امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ،میں نے اسلام کو نہیں، اسلام نے مجھے چنا

امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ کا کہنا ہے کہ قرآن کی تلاوت کرنا ایک انتہائی خاص چیز ہے جس میں آپ ایک روحانی عمل کے ذریعے، خدا کے کلام کا استعمال کرتے ہوئے اپنے فنکارانہ خیالات کو پیش کر سکتے ہیں۔بی بی سی پشتو کو ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے اپنی تلاوت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنی آواز کو کسی طریقے سے بھی استعمال کر لینا ایک نعمت ہے۔

’یہ ایک انتہائی بے مثال چیز ہے کیونکہ آلاتِ موسقی کے برعکس یہ کوئی بیرونی چیز نہیں بلکہ آپ کے اندر سے آ رہی ہے۔‘جینیفر گراؤٹ نے سنہ 2013 میں معروف ٹی وی شو ’عربز گاٹ ٹیلنٹ‘ میں شرکت کی تھی۔ انھوں نے عربی زبان نہ جانتے ہوئے بھی عربی میں ایک گانا گایا جس کے بعد وہ عرب دنیا میں انتہائی مقبول ہوئی تھیں۔ اسی سال انھوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔ ان کا تعلق امریکہ سے ہے مگر انھوں چار سال تک افریقی مسلم ملک مراکش میں رہائش بھی رکھی۔

جینیفر گراؤٹ کے یوٹیوب چینل پر ہزاروں فالورز ہیں اور ان کی تلاوت کی ویڈیوز بہت مقبول ہیں۔ ان کی تلاوت والی ایک ویڈیو تین لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔’میں نے اسلام کو نہیں اسلام نے مجھے چنا‘
جینیفر گراؤٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام سے پہلے ان کا کسی مذہب کی جانب رجحان نہیں تھا۔ وہ کہتی ہیں ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں نے اسلام کو نہیں بلکہ اسلام نے مجھے چنا ہے۔‘

جینیفر نے بتایا کہ حال ہی میں انھوں نے قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک استاد کی خدمات حاصل کی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سے قبل وہ زیادہ تر تلاوت سن کر اس کی نقل کر رہی تھیں۔

’میری فیملی میں بہت سے موسیقار تھے۔ میں نے بچپن میں ہی پیانو سیکھا، اور موسیقی سیکھی اور گانا گانا سیکھا اور پھر میں نے یونیورسٹی میں بھی میوزک کی تعلیم حاصل کی۔ میری گریجوئیشن مغربی کلاسیکی میوزک جیسے کہ اوپرا میں ہے۔ بعد میں میں پھر ترہب موسیقی میں دلچسپی بڑھنے لگی جو کہ کلاسیکی عرب موسیقی ہے۔ اور ایسے میں اسلامک دنیا سے متعارف ہوئی۔‘

’کیونکہ عرب ثقافت اور جسے آپ شاید اسلامی ثقافت کہہ سکتے ہیں ان کے درمیان بہت سی کڑیاں جڑی ہوئی ہیں۔ میرے بہت سے مسلمانوں کے ساتھ دوستی ہوئی اور میری عربی کی پہلی استاد نے کہا کہ اگر میں ترہب موسیقی میں بہتر ہونا چاہتی ہوں تو مجھے قرآن کی تلاوت سننی چاہیے۔ تو ایسے سمجھیں میں الٹی چلی۔ زیادہ تر ترہب موسیقار پہلے قرآن سیکھتے ہیں اور پھر گائیکی میں جاتے ہیں۔ میں نے اس کا الٹا کیا۔‘

’ظاہری نہیں باطنی افزائش کی ضرورت ہے‘
بی بی سی پشتو کے ہمارے ساتھی پایندا سرگند نے جب ان سے ان کی مقبولیت کے حوالے سے پوچھا کہ آپ کے روحانی انداز کے بیانات بہت مقبول ہیں، تو ان کا کہنا تھا ’ہم اس وقت ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جو کہ ظاہری حالت پر ہی زور دیتا ہے۔ اس لیے بطور ایک انسان، بطور ایک مسلمان ہمارا کام ہے کہ باطن کی افزائش پر کام کریں۔ صرف خدا کو ہی معلوم ہے کہ ہم حقیقت میں کیسے ہیں اس لیے میں کسی اور کا ظاہری حال دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ وہ کیسا ہے۔‘

جینیفر کہتی ہیں ’ظاہر ہے قرآن کی تلاوت اور گائیکی مکمل طور پر ایک جیسا عمل نہیں مگر ان دونوں میں آپ اپنی آواز کو سریلے انداز میں استعمال کر رہے ہیں اور اس کے بہت سے طبی فائدے بھی ہیں۔ اور ترہب موسیقی جس سے میں نے آغاز کیا، وہ قرآن کی تلاوت سے نکلی ہے۔ تو اس لیے ان میں کچھ چیزیں مشترک ہیں۔ قرآن بہت خاص ہے کیونکہ یہ ایک ذریعہ ہے اپنے خیالات کو فنکارانہ انداز میں پیش کرنے کا، خدا کے الفاظ کے ساتھ، اس لیے یہ ساتھ ساتھ روحانی عمل بھی ہے۔‘