میتھی: پھیپھڑوں کی سوزش اور خون کی کمی دور کرتی ہے

برصغیر میں خوش بُو دار اور خوش ذائقہ پکوان کے لیے میتھی کا استعمال عام ہے۔عربی میں میتھی کو حلبہ کہتے ہیں جو معدنی نمکیات، فولاد، کیلشیم اور فاسفورس سے بھرپور ترکاری ہے۔ میتھی کی افادیت سے متعلق متعدد احادیث اور روایات بھی بیان کی جاتی ہیں جن کے مطابق یہ ترکاری مختلف امراض‌ میں‌ نافع اور علاج معالجے میں مؤثر ہے۔

تازہ میتھی کی خوش بُو تیز نہیں ہوتی، لیکن پھول آنے کے بعد جب اس کے پتّوں کو دھوپ میں سکھایا جاتا ہے تو یہ بہت خوش بُو دیتی ہے۔طبی ماہرین نے میتھی کے جوشاندے کو حلق کی سوزش، وَرم اور سانس کی تکلیف میں نافع بتایا ہے۔ یہ کھانسی کی شدت کو بھی کم کرتی ہے۔

میتھی کو پھیپھڑوں کی سوزش، ہڈیوں کی کم زوری دور کرنے، خون کی کمی اور جوڑوں کے درد میں بھی ماہر طبیب استعمال کرواتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ اعصابی تھکاوٹ دُور کرنے میں مؤثر ہے۔ اسے مختلف صورتوں میں امراض سے نجات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ میتھی کا پانی، بیج یا دانوں کا سفوف اور پتے بھی علاج کے لیے مخصوص طریقے سے استعمال ہوتے ہیں۔

میتھی کا ساگ ہمارے یہاں بہت مشہور ہے جو کمر درد، گٹھیا، رعشے، لقوہ اور فالج جیسے امراض میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

میتھی کا استعمال چہرے اور بالوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس کے بیجوں کو رگڑ کر ہفتے میں دو تین بار سَر دھویا جائے تو بالوں کی لمبائی بڑھتی ہے جب کہ کیل مہاسوں کے علاج کے لیے میتھی کے بیجوں کو پیس کر مخصوص مقدار میں گلیسرین میں ملا کر سوتے وقت چہرے پر لگانے سے نجات مل جاتی ہے۔ طب و حکمت سے متعلق مختلف کتب میں لکھا ہے کہ میتھی بالوں کو چمک دار بناتی ہے اور انھیں‌ گرنے سے روکتی ہے۔