو سنوارسکتے ہیں اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ہو