لہوگرم رکھنے کا ایک بہانہ - ایم سرورصدیقی

کوہ پیمائی کو دنیا کا سب سے خطرناک مشغلہ کہاجاسکتاہے کچھ لوگ اسے لہوگرم رکھنے کا ایک بہانہ بھی قراردیتے ہیں یہ شوق اتنا خطرناک ہے ان کے متعلق لوگوںکو کیا خودکوہ پیما ئوں کو بھی یقین نہیںہوتا کہ وہ اس مہم جوئی کے بعد زندہ گھرواپس بھی آسکیں گے یا نہیں۔

بہرحال اس کے باوجودہرسال درجنوںنہیں سینکڑوں کوہ پیما اپنے ذوق اور شوق کے مطابق دنیا کے دیو ہیکل اور پر ہیبت پہاڑوںکی چوٹیوںکو تسخیرکرنے کیلئے اپنی خدادادصلاحیتیوںکو ازماتے ہیں کئی سال بیشتر ایریزونا کے ایک ڈاکٹر Ed Dohring ایک عرصے سے مائونٹ ایورسٹ پر جانے کے خواب دیکھ رہے تھے مگر چند روز پہلے جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں کے حالات دیکھ کر انہیں بہت صدمہ ہوا۔کوہ پیما سیلفی لینے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ دھکم پیل میں مصروف تھے۔چوٹی کا ہموار حصہ جو ٹیبل ٹینس کی دو میزوں کے سائز کا تھاپندرہ بیس لوگوں سے پوری طرح پیک تھا۔

اسے وہاں تک پہنچنے کے لئے ایک قطار میں کھڑے ہو کر کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑاموٹی جیکٹس پہنے لوگ اس برفانی چٹان پر ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے جب کہ ساتھ ہی کئی ہزار فٹ گہری کھائی بھی نظر آرہی تھی۔اسے وہاں کھڑے ہونے کے لئے ایک حال ہی میں فوت ہونے والی خاتون کوہ پیما کی ڈیڈ باڈی کا سہارا لینا پڑا۔ ڈاکٹر ڈوہرنگ نے کھٹمنڈو میں اپنے ہوٹل سے جہاں وہ آرام کر رہے تھے فون پربات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بہت ڈرائونی چوٹی ہے۔یہ ایک چڑیا گھر کی طرح لگتی تھی۔یہ سال ایوریسٹ پر ہلاکتوں کے حوالے سے مہلک ترین سال ثابت ہواہے جہاں کم از کم دس کوہ پیمائوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔ان میں سے بعض بد نصیب تو ایسے بھی تھے جن کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

ان اموات کی وجہ بڑے پہاڑی تودے برفانی طوفان یا تند تیز ہوائیں نہیں ہیں۔پرانے کوہ پیمائوں اور ٹورزم انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کی ایک عمومی وجہ تو اس سال بہت زیادہ لوگوں کاایوریسٹ پر چڑھنا ہے اور دوسری وجہ یہ بنی کہ زیادہ تر کوہ پیما نا تجربہ کار بھی تھے۔ رات کی پروازوں سے کوہ پیمائوں کو لے جانے والی ایڈونچر کمپنیاں نا تجربہ کار افراد کو لے کر جارہی ہیں جو پہاڑ پر موجود دوسرے لوگوں کے لئے بھی خطرے کا باعث بن جاتے ہیں۔

بعض تربیت یافتہ کوہ پیما کہتے ہیں کہ نیپالی حکومت جو کوہ پیمائی سے ملنے والا ایک ڈالر بھی ضائع نہیں ہونے دے رہی اس سے کہیں زیادہ تعداد میں کوہ پیمائوں کو پرمٹ جاری کر رہی ہے جتنے لوگوں کو ایوریسٹ کی چوٹی پر آسانی سے سمایا جا سکتا ہے۔دوسری طرف ایوریسٹ دنیا بھر سے مہم جوئی کے شوقین لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نیپال جہاں سے ایوریسٹ پر چڑھنے کی سائیٹ موجود ہے کا شمار دنیا کی غریب ترین اقوام میں ہوتا ہے اور وہ ناقص قوانین بد انتظامی اور کرپشن کا سنگین ریکارڈ رکھتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس چوٹی پر اتنے پر ہجوم مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ29,000فٹ کی بلندی پر Lord of the Fliesکی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔اتنی بلندی پر غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور دوسرے لوگوں کے لئے انسانی جذبہ ایثار کی سخت آزمائش بھی ہوتی ہے۔کوہ پیما چوٹی پر پہنچنے کے لئے فالتو وزن کا ایک ایک پائونڈ گرانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تاکہ کمپریسڈ آکسیجن کے کنستر اپنے ہمراہ ایوریسٹ کی چوٹی پر لے جا اور پھر وہاں سے واپس بھی لا سکیں۔

کوہ پیما کہتے ہیں کہ آکسیجن سلنڈر ختم ہونے کا تصور بھی محال ہے کیونکہ چوٹی پر ایک یا دو گھنٹے کی تاخیر بھی کسی کیلئے زندگی موت کا سوال بن سکتی ہے۔ بعض کوہ پیما اور سامان لے جانے والے شرپا کہتے ہیں کہ اس سال بعض لوگوں کی موت کی وجہ یہ بنی کہ کئی لوگ آخری ہزار فٹ کی چڑھائی پر ایک قطار میں ایک دوسرے کو پکڑ کر کھڑے تھے اور وہ آکسیجن کی دوبارہ سپلائی لینے کے لئے تیزی سے اوپر نیچے حرکت کرنے سے قاصر تھے۔مرنے والوں میں کئی ایسے لوگ بھی تھے جو کسی طور کوہ پیمائی جیسے خطر ناک کھیل کے لئے موزوں ہی نہیںتھے۔شرپا بتا رہے تھے کہ ایسے بھی کوہ پیما تھے جنہیں کیلوں والے جوتے یعنی سپائکس بھی نہیںپہننے آتے تھے جن سے برف پر پائوں کی گرفت مضبوط ہو جاتی ہے۔

نیپال نے اس حوالے سے کوئی خاص قواعد وضوابط وضع نہیں کئے کہ کون مائونٹ ایوریسٹ کو سر کر سکتا ہے اور کون نہیںکر سکتا۔جب کہ سینئر کو ہ پیمائوں کا کہنا ہے کہ مائونٹ ایوریسٹ موت اور تباہی کا لائسنس ہے۔ مائونٹ ایوریسٹ کے معروف کوہ پیما اور وقائع نگار ایلن آرنیٹ کا کہنا ہے کہ آئرن مین کی مہارت دکھانے کے لئے تو آپ کو کوالیفائی کرنا پڑتا ہے مگر دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایوریسٹ سر کرنے کے لئے آپ کو کوالیفائی کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آخری مرتبہ2015 ء میں دس یا اس سے زیادہ لوگ مائونٹ ایوریسٹ کے اوپر موت کی وادی میں گئے تھے جن پر بہت بڑا برفانی تودہ گر گیا تھا۔بعض اقدامات کی وجہ سے ایوریسٹ مشین اب بہت زیادہ بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔

گزشتہ سال معروف کوہ پیمائوں انشورنس کمپنیوں اور اخباری تنظیموں نے ٹور گائڈز ہیلی کاپٹر کمپنیوں اور ہسپتالوں کی ایک بہت بڑی سازش کا اانکشاف کیا تھا جنہوں نے معمولی سی بلندی پر کوہ پیمائوں کو طبیعت خراب ہونے کے بہانے ریسکیو کر کے انشورنس کمپنیوں سے لاکھوں ڈالرز بٹور لئے تھے۔کوہ پیما یہ شکوہ بھی کرتے پائے گئے ہیں کہ مائونٹ ایوریسٹ پر چوریا ں ہوتی ہیں اور وہاں بہت زیادہ کوڑا کرکٹ جمع ہو چکا ہے۔ اس سال کے آغاز میں سرکاری تفتیش کاروں نے کوہ پیمائوں کے زیر استعمال لائف سیونگ آکسیجن سے متعلق بہت سے مسائل کا پتہ چلایا تھا۔

ان کاکہنا ہے کہ آکسیجن گیس کے بہت سے سلنڈر لیک کر رہے تھے بعض دھماکے سے پھٹ بھی گئے یا پھر ان میں بلیک مارکیٹ سے انتہائی اناڑی پن سے آکسیجن گیس بھروائی گئی تھی۔ کو ہ پیمائوں کی سیفٹی کے حوالے سے پائی جانے والی ان تمام تر خامیوں کے باوجود یوں محسوس ہو رہا ہے کہ نیپالی حکومت مائونٹ ایوریسٹ سے تجارتی انداز میں پیسہ کمانے کا منصوبہ بنا رہی ہے اسی لئے اس سال حکومت نے ریکارڈ تعداد میں دنیا بھر کے 381مہم جوئوں کو مائونٹ ایوریسٹ پر چڑھنے کے لئے پرمٹ جاری کئے ہیں۔ کوہ پیما کہتے ہیں کہ ہر سال جاری ہونے والے اجازت ناموں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس برس جس قدر بھاری ٹریفک جام دیکھنے میں آیا ہے کہ ماضی میں ایسے مناظر کبھی دیکھنے کو نہیں ملے۔

ایک ٹورسٹ گائڈ لوکس فرٹن باخ جسے اس سال ایوریسٹ پر چڑھنے والے مہم جوئوں کو چینی علاقے کی جانب سے لانا پڑا تھا کیونکہ نیپال والی سائٹ پر بہت زیادہ رش ہو گیا تھا اور ناتجربہ کارکوہ پیمائوں کی تعداد میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ لوکس فرٹن باخ شکوہ کرتا ہے کہ اس سنگین صورت حال میںابھی بہتری آنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ پاکستان کو بھی قدرت نے بہت حسین وادیاں اور دنیا کے بلندو بالاپہاڑی سلسلہ عطاکیاہے K2کا شماربھی ایسے ہی پہاڑوںمیں ہوتا ہے۔

جس کہ تسخیرکرنے کا شوق دنیا بھر کے کوہ پیمائوں کے دل میں مچلتارہتاہے حکومت اگر اس کے لئے خاطر خواہ اقدامات اور کوہ پیمائوں کو سہلولیات فراہم کرے تو بہت سا زرِ مبادلہ حاصل کیا جاسکتاہے جو ملکی معیشت کے لئے آکسیجن کا کام کرے گا لیکن بلندو بانگ دعوئوں اور سبزباغ دکھانے کے علاوہ عملی طورکچھ نہیں کیا جاتا یہی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے اس صورت ِ حال میں لہوگرم رکھنے کا کوئی پیمانہ ہے نہ بہانہ اب ہم کیا کہیں؟