والدین کے نام ۔ زارا مظہر

سنبھال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو ۔ ؟ سمجھ نہیں آ تی ۔ ماں باپ بچوں کی حفاظت کرنا سیکھ کیوں نہیں لیتے ۔ مائیں بچوں سے زیادہ حفاظت تو اپنے روپے پیسے اور زیور کی کرتی ہیں ۔ کنجی تالوں میں رکھتی ہیں ۔ باپ گاڑی اور پراپرٹی کے ڈاکیومنٹس کی حفاظت کرتے ہیں ۔ کیا انسان کے بچے اتنے ارزاں ہیں کہ انہیں بلا حفاظت باہر نکال دیا جائے ۔

جبکہ آ پ کو علم ہےانسانی جَون میں درندے جابجا گھوم رہے ہیں ۔ کون ہے ایسا کہ چوروں کا ڈر ہونے کے باوجود اپنی مادی دولت ننگی رکھ دے ۔۔ کیا بچے آ پکی فوقیت نہیں ہیں یا وہ ہوس کا شکار ہو جائیں گے تو ۔۔۔ آ پ اور پیدا کر لیں گے ۔ ؟اچھا اب ایک اور اہم بات ۔

1 ۔ وہ بچےسب سے زیادہ ریپ ہوتے ہیں جو سیپارہ پڑھنے گھر سے نکلتے ہیں ۔ عموماً سیپارہ پڑھانے والوں کے ہاں چھٹی کا ٹائم ٹیبل شیڈیول نہیں ہوتا اس لئیے بچے رٹے کے بعد باری باری نکلتے ہیں ۔۔ شام کے ملگجے میں گھاگ شکاری بھی شکار کے لئیے کھڑے ہوتے ہیں ۔ کبھی نہ کبھی انہیں شکار مل ہی جاتا ہے پھر وہ چیر پھاڑ لیتے ہیں ۔

جب اتنی خون آ شام وارداتیں ہو رہیں ہیں تو جان کے بدلے ، اذیت ناک موت کے خدشے تلے ننھے بچوں پر قرآن کی تعلیم کس نے فرض کر دی ۔ ماں تین وقت کھانا پکا سکتی ہے تو تھوڑی دیر کو تعلیم بھی گھر میں دے سکتی ہے ۔ نہیں پڑھا سکتے تو بچوں کو پیدا کرنا چھوڑ دیجئے یا بچوں کو بڑا ہونے کے بعد اس رستے پر ڈالا جائے ۔۔ قرآن مجید بچوں پر فرض نہیں ۔ ایک باشعور ، زندہ شخص کے لئیے مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔ بڑوں پر فرض ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہب اور ریاست کی جنگ -محمد ریاض علیمی

2 ۔ اس کے بعد وہ بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں جو گھر سے سودا سلف لینے نکلتے ہیں ۔ خدا کے لئیے بچے کی حفاظت کو خطرے میں ڈال کر اس کی معصومیت یا اذیت کے بدلے سودا نہ منگوایا کیجیے ۔ سودے کے بغیر گزارہ کر لیا کیجئے ۔ یا خود تشریف لے جایا کیجئے ۔ بچوں کو گھر میں حفاظت سے رکھا کیجئے جیسے آ پ اپنے پالتو جانوروں کا خیال رکھتے ہیں انہیں اکیلے کھلا نہیں چھوڑتے ۔۔۔ ننھے بچے کو اپنے جانور جتنا ہی قیمتی سمجھ لیا کیجئے ۔ جس معاشرے میں بھیڑیے کھلے عام پھرتے ہیں ۔

ریاست اپنے فرائض سے پہلوتہی کر رہی ہو تو وہاں اپنے بچے کی اتنی حفاظت تو بنتی ہے ۔ بچوں کو گھروں میں رکھنے کو رواج دیجئے ۔ بچہ پیدا کرنے کا طریقہ معلوم ہے تو اس کی حفاظت کا طریقہ کیوں معلوم نہیں ہے ۔ اور اگر نہیں معلوم تو پرندوں سے یا کتے بلی سے سیکھ لیجئے ۔ متاثرہ بچے کی اذیت بس وہی جان سکتا ہے اسکی رگ رگ میں کیسے نشتر اترتے ہیں سگی ماں بھی رو پیٹ سکتی ہے جھیل نہیں سکتی ۔ یہ بچے کسی ہوس پرست کی ننگی بھوک مٹا کر والدین کے لئیے جنت کما لیتے ہیں ۔

کمال کی سوچ ہے ۔ کوئی یہ نہ کہے کہ متاثرہ بچے کے والدین ہمدردی کے لائق ہیں ۔ ایسے تمام والدین سخت سزا کے لائق ہیں جو روزمرہ کی بنیاد پر ہوتی وارداتوں کے بعد بھی ان دو کاموں کے لئیے بچوں کو گھر سے نکالتے ہیں ۔ ( ہم ریاست سے ہزار بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ اس جرم کے پکڑے جانے والے مجرم کو چوک میں سزائیں دینے کا قانون پاس کریں لیکن کبھی ایک بار بھی عمل نہیں ہوا پکڑا ہوا مجرم بھی شک کا فائدہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے یہ پوسٹ ریاست سے 100% مایوس ہونے کے بعد لکھی گئی ہے ۔ )

یہ بھی پڑھیں:   مذہب اور ریاست کی جنگ -محمد ریاض علیمی

( پسِ نوشت ۔ ان تمام بچوں کی اذیت ، بے بسی کی دم گھٹی چیخیں ، اور جلے کٹے ، بھنمبھوڑے ہوئے کھلی آ نکھوں والے لاشے ۔)

Comments

زارا مظہر

زارا مظہر

زارا مظہر نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے، شاعری سے شغف ہے۔ دل میں چھوٹے چھوٹے محسوسات کا اژدھام ہے جو سینے جو بوجھل پن کا شکار رکھتا ہے، بڑے لوگوں کی طرح اظہاریہ ممکن نہیں، مگر اپنی کوشش کرتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.