یہ سب کیسے ہوا - یوسف سراج

چیزیں کتنی جلدی آشکار ہو جاتی ہیں، بدل جاتی ہیں۔ ایک ڈرامہ اتنا مقبول ہوا کہ وہ ٹی وی سکرین توڑ کے سینما کی سکرین پر جلوہ گر ہو گیا۔یہ سب کیسے ہوا؟ ہر ڈرامے کی آخری قسط آتی ہے اور وہ ختم ہو جاتا ہے،یہ مگر ایک آئیڈیا ہے جس نے ختم ہوتے ڈرامے سے ایسی کمائی کی شکل پیدا کی۔

'دو ٹکے کی عورت' کے ایک ڈائیلاگ نے پہلے ہی اسے شہرت کی بلندیاں عطا کر دی تھیں۔ متنازع چیزیں ویسے بھی ہمارے جیسے معاشروں میں شہرت اور دولت کے دہانے کھول دیتی ہیں۔اب ایک فلم پر دکانیں سج گئی ہیں۔ فلم تو خیر ابھی آئی ہی نہیں، میں نے اس کا ٹریلر بھی نہیں دیکھا،کچھ سکرین شاٹس مگر دکھائی دئیے۔

جن میں سے ایک منظر واضح طور پر بریلوی مسلک کے ایک دینی ادارے کا منظر ہے۔ مجھے یہ بہت چونکا دینے والی چیز لگی۔ آرٹ کا کام براہ ِ راست شخصیات یا فرقوں کو بدنام کرنا نہیں ہوتا۔ فلم یا آرٹ معاشرے کی اصلاح جنرل طور پر کرتے ہیں ناکہ براہ راست ڈاکیومنٹ کرکے، فلم اور ڈاکیومینری میں کچھ فرق تو ہوتا ہی ہوگا۔ پھر آخر کس جگہ برائی نہیں ہوتی؟ جہاں انسان ہے، وہاں اس کی اچھائیاں اور برائیاں بھی ہوں گی، البتہ جگہ اور ماحول کے اعتبار سے یہ کم یا زیادہ بھی ہوں گی۔

مثلا مسجد اور بازار کا فرق ہوگا اور مدرسے اور سینما سٹوڈیو میں فرق ہوگا۔ یہ مگر کیا کہ آپ کسی ایک یا چند واقعات کی بنا پر ایک پورے طبقے اور اس سے جڑے ہر فرد و بشر کو غلاظت کی پوٹ بنا کے معاشرے میں اس کو کالک کا دوسرا نام بنا دیں؟ بریلویت ایک مسلک ہے، شاید پاکستان میں سب سے زیادہ لوگ اس مسلک سے منسلک ہیں۔ ہر طبقے کی طرح اس میں خواتین ہیں، مرد ہیں، بچے ہیں بوڑھے ہیں، اچھے بھی ہیں برے بھی ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   میرے پاس تم ہو کی آخری قسط میں کیا ہوگا؟ نیلم اسلم

نعت خواں بھی ہیں اور قاری قرآن بھی ، علما بھی ہیں اور عامی بھی، اب مثلا قصور کے ایک واقعہ کی سزا زینب کے مجرم عمران کے ساتھ ساتھ پورے بریلوی مسلک کو دے دی جائے؟ فلم بنا کے اور ایسی نام لیتی فلم بنا کے ان سب سے عزت سے جینے کا حق چھین لیا جائے؟ اس سے آرٹ کی، سماج کی یا پاکستان کی کون سی خدمت ہو سکے گی؟ یہ بھی عجیب رٹی رٹائی تقریر ہے کہ یہاں آرٹ کا اور اظہار کا گھلا گھونٹ دیا جاتا ہے،معاشرہ منافق ہے اور گھٹن زدہ۔اچھا اگر ہو بھی،تو کیا آپ اب گالیاں دینے، عزت اچھالنے،انتشار اور فساد پھیلانے لگیں گے ؟

بات کرنے اور گالی دینے میں سے کسے اظہار کہا جائے گا؟ اگر گالی،الزام اور بے انصافی ہی اظہار ہے تو پھر ادب ،سلیقہ اور آئین و قانون کی کیا ضرورت ہے ؟ پھر تہذیب کسے کہتے ہیں ؟ نہیں مجھے لگتا ہے ، ہم سب افراط و تفریط کا شکار ہیں۔

مذہبی لوگ بھی اور وہ دوست بھی جو خود کو شدت پسندی کے خلاف مجاہد سمجھ رہے ہیں۔اگر کہیں شدت پسندی ہے بھی تو وہ اس شدت پسندی کو شدت پسندی ہی سے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ زہر کا علاج زہر سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے تو فساد ہی ہوگا ، علاج نہیں۔