کیا عورت کے لیے غسل جنابت میں سر کا مسح کافی ہے؟ محمد زبیر

دوست کا کہنا ہے کہ شادی شدہ ہوں، فرسٹریشن کا شکار رہتا ہوں، بیوی تعاون نہیں کرتی۔ سردیوں میں یہ بہانہ ہے کہ ٹھنڈ لگتی ہے، نہانے کے بعد بال گیلے رہ جاتے ہیں، سکھانے مشکل ہیں۔ بچے بڑے ہو رہے ہیں، کبھی ان کا بہانہ ہے۔

تعلق قائم نہ ہو تو میرا منہ پھولا رہتا ہے اور قائم ہو جائے تو اس کا پھول جاتا ہے۔ اور مہینے میں پچیس دن یہی کیفیت رہتی ہے۔ کیا اس بارے شریعت میں کوئی آسانی نہیں ہے کیا کہ وہ غسل کے وقت صرف سر کا مسح کر لیا کرے۔

جواب: یہ ہر دوسری بیوی کا مسئلہ ہے، کسی ایک کا نہیں۔ اور بیوی کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے، اس کو اچھے سے سمجھ لیں۔ اس کا اصل مسئلہ کچھ اور ہوتا ہے، باقی سامنے کے مسائل یہی ہوتے ہیں کہ بال دھونے مشکل لگتے ہیں، ٹھنڈ میں غسل نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ بھی مسائل ہیں لیکن یہ ضمنی مسائل ہوتے ہیں، اس کے پیچھے اصل مسائل کچھ اور ہوتے ہیں اور وہ رویوں کے مسائل ہیں۔ اور اگر مسئلے کو حل کرنا ہے تو پہلے بیوی کے اصل مسائل کو ایڈریس کریں جو ہو سکتا ہے کہ شادی کے شروع میں تو شاید خود بھی اس کے لیے واضح نہ ہوں لیکن شادی کے دس بارہ سال بعد تو واضح ہو ہی جاتے ہیں۔

دوسرا جہاں تک شرعی مسئلے کا تعلق ہے تو عورت نے اگر پہلے سے بال باندھ رکھے ہوں تو اس کے لیے غسل جنابت میں بالوں کو کھول کر پورا دھونا لازم نہیں ہے بلکہ اگر وہ بندھے ہوئے بالوں پرتین چلو پانی ڈال لے تو کافی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنے سر کے بالوں کو اچھی طرح باندھ کر رکھتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے وقت انہیں کھولوں؟ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، ضروری نہیں ہے، اتنا بھی کافی ہے کہ تم تین چلو پانی ان پر ڈال لو۔

صحیح مسلم ہی کی ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عورتوں کو یہ فتوی دیتے ہیں کہ وہ غسل جنابت کے وقت اپنے سر کے بندھے ہوئے بال کھول کر پوری طرح دھوئیں۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ کیوں نہیں فتوی دے دیتے کہ عورتیں اپنے سر کے بال ہی منڈوا دیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غسل جنابت کرتی تھی اور اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لیتی تھی۔

فقہاء میں اس بارے اختلاف ہے کہ عورت کے بال اگر بندھے ہوں تو اس کے لیے بالوں کو کھولنا ضروری ہے یا نہیں؟ جمہور فقہاء حنفیہ، مالکیہ اور شافعیہ کا کہنا یہ ہے کہ اگر بالوں کی جڑ تک پانی پہنچ جائے تو بال کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ حنابلہ کے نزدیک جنابت اور حیض کے غسل میں فرق کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ غسل جنابت چونکہ بار بار کرنا پڑتا ہے لہذا شریعت میں اس رخصت کا تعلق غسل جنابت سے ہے۔ اور حیض کا غسل چونکہ اسے مہینے میں ایک بار کرنا ہے، تو اس میں اس نے اپنے بال کھول کر دھونے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */