نظام اورعوام - چوہدری محمدالطاف شاہد

2018ء کے عام انتخابات میں بھی اسٹیبلشمنٹ نے'' معقول'' ،سیاسی طورپرمعتدل اورچاروں صوبوں کیلئے قابل قبول سیّدمصطفی کمال کوآزمانے کی بجائے'' مقبول'' مگر سیاسی طورپرانتہاپسنداورانتہائی اناڑی عمران خان کووزیراعظم بنانے کاناکام تجربہ کیا ۔پی ایس پی کوجس طرح ایوان میں رسائی سے روکاگیاوہ ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔

سیّدمصطفی کمال کومعمارکراچی کہاجاتا ہے ،اگرایک سازش کے تحت ان کاراستہ نہ روکاجاتاتویقینا آج پاکستان کی معیشت اس قدرابترحالت میں نہ ہوتی اورآٹا مہنگاہونے سے بازاروں میں سناٹا نہ ہوتا ۔الیکشن سے قبل نوجوانوں کوایک مخصوص طبقہ عمران خان کے حق کو ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے بڑے پرامید اور خوش تھا کہ سات دہائیوں سے ہم جس نجات دہندہ کا خواب دیکھ رہے تھے وہ آگیا ہے۔

اب ہماری ساری پریشانیاں اور دشواریاں صرف 100روز دور ہوجائیں گی اور ہم لوگ دنیا میں ایک غیرتمند اور خود دار قوم بن کر ابھریں گے ،کیا عرب اور کیا یورپی ممالک سبھی کے ہوائی اڈوں پر ہماری تضحیک ہونا بند ہوجائے گی اب کوئی ہمیں سکیورٹی کے نام پر رسوا نہیں کرسکے گا ۔ عرب ممالک میں ہمارے مزدور بھائیوں کے ساتھ اب غلامانہ سلوک ہونا ہمیشہ کیلئے بند ہوجائیگا۔

عوام کالوٹا ہوا پیسہ واپس ملک میں آجائے گا،ہر طرف کاروبار اور وسائل کی بہار ہوگی، مہنگائی ، کرپشن ، اور ناانصافی کانام ونشان تک نہیں ہوگا اور چونکہ ہر شخص بخوبی جانتا تھا کہ کپتان کی پشت پرطاقتور کا دست شفقت ہے تویقینی بات ہے کہ اب بھارت کو بھی منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور ملک میں بھی ہر طرف امن وامان کی فضا ہوگی۔یہ وہ خواب تھے جو پاکستانیوںنے قریب ڈیڑھ برس پہلے جاگتی آنکھوں سے دیکھے تھے اوراب جب آنکھ کھلی ہے تو حقیقت کے ڈرائونے بلیک کوبرا کے ڈرسے ہر کس و ناکس سہما بیٹھا ہے۔

اب جب کبھی میں "تبدیلی آئی ہے" کا نغمہ کسی بچے کے منہ سے سنتا ہوں( کہ بڑے تو اب اس نعرے سے توبہ کرچکے ہیں ) تو سوچتا ہوں کیا واقعی تبدیلی آئی ہے ؟ کیا تبدیلی کا خواب دکھانے والے سچے تھے ؟ آخر کس طرح کوئی عقلمند شخص ایسے وزیروں مشیروں کے ہوتے ہوئے کوئی کارنامہ سرانجام دے سکتا ہے ؟۔مہنگائی نے اعوام کا جینا دوبھر کردیاہے لوگ ضروریات زندگی پورا کرنے سے قاصر ہیں،عام آدمی کے نالے اب کوئی اہمیت نہیں رکھتے ، کس کس بات پہ روئیں اور کس کس کا ماتم کریں، مسائل اس قدر بڑھ چکے ہیں اب یہ بھی یاد نہیں رہتا کس ظلم پہ احتجاج کریں، ہر جھٹکے کے بعد آنے والے اگلے جھٹکے کا خوف طاری ہوجاتاہے۔

حالیہ آٹااورچینی بحران کے بعدجہاں عوام میں شدیدبے چینی ہے وہاں وفاقی اورپنجاب حکومت کے وزیروں کے مسخرے پن نے میرے جیسے اعتدال پسند شخص کوبھی یہ سوچنے پہ مجبور کردیا کہ بدحالی کو تبدیلی کانام دے کرعوا م کوبیوقوف بنایااوران کی محرومیوں کامذاق اڑایاجارہا ہے ۔ پرویزمشرف کوفوجی آمر کہا گیا یاایسا ڈکٹیٹر جس نے بلدیاتی اداروں کواختیارات اورفنڈز منتقل کئے، یہ بات اب کوئی ہوشمند پاکستانی سننے کیلئے تیار نہیں ۔مشرف دور حکومت آج کی حکومت سے ہزادرجے بہتر تھا ،ڈالرکنٹرول میں تھا، ہر چیز حکومت کی دسترس میں تھی کاروبار کے مواقع پیدا ہورہے تھے ، مہنگائی قابو میں تھی، پٹرول،گیس، بجلی ،پانی کی قیمتیں آسمان پہ نہیں اڑ رہی تھیں ، مایوسی کم ہورہی تھی لوگ خوشحال ہورہے تھے۔

آج سوائے ایک مخصوص ٹولے کے ہر شخص پریشان ہے، عوام تبدیلی سرکار سے متنفراوربیزار ہیں۔ لوگ اگر شاہراہوں پہ نہیں نکل رہے تو اس کی وجہ صرف اپوزیشن پارٹیوں کی خاموشی اور اپنے اداروں کا احترام ہے کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ خان اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا ہے ، حقیقت تو یہ ہے کہ پی ایس پی کی قیادت کے سوا نام نہاد اپوزیشن عوام کو اس نااہل حکومت کے رحم وکرم پہ چھوڑ چکی ہے اور اگلے دو ڈھائی سال مزید یہ خاموشی ٹوٹتی نظر نہیں آتی۔

میرے جیسے ایک عام آدمی کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ ملک کی باگ ڈورکسی وردی پوش سرفروش کے ہاتھوں میں ہو یاشیروانی میں ملبوس نادان 22کروڑپاکستانیوں پر راج کرے، یہ سارے چونچلے حرام کے مال سے بھری توندوں کی کارستانیاں ہیں۔ایک عام آدمی صرف روزگار ، وسائل اور مالی پریشانیوں سے چھٹکارا چاہتا ہے ، اس کیلئے بنیادی ضروریات زندگی اور بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت ہی سب سے اہم معاملہ ہے۔آج بھی کپتان کے مٹھی بھر حامی ان کی نام نہاد نیک نیتی کی دہائی د ے رہے ہیں۔

لیکن پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدارسمیت وفاق اورپنجاب کی کابینہ کیلئے ان کاحسن انتخاب دیکھتے ہوئے اپنے وطن اورہم وطنوں پررحم اورترس آتا ہے۔حکمران ٹولے میں شریک لوگ نا صرف بیچارے عوام کو زخم دیتے ہیں بلکہ اپنے کڑوے لہجے سے ان پرنمک پاشی بھی کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے کپتان کی مصنوعی شخصیت آشکارہو چکی ہے اب اگر وہ کچھ کرنا بھی چاہیں تو ان کے'' اے ٹی ایم کارڈز'' انہیں کچھ کرنے نہیںدینگے کیونکہ زیادہ ترفلورملزاورشوگزملزمالکان کیلئے پی ٹی آئی کسی پناہ گاہ کی مانند ہے۔

اگرکپتان سنجیدہ ہوتے تواپنے نااہل وزیروں اورناسمجھ مشیروں سے جان چھڑا تے مگرموصوف الٹااپنے'' پانچ پیاروں'' کادفاع کررہے ہیں۔پاکستان اورپاکستانیوں کوسیّد مصطفی کمال جیسی تجربہ کار ،پرجوش اورپرعزم قیادت کی ضرورت ہے۔

اگر سیّد مصطفی کمال اپنے عزم واستقلال سے شہرقائدؒ کی روشنیاں بحال کرسکتے ہیں تویقینا وہ اقتدارمیں آنے کے بعد پاکستان کی کایا پلٹ دیں گے۔سیّدمصطفی کمال ان دنوں چاروں صوبوں کے دوروں پرہیں ،لاہورسے لاڑکانہ تک ہرموڑاورہر مقام پرانہیں جوعقیدت واحترام دیا گیا وہ خوش آئندہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */