اردو زبان مسلمانوں‌ میں‌ اختلافات اور دوریوں‌ کی وجہ؟

بھارتی ریاست تامل ناڈو کا شہر چنائے کبھی مدراس کے نام سے جانا جاتا تھا۔یہاں کی زبان تامل یا تمل ہے جو یوں‌ تو سبھی بولتے اور سمجھتے ہیں، مگر چند مقامی زبانیں‌ یا بولیاں بھی لوگوں میں رابطے کا ذریعہ ہیں۔ تامل ناڈو ریاست کے مختلف شہر اپنی مخصوص ثقافت کی وجہ سے الگ پہچان رکھتے ہیں۔

مدراس یعنی چنائے کی بات کی جائے تو یہ شہر ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ہندوؤں کے ساتھ ساتھ یہاں کی بیش تَر مسلم آبادی بھی مقامی ثقافت میں رنگی ہوئی ہے اور ایک لحاظ سے متنوع ہے۔ تاہم زبان کے فرق نے چنائے کے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔

مسلمانوں کا ایک گروہ وہ ہے جو اردو کو مادری زبان مانتا ہے اور ان کے لیے یہ زبان تہذیبی اور مذہبی شناخت کا اہم ذریعہ ہے جب کہ ریاست کے اندرونی اور ساحلی علاقوں کے مسلمان خاندانوں کا اردو سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تامل بولتے اور ہر معاملے میں اسی زبان اور مقامی بولیوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسئلہ زبان نہیں ہے بلکہ وہ ثقافت ہے جسے وہ اس خطے کی اساس اور پہچان سمجھتے ہیں۔

تامل ناڈو میں بہت تجزیہ نگار اور دانش وَر بھی اردو بولنے والوں پر تنقید کرتے ہیں اور انھیں سیاسی یتیم کہا جاتا ہے ۔ ان کی نظر میں اردو کو اپنی مذہبی شناخت اور ثقافت کے لیے ناگزیر سمجھنا ایک پسماندہ سوچ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تامل ناڈو اور چنائے جیسے بڑے شہر میں اردو بولنے والے مسلمان تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ان کی معاشی حالت بھی اچھی نہیں اور ان میں سے بیش تَر تجارت اور معمولی کاروبار کرتے ہیں۔ یہ اپنے مذہب اور اردو زبان کی بنیاد پر اپنے رہن سہن اور ثقافت کا تعین کرتے ہیں۔

دوسری جانب تامل بولنے والے مسلمانوں اور اردو بولنے والے مسلمانوں کے درمیان عام معاملات میں کھنچاو اور ایک قسم کی دوری نظر آتی ہے اور بعض علاقوں میں تو ان کے سماجی روابط برائے نام ہیں۔

اردو اور تامل بولنے اور مخصوص ثقافت کے حامی ان مسلمان خاندانوں میں سماجی خلیج نے انھیں آپس میں شادی بیاہ کرنے سے بھی دور رکھا ہوا ہے۔ یہ آپس میں‌ کسی قسم کے مراسم اور تعلقات استوار نہیں‌ کرنا چاہتے بلکہ تامل زبان بولنے والے جانتے ہیں کہ اردو بولنے والے مسلمان انھیں اچھا اور مکمل مسلمان ہی نہیں مانتے اور یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے۔