میثاق معیشت کامناسب موقع - پروفیسر جمیل چودھری

آجکل سیاسی پارٹیاں بہت سی باتوں پر متفق ہوتی نظر آتی ہیں۔اس سے قومی منظر نامہ میں مثبت پہلو نظر آناشروع ہوگئے ہیں۔بات فاٹا علاقے کی صوبہ خیبر پختونخواہ کے انضمام سے سابقہ حکومت کے دور سے شروع ہوئی تھی۔ایک بہت ہی پرانا مسٔلہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا تھا۔چند ہفتے پہلے مسلح افواج کے چیفس کی ایکسٹینشن کامسٔلہ بھی حل ہوگیا۔

اور اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تکمیل بھی ہوگئی ہے۔نیب آرڈینس بھی جلد ہی قانونی شکل اختیار کرلے گا۔سیاستدان اس سے اپنے بہت سے فوائد دیکھ رہے ہیں۔لہذا اب میثاق معیشتCharter of Economyپر گفتگو کا مناسب ترین موقع ہے۔تمام سیاسی پارٹیاں مل بیٹھیں اورآئندہ معیشت کے شعبے میں جوکچھ کرنا ہے اس پر اتفاق رائے کرلیں۔الیکشن کے ذریعے کامیاب ہوکرکوئی بھی آئے لیکن معیشت طے شدہ طریقے کے مطابق چلائی جائے۔ہرآنے والی پارٹی اپنی نئی پالیسیاں شعبہ معیشت میںنہ لاگو کرے۔معیشت کے شعبہ میں ایسے کام ہوں جس پرسیاسی پارٹیوں ،مالیاتی اورمعاشی ماہرین کاجس پر اتفاق پہلے ہوچکاہو۔پاکستانی معیشت اسوقت ملکی اور غیرملکی قرضوں کے تحت چل رہی ہے۔IMFنے ہم پر کڑی شرائط لگائی ہوئی ہیں۔اسی کے تحت ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔اورلوگوں کاجینا مشکل ہورہا ہے۔

غیرملکی قرض لینے میں کسی بھی سیاسی اورغیر سیاسی حکومت نے کمی نہیں کی۔ہرحکومت اپنادور گزارنے کے لئے عالمی اداروں سے ایک بڑاقرض لے لیتی ہے۔اوراب غیر ملکی قرض موجودہ مالی سال کے آخر میں112.50۔ارب ڈالر ہوجائے گا۔اس کے علاوہ بھی معیشت میں بڑے مسائل ہیں۔بڑی اورچھوٹی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدان،ملک کے تکنیکی ، انتظامی، مالیاتی اور معاشی ماہرین ایک میز پر اکٹھے بیٹھیں اور ملک کی معیشت کوآئندہ25سال چلانے کے لئے تفصیلی نقاط طے کرلیں۔صرف اورصرف اپنے ملک کامفاد اور ملک کی آبادی کوسامنے رکھ کر کچھ باتیں طے کی جائیں۔ہمارے ملک میں مالیاتی،تنظیمی اورمعاشی شعبوں کے ماہرین کی کمی نہ ہے۔یہ لوگ جب قومی سطح کے سیاسی لیڈروں کے ساتھ بیٹھیں گے اور کھلی بحث ہوگی توبہت سے معاملات پر اتفاق رائے ہوجائے گا۔

ابھی 2دن پہلےWorld Economic outlookسالانہ رپورٹ شائع کی ہے۔اس میں پاکستانی معیشت کوانتہائی خراب حالت میں ظاہرکیاگیاہے۔اگرچہ یہ تمامIMFکی اپنی لگائی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے ہے۔پاکستان کی شرح نمو2020ء میں صرف2.4فیصد رہے گی۔ایسے ہی بے روزگاری کی شرح6.2فیصد کااندازہ ہے اور مہنگائی کی اوسط شرح13.00فیصد ظاہر کی گئی ہے۔پاکستان کے لئے روشنی کی کرن صرف2024ء میں نظر آتی ہے۔جہاں معیشت 5۔فیصد کی سالانہ شرح سے بڑھتی نظر آتی ہے۔یعنی آئندہ چارسال معیشت پابندیوں کی وجہ سے کم شرح سے بڑھتی دکھائی گئی ہے۔بنگلہ دیش کی پوزیشن ہم سے بہت بہتر ہے۔اس کی معیشت 2020ء میں7.4فیصدسالانہ سے بڑھتی دیکھائی گئی ہے۔

جب میثاق معیشت کے لئے سیاسی،انتظامی اورمالیاتی ماہرین اکٹھے بیٹھیں گے اور ایک ایک کرکے معیشت کے شعبوں پرگفتگو کریں گے توکوئی نہ کوئی بہترحل ضرورسامنے آجائے گا۔معیشت کی اصلاح اورگفتگو کے لئے بے شمار شعبے ہیں لیکن پاکستان میں اہم ترین مسٔلہ وہ کاروباری ادارے ہیں جوسالہاسال سے سرکاری شعبے میں ہیں اورتمام کے تمام خسارے میں چل رہے ہیں۔ان کے متعلق کوئی ایسی پالیسی جس سے سرکاری وسائل پر پڑنے والا مستقل بوجھ کم ہوجائے یاختم ہوجائے نکالنا انتہائی ضروری ہے۔پاکستان کی ایک بڑی پارٹیPPPنجکاری کے واضح طورپرخلاف ہے۔باقی بڑی پارٹیاں نجکاری کی حامی ہیں۔قدیم زمانے سے ایک Wisdomکی بات کہی جارہی ہے کہ حکومت کاکام کاروبار کرنانہیں ہوتا ۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا کے بعد کی دنیا اور تیسری عالمی جنگ - معظم معین

اس کے فرائض میں دفاع،انصاف فراہم کرنا،اندرونی امن وامان کاقیام،کرنسی کی فراہمی اور خارجہ پالیسی شامل ہوں۔کاروبار عوام انفرادی طورپر کریں یااجتماعی طورپر۔حکومت ان کاروباری اداروں کو صرف سہولیات فراہم کرے۔جیسے ایک انڈسٹریل اسٹیٹ میں،سڑکوں کی فراہمی،بنکوں کی سہولیات،سیوریج کی فراہمی،بجلی اور پانی کاانتظام بہتربنائے۔اس انڈسٹریل اسٹیٹ میں عملاً فیکٹریاں عوام اورنجی اداروں کی ہوں۔کاروباری ادارے حکومت کومناسب ٹیکس اداکریں اور حکومت ان اداروں کوسہولیات فراہم کرے۔تمام دنیا میں آجکل یہی دستور ہے۔

جتنی بھی بڑی معیشتیں ہیں وہ اسی اصول کے مطابق چل رہی ہیں اورترقی کررہی ہیں۔پاکستان میں ایک سابق لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں جہاں کافی اچھے کام ہوئے تھے وہیں ایک بڑی غلطی یہ ہوئی کہ تمام قسم کے کاروبار کوقومی ملکیت میں لے لیا گیاتھا۔حتیٰ کہ چھوٹے چھوٹے کاروبار جوتب چندلاکھ کی مالیت کے تھے۔وہ بھی سرکاری ملکیت میں آگئے تھے۔اس پالیسی کے برے اثرات پاکستانی معیشت پر آج تک پڑتے چلے آرہے ہیں۔اگرچہ واپس نجکاری کاعمل جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے شروع ہوگیاتھا۔لیکن بہت ہی چھوٹے پیمانے پر۔بعدمیں بھی یہ کام سست رفتاری سے جاری رہا۔لیکن ابھی بھی 200 کاروباری ادارے سرکاری ملکیت میں ہیں۔اوران میں سے اکثر اربوں روپے کے خسارے میں ہیں۔

پاکستان کے حوالے سے "میثاق معیشت"کاسب سے اہم اوربنیادی نقطہ یہی ہے۔میثاق معیشت کے لئے سیاستدانوں اورماہرین کی ایک بھرپور کانفرنس ہو۔اس کانفرنس میں تمام سیاستدانوں اورمالیاتی ماہرین کا''نجکاری''پراتفاق ہوناضروری ہے۔نجکاری صاف شفاف ہو۔خسارے میں کام کرنے والے ایسے اداروں کی فہرست سیاسی اورمعاشی ماہرین کے سامنے ہواور ان اداروں کو حکومتی عمل دخل سے نکال کر پرائیویٹ اداروں کے سپرد کرناضروری ہے۔تاکہ حکومت ہرسال کھربوں روپے کے نقصان سے نکل آئے۔نجکاری سے ہی یہ ادارے اچھے انداز سے چل سکتے ہیں۔نقصان کی بجائے نفع میں آسکتے ہیں۔نجکاری کرتے وقت ضروری ملازمین کو ملازمت کی گارنٹی دیکر ملازمت میں رکھنا ضروری ہے۔تاکہ بے روزگاری میں اضافہ نہ ہو۔2سال پہلے کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ سالانہ خسارہ کیاتھا۔

1. NHA = 133 Billion
2. Pakistan Railway = 40 Billion
3. PIA = 39 Billion
4. Pakistan Steel = 14 Billion

دوستو۔یہ اعدادوشمار ہرسال بدلتے رہتے ہیں۔یہ صرف چند اداروں کی مثال ہے ۔اسکے علاوہ بھی چھوٹے بڑے ادارے خسارہ میں ہیں۔ان اداروں کی کارکردگی ٹھیک کرنے کی بڑی کوششیں ہوچکی ہیں۔لیکن کوئی بات بن نہیں رہی۔ملکی خزانہ پر یہ ادارے دہائیوں سے بوجھ بنے ہوئے ہیں۔مالیاتی اورمعاشی ماہرین PPPکے سیاستدانوں کو نجکاری پر آمادہ کریں اور یوں شفاف نجکاری کاعمل موجودہ زمانے سے ہی شروع ہوجائے۔میثاق معیشت کی بات مسلم لیگ کے سربراہ شہباز شریف اورPPPکے سربراہ زرداری صاحب قومی اسمبلی میں بھی کرچکے ہیں۔اب اس بڑے مسٔلہ پر"راؤنڈ ٹیبل کانفرنس"ہونا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔جب خسارے میں چلنے والے اداروں کی اکثریت پرائیویٹ شعبہ کومنتقل ہوجائے گی تو لازمی طورپر حکومت کی بھرپور توجہ کا مرکز باقی ماندہ شعبہ جات ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا کے بعد کی دنیا اور تیسری عالمی جنگ - معظم معین

صحت،تعلیم ،صاف پانی اور ماحول کوصاف ستھرا رکھنے کے لئے وقت اور وسائل دستیاب ہونگے۔PPPصرف اس لئے نجکاری کوپسند نہیںکرتی کہ سرکاری ملکیت میں لینے کی پالیسی اسکے بانی"ذوالفقار علی بھٹو" نے بنائی اور اس پربہت جلد عمل درآمد بھی ہوگیا۔PPPکے لئے اب نجکاری اپنی پرانی پالیسی کے لئے ایک بڑا یوٹرن شمارہوتا ہے۔لیکن دنیا سے سوشلسٹ دورگزرے دہائیاں بیت چکی ہیں اور اب آزاد منڈی کی معیشت کادورہے۔میثاق معیشت کادوسرانقطہ معیشت کومکمل طورپر دستاویزی بنانے کاہے۔اگرچہ ہردورمیں یہ کام کچھ نہ کچھ ہورہا ہے۔لوگوں کو اور اداروں کوٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔لیکن سیاستدانوں کے تعاون سے جب چیزیں طے ہونگیں۔تومعیشت کودستاویزی بنانے کے راستے میں حائل باقی ماندہ رکاوٹیں بھی دورہوجائیں گی۔

موجودہ دور میں بھی ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھ کر27۔لاکھ ہوچکی ہے۔لیکن ٹیکس دینے کے لئے صنعتکاروں اورتاجروں کی طرف سے بہانہ بازی جاری رہتی ہے۔شبرزیدی کی کوششیں کافی حد تک کامیاب نظر آتی ہیں۔لیکن موجودہ مالی سال میں بھی ہم ٹارگٹ سے ابھی پیچھے ہیں۔ٹیکسوں کی وصولی کے بغیر ملکی نظام چل ہی نہیں سکتا۔سیاستدانوں کی حمایت کئی رکاوٹوں کودور کرسکتی ہے۔وصولی ہوگی توعوام کوخاص طورپر غریبوں کوریلیف ملے گا۔تیسرا نقطہ جو''میثاق معیشت''میں زیر بحث لایاجائے اورجس پر سب کااتفاق ضروری ہے وہ اپنی60۔فیصد نوجوان آبادی کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کاپروگرام ہے۔اگردیکھا جائے تو پاکستان کے پاس یہ سب سے بڑا اثاثہ ہے۔دنیا کے کئی ملکوں میں بوڑھے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔

نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کوابھارنا اوران سے فائدہ اٹھانا۔تعلیم کے نظام کونہ صرف پھیلانا ہے بلکہ پید آور بناناہے ۔سکولوں سے ہی کوئی نہ کوئی ہنر ہرطالب علم کوسکھادیاجائے۔اس میں طلباء اورطالبات دونوں کے لئے پروگرام بنائے جائیں۔یونیورسٹیوں اورکالجوں میں مختلف شعبوں کے صحیح معنوں میں ماہرین اورتخلیق کارپیداہوں۔نئےIdeasپیداہوں۔طلباء کے تعلیمی نظام میں سوال کرنے اورغور وحوض کرنے کی صلاحیتوں کوابھارا جائے۔ہم قدرتی سائنس کے شعبوں میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔نئی ٹیکنالوجیز ہمارے ہاں پیدانہیں ہورہیں۔اس تیسرے نقطہ پراتفاق توسبھی کاہوگا۔لیکن قوم کے سامنے ایک تفصیلی پروگرام آجائے اوراس پرعمل درآمد شروع ہو۔یونیورسٹیاں توپہلے بھی250بن چکی ہیں۔لیکن ان کامعیار بلند ہوناضروری ہے۔

ابھی تک دنیا کارخ امریکی برطانوی اورچینی یونیورسٹیوں کی طرف ہی ہے۔ہم اپنی یونیورسٹیوں کی سہولیات،فیکلٹی اورفنڈز میں اضافہ کریں۔یہاں سے طلباء باہربھی جائیں لیکن باہرسے ہماری یونیورسٹیوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے بھی نوجوان آئیں۔نوجوانوں کی صلاحیتوں کوپیدآور بناکرہی ہم دنیا میں قابل اعتبار قوم بن سکتے ہیں۔موجودہ حکومت کواس میثاق معیشت پراتفاق کے لئے آگے بڑھنا چاہئے۔اس وقت ملک میں تعاون کاماحول ہے۔عمران خان خود آگے بڑھیں۔میثاق معیشت پر کانفرنس کے لئے سیاستدانوں اورماہرین کوگفتگو کے لئے بلائیں۔

قوم اسوقت معیشت کے بارے انتہائی مایوس ہے۔کچھ نقاط پراتفاق رائے سے ملک کا ماحول خوشگوار ہوگا۔نجکاری کے مسٔلہ کوسب سے زیادہ وقت دیناضروری ہے۔کھربوں کے خساروں سے نکلے بغیر کوئی بھی حکومت اچھی کارکردگی نہیں دکھاسکتی۔تعاون کی موجودہ فضاء سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاناضروری ہے۔میثاق معیشت کے لئے فضاء انتہائی سازگارہے۔