اب تو گھبرانا چھوڑ دو - مسزجمشیدخاکوانی

لندن میں فیک نیوز کا باقائدہ پروگرام شروع کیا گیا ہے کبھی ٹماٹر کبھی آٹا کبھی چینی ،،نہیں نہیں ابھی چینی کا بحران شروع بھی نہیں ہوا لیکن اس غدار کو پورا پروگرام مل گیا ہے اس لیے اس نے چینی بحران آنے کی خبر دے دی ہے میرے پاکستانی بھائیو آپنے ملکی خزانہ لٹتے دیکھا لندن میں جائیدادیں بنتی دیکھیں۔

تم نے قرض اتارو ملک سنوارو کے نام پر بھی ڈاکہ دیکھا ،کبھی پیلی ٹیکسی تو کبھی سستی روٹی کے نام پر ملکی خزانے کو باپ کا مال سمجھ کر لوٹتے رہے مگر تم نہیں گھبرائے ،کبھی لیپ ٹاپ اور کبھی روزگار سکیم کے نام پر لوٹا گیا تم پھر بھی نہیں گھبرائے تمہیں یاد تو ہو گا وہ نوجوانوں کو قرض سکیم پروگرام جس کی چیئر پرسن مریم نواز بنی اور قومی خزانے سے اربوں روپے اس کے حوالے کر دیئے گئے سو روپے کا اس کا فارم تھا اور دو ڈھائی کروڑ فارم بھی بک چکے تھے سوچو کتنا پیسہ اکھٹا کیا شہزادی نیلیکن جب اس پروگرام کی چیئرپرسن ہٹائی گئی تو پورا پروگرام ہی ختم کر دیا گیا کہاں گئے وہ اربوں روپے اور وہ بکنے والے فارموں کی سیل کے پیسے ؟

کسی نے آج تک حساب مانگا؟ لوٹنے والوں نے تمہیں دبا کر لوٹا مگر تم نہ بولے نہ گھبرائے تم نے ڈان لیکس بھی دیکھیں تم نے کارگل بکتا بھی دیکھا تم نے نہیں گھبرانا تھا تم نہیں گھبرائے تم نے یہ بھی سنا کسی نے کہا تھا پاکستانی فوج نے واجپائی صاحب کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے کمال حوصلہ ہے تمھارا تم ذرہ نہیں گھبرائے تم نے ختم نبوت کے قانون کو ختم کرنے والی جسارت بھی دیکھی تم نے بیماریوں کے نت نئے ڈرامے بھی دیکھے مگر نہیں گھبرائے تیس تیس سال جس پارٹی کو اپنے علاقے سے جتواتے رہے اس جماعت نے تمھارے علاقے کو بنیادی انسانی ضرورتوں سے محروم رکھا ۔

ماڈل ٹائون ہو یا ممتاز قادری کی پھانسی ،تم پر کسی بات کا اثر نہیں ہوا اور نہ تم گھبرائے ابھی تم پیاز ٹماتر کے ریٹ پر گھبرا جاتے ہو ؟حوصلہ رکھو اور صبر کرو پاکستان انشا اللہ ان وقتی مسائل سے نکل آئے گا اب تمھارا وزیر اعظم لندن میں فلیٹ خریدنے والا نہیں ہے اسنے تو اپنا سات ارب روپے سالانہ کا صوابدیدی فنڈ بھی نہیں لیا اس ملک کے لئے ملکی خزانے میں چھوڑ دیا تاکہ چھ ارب روزانہ کی جو سود کی قسط دینی ہے وہ کسی طرح ادا ہو سکے جو تمھارے شریف مالکان چھوڑ گئے تھے 13ارب ڈالر قرضہ اتار کر گروی رکھی موٹر وے اور ائیرپورٹ واگذار کروائے ہیں ۔

عمران خان نے لیکن یہ بھی شائد اس کا جرم ہے کہ وہ تمہیں عزت سے جینا سکھا رہا ہے شائد تم اس قابل ہی نہیں ہو ابھی ابھی خبر آئی کہ جرمنی اور فرانس نے پاکستان کے لیے ’’ٹریول ایڈوائزری‘‘نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ابن کا خیال ہے اب پاکستان ایک محفوظ ملک ہے کیونکہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق مثبت پیش رفت کی ہے یہ اعلان فرانس اور جرمنی کے سفیروں نے کیا ہے ارے اب تو گھبرانا چھوڑ دو یہ اعزاز اب بھارت کو مل گیا ہے کہ بہت سے ممالک نے بھارت کو خطرناک ملک قرار دے دیا ہے ڈیڈھ سال پہلے تک یہ اعزاز تمھارے سابقہ مالک پاکستان کو دلوا کر گئے تھے اور تم ہو کہ کہتے ہو وہ کھاتے تھے تو لگاتے بھی تھے یعنی وہ جہنمی تمہیں اپنے ساتھ جہنم لے جانے کو ترقی کہتے تھے۔

سازشی ہتھکنڈوں سے لیس اور حکومتی رویے سے نالاں میڈیا ہائوسز کے مالکان نے مل کر عوام کے جذبات کا استعمال کیا (اس میں ضیائشاہد صاحب شامل نہیں )تاکہ حکومت کی ساکھ کو تگڑا ڈینٹ ڈالا جائے ساری سازش کیسے تیار ہوئی اور اس میں کون کون شامل ہے اور اس بات کو بھی مد نظر رکھیں سارا طوفان بد تمیزی ایکدم تب ہی کیوں اٹھتا ہے جب عمران خان نے کسی اہم غیر ملکی دورے پر جانا ہوتا ہے ہاں تو میں بات کر رہی تھی آٹا بھران کی سب سے پہلے پلان کے مطابق میڈیا پر آٹے کی قلت کی بریکنگ نیوز چلوائی گئی حالانکہ اس وقت حالات نارمل تھے مگر لوگوں نے گھبرا کر دکانوں کا رخ کیا تاکہ وہ اضافی آٹا خرید کر رکھ لیں اور قلت ہونے کی صورت میں ذخیرہ شدہ آٹا استعمال کر سکیں ۔

بحیثیت قوم ہماری یہ عادت ہے کہ ہم بحران میں ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور اس بات کا ہمارے سیاستدانوں اور میڈیا کو بخوبی اندازہ تھا اس لیے عوام کی اس کمزوری کو حکومت کے خلاف استعمال کیا گیا دکانوں پر عوام کی روٹین کی ضرورت کے مطابق آٹا موجود تھا لیکن جب میڈیا نیوز سن کر لوگ دکانوں کی طرف بھاگے اور جس کو ایک تھیلے کی ضرورت تھی اس نے بھی دو سے تین خرید لیے تو دکانداروں کے پاس موجود سٹاک ختم ہو گیا ۔

جیسے ہی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے رسد کا توازن بگڑا تو لوگوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں کیونکہ دکانداروں کے پاس عام حالات کی رسد موجود تھی اور جب قطاریں لگنا شروع ہوئیں تو میڈیا کے کیمرے وہاں پہنچ گئے جنھوں نے بریکنگ نیوز دینا شروع کر دیں کہ بازار میں آٹا ہی موجود نہیں جس سے لوگوں میں مزید افراتفری پھیل گئی ظاہر ہے یہ حکومت پہلی بطار آئی ہے ان کو ایسی منظم سازشیں کرنا ابھی نہیں آتیں اس کے باوجود پنجاب کے وزیر اعلی نے فوری ایکشن لیا اور چوبیس گھنٹے کے اندر آٹے کے تھیلوں سے بھرے ٹرک جگہ جگہ پہنچ گئے لیکن اس اثنا میں سازشی عناصر کام دکھا چکے تھے کے پی کے میں تو کچھ تاجر پکڑے بھی گئے ہیں اور ان کی دکانیں سیل کی گئی ہیں جو اپنا زخیرہ شدہ آٹا یا گندم پنجاب حکومت کے تھیلوں میں بھرتے پائے گئے تاکہ لوگوں کو بتا سکیں ہم نے زخیرہ نہیں کیا بلکہ اب پنجاب سے آئے ہیں ۔

زخیرہ اندوز تو ویسے بھی موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں انہوں نے فوری زخیرہ کرتے ہوئے قیمتیں بڑھا دیں اپوزیشن لیڈرز نے اسٹوڈیوز میں کرسیاں سنبھال لیں اور میڈیا جلتی پر تیل ڈالتا گیا بریکنگ نیوز ،ٹکر ،تجیے ،تنصرے ایک ماحول بن گیا تو حکومت کے بھی ہاتھ پائوں پھول طلب و رسد برابر تھی تو اچانک یہ بحران کیسے پیدا ہوا یہ چالاکیاں تو تیس چالیس سال حکومت کرنے والوں کو آتی ہیں سو جگہ جگہ آٹے کے ٹرک پہنچنے کے باوجود میڈیا پر آٹے کی قلت کا رونا جاری ہے اگلے ایشو تک یہ جاری رہے گا یاد رکھیے آٹے کا کوئی بحران تھا نہ ہے یہ مٹی اس لیے بھی اڑائی گئی کہ عمران خان نے ان تمام سیاستدانوں اور گریڈ سترہ سے اکیس تک کے افسروں کے نام پبلک کرنے کو کہا تھا جو بے نظیر انکم سکیم کا پیسہ لے کر کھاتے رہے سو ان پر یہ آٹے کی دھول جم گئی ۔

ہمارے نزدیک اس حکومت کا قصور ہی یہی ہے کہ یہ وقت پر سازشی تھیوریز کا ادراک نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے اندر بھی چور بیٹھے ہیں اور ان کی خواہش ہے پنجاب حکومت کسی بڑے تجربہ کار چور کے حوالے کر دی جائے تاکہ وہ بھی سیاست سے اپنا حصہ وصول کر سکیں کسی کو اس بات سے غرض نہیں کہ سینتیس ارب ڈالر قرضہ واپس کرنا ہے ابھی عمران خان نے اس پانچ سال کی ٹرم میں جس میں سے چودہ ارب ڈالر واپس کیا جا چکا ہے 7200ارب روپے اس مالی سال میں ملک چلانے کے لیے چاہیں اور 5500سو ارب کا ٹیکس حدف رکھا ہوا ہے تو چیخیں مریخ تک جا رہی ہیں ایک تو پہلے ہی خسارے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اوپر سے قرضے بھی واپس کرنے ہوتے ہیں ڈالر ہوا میں پیدا نہیں ہوتا کہیں نہ کہیں سے کما کر یا مانگ کر لانا پڑتا ہے ترکی اور ملائیشیا کی مثالیں دیتے ہو انہوں نے دس دس سال سختیاں اور تکلیفیں برداشت کی ہیں اور تم ڈیڈھ سال میں ایسے چیخ رہے ہو جیسے پہلے خزانے بھرے ہوئے تھے اور اب اس نے آکر خالی کر دیے ہیں بجلی مہنگی کا رونا تب رونا جب گیس چارجز کے نام پر ای پی پیز کو 422ارب روپے سالانہ مفت میں نہ دینے پڑیں یہ معاہدے عمران خان نے نہیں کیے تھے ۔

کسی ایک ملک کا نام بتا دو جہاں کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ زر مبادلہ کے زخائر سے بھی زیادہ ہو ؟ہمیں لاہور سے اسلام اباد موٹر وے اور اس کے ارد گرد کبھی نہ بننے والے سات اکنامک زونزکی کہانیاں سناتے رہے اور ہندوستان بنگلہ دیش کہاں سے کہاں نکل گئے ادھر ایئر پورٹس اور بلٹ ٹرینوں کے ساتھ اربوں کھربوں قربان قربان کر کے بے وقوف بنانے کا سلسلہ جاری رہا اور پاکستان کی آدھی انڈسٹری بنگلہ دیش شفٹ ہو گئی ،پہلے قرضے اوپر سے ان کا سود پھر اس سود کو ادا کرنے کے لیے مزید قرضے ،کیا یہ تھی نواز ،شہباز اور اسحاق ڈار کی ترقی اپنے اللہ کو حاضر ناضر جان کر کہو پاکستانیو اس میں سے کون سا قرضہ عمران خان نے لیا ؟کوئی تو پلان بتائو اس دلدل سے نکلنے کا ؟

خرچے بہت زیادہ ہیں اور آمدنی بہت کم ہے اس کو کسی بھی طرح بیلنس کرنے کی کوشش دن رات جاری ہے میکرو اکنامک سیکٹر کو ایڈریس کر دیا گیا ہے اور اب انشا اللہ اس کے مثبت اثرات جلد نظر آئیں گے
میرا تم سے سوال یہ ہے کہ عمران خان نے پندرہ مہینوں میں ملک کیسے تباہ کیا؟کیا عمران خان نے دبئی میں کوئی پلازہ بنایا ؟نہیں ،کیا خھان نے لندن میں کوئی جائیداد بنائی؟ نہیں ،کیا عمران حکومت کے اس ڈیڈھ سال میں ایکسپورٹس کم ہوئیں ؟ نہیں ،کیا عمران خان نے امپورٹس میں اضافہ کیا ؟ نہیں ،کیا اس نے محصولات کم وصول کیے ؟

نہیں ،کیا عمران خان نے اپنے گھوڑوں کو مربے کھلائے؟ نہیں ،کیا عمران کے نام ٹی ٹیز موصول ہوئیں ؟نہیں ،کیا عمران نے اپنے داماد کی کمپنی کو ٹھیکہ دیا؟ نہیں ،کیا عمران خان نے تیتنتیس ارب ڈالر قرضہ لیا ؟ نہیں ، کیا عمران نے کسی ایان علی کے ذریعے منی لانڈرنگ کرائی ؟نہیں ،کیا عمران نے پی آئی اے کے مقابل اپنی کوئی ائیر لائن بنائی ؟نہیں، کیا عمران نے پی آئی اے کے ساتھ سٹیل مل مفت دینے کی بات کی ؟ نہیں ، کیا عمران خان نے عرفان صدیقی کے لیے کوئی ایسی پوسٹ کریایٹ کی جس کا دنیا میں کہیں تصور بھی نہیں ہے ؟

نہیں ،کیا عمران خان اپنے دوروں میں نامور صحافیوں کا اور اپنے خاندان کا لشکر لے کر گئے جس سے قومی خزانے کو دھچکا لگا ہو؟ نہیں ،اگر ان میں سے کوئی بھی کام عمران خان نے نہیں کیا تو پھر اس نے ملک کیسے تباہ کیا خدارا مجھے اس سوال کا جواب دو اگر تم زندہ قوم ہو تو ورنہ اب گھبرانا چھوڑ دو عمران خان نے اس تباہ شدہ نظام کی سرجری شروع کر دی ہے حوصلہ رکھیں کرپٹ مافیا اپنا آخری پتہ کھیل رہا ہے کہیں تمھاری لالچ اور جلد بازی میں وہی مافیا اس ملک پر دوبارہ مسلط نہ ہو جائے۔