بسنت کی حقیقت (قسط نمبر ۱) محمد برھان الحق جلالی

ویلنٹائن ڈے اپریل فول کی طرح بسنت بھی غیر مسلموں کی رسم ہے یہاں پر اس حقیقت کا انکشاف ہوگا کہ ہندؤوں کی رسم ہے۔اس کا آغاز کیسے ہوا ؟ مسلمانوں میں کیسے شروع ہوئی ؟ اور علماء وفقہا اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟اور اس غیر اسلامی رسم کو منانے کے نقصانات کیا ہیں ؟

اس غیر اسلامی رسم کو پاکستان میں بڑے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔ہمارا الیکٹرانک میڈیا اس کو بڑی کوریج دیتا ہے۔اور ہمارے حکمران چہ جائیکہ اس خبیث رسم کو ختم کریں الٹااس کو سرکاری طور پر منانے کی تیاریاں کی جاتی ہیں بے پردگی بے حیائی عام ہوتی ہے۔ویلنٹائن ڈے کی طرح اس میں بھی عورتوں اور مردوں کا عام اختلاط ہوتا ہے۔

آئیے پہلے ہم اس حقیقت سے مطلع ہوتے ہیں کہ یہ کیسے شروع ہوئی ؟اور آخر یہ کس کی رسم ہے ؟

1۔ ادھر موسم بہار کا آغاز ہوتا ہے۔ادھر ہرطرف بو کاٹا کی صدائیں بلند ہو جاتی ہیں اسکے ساتھ ساتھ محبوبوں کا دن ویلنٹائن ڈے بھی بہار میں بھی منایا جاتا ہے۔ہر طرف بدتمیزی عام ہوتی ہے۔لوگ جوش وخروش سے اس کو منانے کیلئے ملک پاکستان سے بلکہ پوری دنیا سے لوگ پاکستان کے دل لاہور شہر میں جمع ہوتے ہیں۔ہوٹل بک کئیے جاتے ہیں مکانات کی چھتیں بک ہوتی ہیں۔رات کے وقت لائٹنگ اور ساؤنڈ سپیکر لگا کر اونچی آوازوں سے شرفاء کا جینا دو بھرکر دیتے ہیں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کو بہت زیادہ کوریج دیتا ہے دوسرے الفاظ میں بسنت منانے والوں کو زندہ دلانے لاہور کہا جاتا ہے۔

پہلے پہل اس رسم یعنی بسنت کا آغاز ہندوستان کے مشہور صوبوں اتر پردیس اور پنجاب میں ہوا۔ پھر یہ لاہورمیں گستاخِ رسول ہندو کوجہنم واصل کرنے کے بعد اس کی یاد میں ہندوں نے اس کو منایا میں مختصر طور پر اس کا واقعہ رقم کررھا ہوں۔حقیقت رائے نامی ہندو نوجوان باکھ مل پوری سیالکوٹ کے کھتری کا لڑکا تھا۔ ایک دفعہ اس طرح ہوا کہ اس کی لڑائی کچھ مسلمان نوجوانوں سے ہوئی اس ہندو نوجوان نے سرورِ کائنات باعث ِتخلیق کون ومکاں مختار کون و مکاں حضورنبی کریم ﷺ کی شان ا قدس کے اندر کچھ نازیبا گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھیں:   لوگوں نے پوچھا ہے (حصہ دوم) - مفتی منیب الرحمن

گالیاں نکالیں ساتھ ساتھ خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمۃالزہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی شان ِاقدس میں بکواسات کئے جس سے برصغیر کے سارے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوگئے۔اس کا (بادشاہ )گورنر زکریا خان مسلمان حکمران تھا بہرحال اس نے ہندو نوجوان کو اس کے جرم کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔عدالتی کاروائی کیلئے لاہور لایا گیا اس کے گرفتار کرنے سے پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی سوگ منانے لگی۔اس سے ان کو بڑا شدید دھچکا لگا لہٰذا پھرکچھ ہندو آفیسرز مل کر گورنر پنجاب کے ھاں گئے اور اس نوجوان کیلئے درخواست کی۔کہ اس کو معاف کردیا جائے۔

مگر گورنرپنجاب زکریا خان نے صحیح مسلمان ہونے کا حق اداکردیا۔ اور معاف نہ کیا۔بہرحال اس نوجوان کو کوڑے مارے گئے۔اور پھر تلوار سے گردن اْڑادی گئی۔پھر ہندوؤں نے اس کی یاد میں بسنت کا تہوار منانا شروع کر دیا۔اس نوجوان کی سمدھی لاہور میں ہے۔لاہور میں واقع بھاٹی گیٹ سے گاڑی جاتی ہے۔(پنجاب آخری مغل دورحکومت میں۔سکھ مؤرح، ڈاکٹر بی۔ایس نجار) یہی سکھ مؤرخ اپنی اسی کتاب کے صفحہ نمبر 279میں رقم طراز ہے۔کہ ''پنجاب کا بسنت میلہ حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے ''۔افسوس کہ ہم ایک گستاخِ رسول کی یاد مناتے ہیں۔

حدیثِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم :۔

تاجدارِمدینہ حضورنبی کریم صلی للہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ''مَن تَشبَہَ بِقَوم فَھْوَمِنہْم ''

(ابوداؤدشریف )

فرمایا کہ'' جوکوئی کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ انہیں میں سے ہے 'افسوس کہ ہم بسنت منا کر ایک گستاخِ رسول کی یاد مناتے ہیں۔اس حدیث کو مدِنظررکھ کر اپنا انجام خود ہی سوچنا ہوگا۔
جاری ہے