قصہ ایک شادی کی دعوت کا‎ - بشارت حمید

مجھے کسی شادی میں شرکت کی دعوت آئے۔ اول تو میں معذرت ہی کر لیتا ہوں اگر جانا پڑ ہی جائے تو کوشش کرتا ہوں کہ کچھ ہلکا پھلکا گھر سے ہی کھا کر جاوں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں پریشانی نہ اٹھانی پڑے ۔ پچھلے دنوں ایک شادی میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ میرے میزبان نے مارکی کے گیٹ پر مجھے رسیو کیا۔

تقریب نکاح سے فارغ ہوئے تو انہوں نے میرے کان میں بتا دیا کہ مارکی پر پولیس کا چھاپہ پڑا ہے اور کھانے کی کچھ دیگیں اٹھا کر لے گئے ہیں کچھ چھوڑ گئے ہیں لیکن یہ مارکی والوں کا دردسر ہے ہمیں تو انتظامیہ طے شدہ کھانا دے گی۔۔ خیر۔۔ کچھ ہی دیر بعد جب کھانے کے وقت بندے کھول دئیے گئے ۔

اوہ۔۔ معاف کیجئے گا۔۔ جب کھانا کھول دیا گیا۔۔ پھر تو بس ۔۔۔ توبہ ہی بھلی۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے لوگوں کو زندگی کا آخری کھانا ملا ہو۔ یا جیسے کئی دن بھوکا رکھ کر کھانے پر چھوڑا گیا ہو۔ کباب کی ڈش تو پلک جھپکتے ختم کر دی قوم نے۔۔ مزید آئی تو چمچ استعمال کرنے کی تکلف کی بجائے ہاتھوں سے ہی مٹھی بھر بھر کر پلیٹیں لاد لی گئیں۔ میں نے اس دھکم پیل میں گھسنے کی بجائے تھوڑاسا پلاو پلیٹ میں ڈال کر سائیڈ پر ہو جانا ہی بہتر سمجھا۔ تھوڑا سا قورمہ لینے کا بھی موقع مل گیا تو واپس ٹیبل پر آ بیٹھا۔

میرے سامنے ایک صاحب پلیٹ میں دس سے بارہ بڑی بوٹیاں رکھے نان کے ساتھ کھا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد آدھی پلیٹ چھوڑ کر بچے سے کہا اسے پرے رکھ آو۔ بندہ پچھے تسی کھانا برباد کرن لئی آئے او۔۔میرے میزبانوں نے میری خاطر مدارت میں کسر نہیں چھوڑی۔ جو کباب اور تمبورہ دھکم پیل کی وجہ سے چھوڑ آیا تھا انہوں نے خود پلیٹ بھر کر میرے لئے لا کر سامنے رکھ دی۔ میں نے ایک دو کباب لئے اور باقی سامنے والے صاحب کو گفٹ کر دیے کہ لو تسی وی موج مارو۔۔۔ شاید تہاڈا ای کچھ بن جاوے۔۔ پھر میٹھے کی باری آئی تو ادھر بھی یہی صورتحال۔۔ گاجر حلوہ آتے ہی قوم اس پر ٹوٹ پڑی اور اندھا دھند پلیٹیں بھرنے کا مقابلہ چلتا رہا۔۔

میں نے تو میٹھے کا ارادہ ترک کرکے سبز چائے پر اکتفا کرنا مناسب سمجھا کیونکہ ابھی اس طرف دو چار لوگوں کا دھیان ہی پڑا تھا۔ چائے پی کر بیٹھا تھا کہ میرے میزبان نے پھر کہیں سے گاجر حلوہ لا کر رکھ دیا۔۔ پھر میٹھا سامنے دیکھ کر کون چھوڑے ۔۔ چاروناچار کھا ہی لیا۔ کھانا حالانکہ وافر تھا اور بہت عمدہ بنا ہوا تھا لیکن انتہائی افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ ہماری قوم کھانے کی تہذیب سے بالکل عاری ہے۔ اس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے صدیوں کے بھوکے ہوں اور اس کھانے کے بعد پھر پتہ نہیں کب کھانے کو ملے گا۔ پلیٹیں بھر بھر کر پھر آدھا چھوڑ دینا۔

اس سے بہتر ہے کہ بندہ اتنا ہی لے جتنا کھا سکے اور پلیٹ صاف کرکے رکھے۔ پھر کھانا لیتے وقت اگر دوسرے کو اپنے آپ پر ترجیح دیں تو سب کو بڑے سکون سے کھانا مل جائے لیکن وہاں تو جیسے نفسا نفسی کا عالم ہوتا ہے اور ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ میں پہلے ضرورت سے بھی بڑھ کر لاد لوں باقی بھاڑ میں جائیں۔

صحیح کہا ہے کسی نے کہ شادی کی تقریب میں سب بہت ڈیسنٹ لگ رہے تھے کہ اچانک کھانا کھل گیا اور سب کی اصلیتیں ظاہر ہو گئیں۔ اللہ ہی ہماری اس بھوک کا کوئی مداوا کرے جس کی وجہ سے ہم کھانا دیکھ کر ساری تہذیب بھول جاتے ہیں