افسانہ نگاری اور کہانی کے اجزائے ترکیبی- مدیحۃالرحمن

جی ہاں۔۔۔۔آج ہم نامور ادیب احمد حاطب صدیقی صاحب کی صحبت سے فیضیاب ہوئے۔۔۔جو کہ بچوں کی خوبصورت نظمیں لکھنے میں خاص ملکہ رکھتے ہیں۔ہم جو قدرے سست سے بیٹھے تھے انکی گفتگو نے یکدم یوں رواں سا کر دیا جیسے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بہتی ندی میں لہریں پیدا کر دیں۔۔۔۔شاعر ہیں اور وہ بھی اردو جیسی پیاری زبان کے سو موضوع پہ توجہ مبذول کروانے اور دلچسپی پیدا کرنے کے فن سے خوب آگاہ تھے۔

“جس قدر صلاحیتیں عطا کی جاتی ہیں،اتنی ہی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں”یہ بات دل پہ لگی اور بہت سے قابل چہرے جو ہمہ وقت مصروفیت میں گھرے رہتے ہیں اور بیک وقت کئی امور نبٹا رہے ہوتے ہیں نظروں میں گھوم گئے۔سر نے بتایا کہ انسان کے ذرائع علم میں حواسِ خمسہ کا بہت عمل دخل ہے،لیکن محض ان پہ اکتفا کر کے ہم جامع اور کامل علم حاصل نہیں کر سکتے۔لکھنے کے عمل سے گزرنے سے پہلے مطالعہ کو وسعت دینا ازحد ضروری ہے،مشاہدہ گہرا ہونا چاہیے،جزیاتی مشاہدہ ہونا چاہیے۔

بیان کرنے کی صلاحیت اتنی عمدہ ہو کہ قاری یا سامع کو بات باآسانی سمجھ آ جائے،طویل اور پیچیدہ جملے لکھنے سے پرہیز کیجیے،سادہ اور مختصر جملے لکھیں،ایک دلچسپ بات جسے سن کر ہمیں بے ساختہ سمیرا امام باجی یاد آئیں کہ تحریر میں مکالمے کی موجودگی تحریر کے حسن کو بڑھا دیتی ہے،اور سمیرا باجی کی تحریروں میں اکثر مکالمے کی فضا ماحول کو خوشگوار،بے تکلف سا تاثر دیتی ہے۔

ایک ساتھی نے پوچھا کہ سر افسانہ ناولٹ،اور ناول میں فرق بتا دیجیے۔وہ گویا ہوئے:۔افسانہ:۔جس میں کہانی ایک موضوع کے گرد گھومے،یہ مکمل تخیل کی پرواز کا نتیجہ ہوتا ہے جس کو مصنف کا باریک بینی سے کیا گیا مشاہدہ مزید جِلا بخشتا ہے۔

ناولٹ:۔اس میں زندگی کے ایک سے زیادہ پہلووں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

ناول:۔اس صنف میں زندگی کے مکمل پہلووں کا احاطہ کیا جاتا ہے اور کہانی کے کرداروں کے ساتھ پیش آنے والے ہر واقعے کو مفصل بیان کیا جاتا ہے،گویا زندگی کی مکمل کہانی بیان کی جاتی ہے۔افسانہ نگاری میں واقعاتی اور تاثراتی انداز ہوتا ہے اور یہی چیز دیگر تخلیقی اصناف یعنی ناولٹ اور ناول نگاری میں پایا جاتا ہے۔یہ سب نہایت دلچسپی سے سنتے ہوئے ہم سوچ رہے تھے کہ کسقدر مفید اور بظاہر چھوٹی چھوٹی نظر آنے والی باتیں دل پہ کیسے اثر انگیز ہو رہی ہیں۔

بعض چیزیں معلوم بھی ہوں تو نئے سرے سے سننا بہت اچھا لگتا ہے شاید ایسی شیریں بیانی سنتے ہوئے ہی غالب نے یہ شعر کہا ہو گا،دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا ۔میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گھڑیال کی سوئیاں تیزی سے آگے بڑھ کر استادِ محترم کی توجہ بار بار اپنی طرف مبذول کروا رہی تھیں اور وہ بڑی سنجیدہ معصومیت سے کہتے “وقت کم ہے میں بات مختصر کرتا ہوں”۔۔۔۔۔اور ہم تڑپ کر ہر بار بولتے “نہیں سر آپ وقت کی فکر مت کیجیے ،آپ بتائیے”۔

اور ایک شفیق سی دھیمی سی مسکراہٹ ان کے چہرے کا احاطہ کر لیتی۔آگے بڑھتے ہوئے مزید راہنمائی کی اور بولے،ہر قسم کی نثر لکھتے ہوئے ان چار چیزوں کا خیال رکھیے اور نثر کو بہترین بنائیے۔محاورہ:۔جس میں الفاظ کچھ اور ہوں اور معنی کچھ اور،جیسے کہ “نامہ کھلا آنا۔۔۔۔یعنی موت کا پیغام آنا،یا پھر کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا۔یعنی سوچے سمجھے بنا نقالی کرنا اور نقصان اٹھانا”

روزمرہ:۔جملوں کی وہ قسم جسے اہلِ زباں استعمال کرتے ہیں جیسے کہ غلط العام ہے پھول توڑنا،جبکہ درست لفظ پھول چننا ہے۔

تلمیع:۔یہ بنیادی طور پہ شاعری کے قواعد میں استعمال ہوتا ہے لیکن نثر نگاری میں بھی اسکی اہمیت نظرانداز نہیں کی جا سکتی،جملے میں ایسا لفظ استعمال کرنا جوکسی تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرے تلمیع کہلاتا ہے مثلاً ،بچے لڑیں تو کہنا انکی جنگِ عظیم شروع ہو گئی،یا کسی حسین شخص کو دیکھ کر حُسنِ یوسف کا تذکرہ کرنا وغیرہ۔

ضرب الامثال:۔ تحریر میں ضرب الامثال کا استعمال بھی اسکے حُسن کو چار چاند لگاتا ہے۔۔۔۔جیسے جنگل میں مور ناچا ،کس نے دیکھا۔اور دیگر امثال وغیرہ۔کہانی لکھتے ہوئے اگر ہم کرداروں سے اتنی عمدہ واقفیت رکھ لیں کہ ہمارے ذہن میں انکی تصاویر تک نمایاں ہوں تو یقینًا ایک عمدہ شہہ پارہ وجود میں آئے گا،مزید برآں کچھ بھی تخلیق کرنے سے قبل آغاز،درمیان اور انجام پہلے سے ہی سوچ کر لکھنے کا آغاز کریں۔انجام جاندار ہونا چاہیے کہ وہی سب سے گہرا اثر چھوڑتا ہے۔لیجیے جناب خوبصورت نثر نگاری کے لوازمات سجا کر پیش کردئیے ہیں۔

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی

نشست کے اختتام پہ ہم سب نے اپنے معزز استاد سے فرمائش کر کے انکا کلام سنا ،اور پھر اس خوبصورت شعر سے محفل برخاست ہوئی

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

میرے جنم دن پہ اس نشست سے بہتر تحفہ کچھ اور ہو سکتا تھا۔